دفاعی اداروں کیخلاف پروپیگنڈا روکا جائے گا مشاہد حسین

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کے طویل ان کیمرااجلاس وبریفنگ میں اہم رہنماؤں کی شرکت۔


Numainda Express November 28, 2012
جیواسٹریٹیجک معاملات کا جائزہ،افواج کی ہم آہنگی کوسراہا گیا،فضائیہ کی استعداد بڑھائی جائیگی. فوٹو: فائل

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کااجلاس منگل کوقائمہ کمیٹی کے چیئر مین مشاہد حسین سیدکی زیرصدارت ایئرہیڈکوارٹر میں ہواجس میں پاکستان ایئرفورس کی مجموعی کارکردگی اورپیشہ ورانہ مہارت پرتفصیلی غورکیاگیا۔

قائمہ کمیٹی کے چیئرمین سینیٹرمشاہدحسین سیدنے پاکستان ایئرفورس کی پیشہ ورانہ مہارت کوسراہتے ہوئے کہاکہ پی اے ایف نے ہربحران میںپاک فضائیہ نے ہمیشہ اعلیٰ کارکردگی کامظاہرہ کیاہے جس کی آج بھی دنیا مثال دیتی ہے۔قائمہ کمیٹی نے تینوں فورسزکے درمیان بہتر ہم آہنگی کوسراہتے ہوئے کہاکہ موجودہ عالمی وعلاقائی تناظر میں پاکستان ایئرفورس،نیوی اوربری افواج کاکردارانتہائی اہم ہے اوراپنے جیواسٹریٹیجک مفادات اور اندرونی وبیرونی خطرات کا مقابلہ مل کرہی کیاجاسکتاہے۔قائمہ کمیٹی نے بلوچستان سے ایئرفورس میںآفیسرزاورنچلے گریڈز میں بھرتی کیلیے کیے گئے خصوصی اقدامات کوبھی سراہااورکہاکہ بلوچ عوام کوخصوصی مراعات کے ذریعے ایئرفورس میں شامل کرنا اس بات کا عکاس ہے کہ حکومت کے تمام ادارے بشمول مسلح افواج،بلوچ عوام کی محرومیوں کاازالہ کرنے میں سنجیدگی سے کو شاں ہیں۔

قائمہ کمیٹی کے چیئرمین نے فضائیہ کی موجودہ استعداد بڑھانے کیلیے کمیٹی کی طر ف سے مکمل یقین دہانی کرائی۔ ممبران نے کہاکہ کمیٹی دفاعی اداروںاورپارلیمنٹ کے مابین ایک پل کاکرداراداکریگی اوردفاعی اداروںکے خلاف منفی پروپیگنڈاروکنے کے لیے بھی بھر پور کوششیں کریگی۔ سینیٹر مشاہد حسین سیدنے دفاعی اداروںمیں خواتین کے کردارکوبھی سراہا۔تین گھنٹے سے زائدجاری رہنے والے اس ان کیمرا اجلاس اوربریفنگ میں ڈپٹی چیئر مین سینیٹ صابر علی بلوچ کے علاوہ سینیٹرز سردار علی خان،مسزسحرکامران، کرنل (ر) سید طاہرحسین مشہدی،حاجی محمدعدیل اور مولانا محمد خان شیرانی نے شرکت کی۔اس موقع پرسینیٹ کے اسپیشل سیکریٹری امجد پرویز ملک بھی موجود تھے۔