افغان قیادت کی پاکستان کے خلاف روایتی الزام تراشی

امریکی پالیسی سازوں کی خواہش ہے کہ وہ افغانستان کے معاملے میں بھارت اور ایران کو بھی کردار سونپیں


Editorial July 11, 2016
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا وقت کی ضرورت یہ ہے کہ دونوں برادر ملک ایک دوسرے کے ساتھ خلوص نیت سے تعاون کریں۔ فوٹو: فائل

پولینڈ کے دارالحکومت وارسا میں جمعہ کے دن منعقد ہونے والے نیٹو کے سربراہ اجلاس میں افغان صدر اشرف غنی اور سی ای او ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ نے اپنے ملک افغانستان کی بدامنی کے الزامات پر پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی شروع کر دی اور اپنی نااہلی اور نالائقی کو اپنے سب سے زیادہ ہمدرد برادر پڑوسی ملک کے سر منڈھنے کی کوشش کی۔ پاکستان کے دفتر خارجہ کی طرف سے گزشتہ روز افغان قیادت کی ہرزہ سرائی کا مسکت جواب جاری کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پاکستان افغانستان کے امن و استحکام کے لیے اپنی مساعی جاری رکھے گا جس کے لیے کابل کے حکمرانوں کو بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے۔

دفتر خارجہ کے بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ پاکستان کی افغانستان میں قیام امن اور استحکام کی خواہش پرخلوص ہے جب کہ افغان صدر اشرف غنی نے وارسا کانفرنس میں پاکستان پر اچھے اور برے طالبان میں تفریق کرنے کا جو الزام عاید کیا ہے وہ بعید از حقیقت ہے۔ پاکستان نے افغانستان میں قیام امن کے لیے جو چار فریقی مصالحتی مشن شروع کرایا تھا اس کے مثبت نتائج سامنے آنے شروع ہو گئے ہیں۔ صدر اشرف غنی نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ ''رُول آف گیم'' وضع کرنے میں ہماری مدد کریں جب کہ پاکستان اپنے تمام پڑوسیوں کے ساتھ استحکام اور سلامتی کے ساتھ قیام امن کا متمنی ہے۔

دفتر خارجہ کے بیان میں اس بات پر افسوس ظاہر کیا گیا ہے کہ افغان لیڈروں کی طرف سے مسلسل پاکستان کے خلاف دشمنی پر مبنی الزامات عائد کیے جا رہے ہیں اور وہ اپنی ناکامیوں کا الزام بھی پاکستان کے سر منڈھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ واضح رہے کہ اسلام آباد اور کابل کے تعلقات گزشتہ ڈیڑھ عشرے سے کشیدگی کا شکار ہیں کیونکہ انسداد دہشت گردی کی حکمت عملی کے حوالے سے دونوں ملکوں کے نکتہ نظر میں فرق ہے۔ صدر اشرف غنی کے برسراقتدار آنے کے بعد دونوں طرف سے تعلقات کو بہتر بنانے کی سنجیدگی سے کوشش کی گئی مگر یہ سنجیدگی زیادہ عرصہ تک قائم نہ رہی۔ پاکستان نے کوہ مری میں ہونے والے مذاکرات میں طالبان کو افغان حکومت کے ساتھ بٹھانے کی کامیاب کوشش کی مگر طالبان کے سربراہ ملا عمر کی ہلاکت کی خبر نے مذاکرات کو سبوتاژ کر دیا اور افغانستان میں تشدد کی کارروائیوں میں اضافہ کر دیا۔

اس کے بعد گزشتہ برس دسمبر میں چار فریقی مصالحتی کوششوں کا آغاز کیا گیا لیکن طالبان کی طرف سے مذاکرات کی میز پر بیٹھنے سے انکار کے باعث یہ مشن بھی کامیابی سے ہمکنار نہ ہو سکا۔ اور اب ملا منصور اختر کے امریکی ڈرون حملے میں مارے جانے کے بعد قیام امن کے امکانات اور زیادہ پیچیدہ ہو گئے ہیں۔ پاکستان افغان سرحد پر آمدورفت کو منظم کرنے کی خاطر وہاں گیٹ تعمیر کرانا چاہتا ہے مگر دوسری جانب سے اس مقصد میں بھی مداخلت کی جا رہی ہے۔ پاکستانی دفتر خارجہ نے افغان حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ خوامخواہ کی الزام تراشیوں کا سلسلہ ترک کر دے کیونکہ اس طرح کشیدگی کو ہوا ملتی ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا وقت کی ضرورت یہ ہے کہ دونوں برادر ملک ایک دوسرے کے ساتھ خلوص نیت سے تعاون کریں۔

اس کے ساتھ ہی وزیراعظم کے امور خارجہ کے مشیر سرتاج عزیز نے بھی کہا ہے کہ دہشت گردی کو صرف باہمی تعاون کے ذریعے ہی شکست دی جا سکتی ہے۔ افغان صدر اشرف غنی کا کہنا ہے کہ تنازعہ بہت پیچیدہ ہے اور اس کے بہت سے پہلو ہیں کیونکہ القاعدہ اور داعش بھی اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔بہرحال افغان قیادت کو افغانستان میں قیام امن کے لیے اپنے حصے کا کردار ادا کرتے ہوئے اپنی ناکامیوں کو کھلے دل سے تسلیم کرنا چاہیے' اس طریقے سے ہی افغانستان میں قیام امن کا کوئی راستہ نکل سکتا ہے۔بلاشبہ افغانستان کی صورت حال خاصی پیچیدہ ہو چکی ہے ' نیٹو کے اجلاس میں افغانستان کی دونوں مقتدر شخصیات کا موجود ہونا ظاہر کرتا ہے کہ اس خطے میں امریکا ہی نہیں بلکہ نیٹو ممالک کے بھی مفادات موجود ہیں۔ پاکستان کو اس بدلتے ہوئے منظرنامے پر گہری نظررکھنی چاہیے۔

امریکی پالیسی سازوں کی خواہش ہے کہ وہ افغانستان کے معاملے میں بھارت اور ایران کو بھی کردار سونپیں۔ ان اقدامات کا مقصد اس خطے میں پاکستان کے کردار کو محدود کرنا ہے۔ افغان قیادت چونکہ ڈلیور نہیں کر پا رہی اس لیے وہ بھی عالمی طاقتوں کے سامنے غلط حقائق کو سچ بنا کر پیش کر رہی ہے۔ یہ صورت حال خاصی پریشان کن ہے۔ پاکستان کی حکومت کو اس حوالے سے جوابی مگر جارحانہ پالیسی تشکیل دینی چاہیے۔