سی این جی کی غیر اعلانیہ ہڑتال پیٹرول کی فروخت میں اضافہ

مختلف علاقوں میں سی این جی اسٹیشنز پر لگی گاڑیوں کی طویل قطاریں اردگرد کے علاقے میں ٹریفک جام کا بھی باعث بن رہی ہیں


Business Reporter November 30, 2012
پٹرول پر چلنے والی کاروں کے استعمال کو بھی ترجیح دی جارہی ہے جس کی وجہ سے شہر میں پٹرول کی مجموعی کھپت میں نمایاں اضافہ ہوگیا ہے. فوٹو: فائل

سی این جی اسٹیشنز مالکان کی غیراعلانیہ ہڑتال کے سبب پٹرول کی کھپت میں نمایاں اضافہ ہوگیا ہے۔

صارفین نے سی این جی کی قلت کے پیش نظر کار اور دیگر فور ویل گاڑیوں کا سفر ترک کرکے موٹرسائیکلوں کی سواری شروع کردی جبکہ پٹرول پر چلنے والی کاروں کے استعمال کو بھی ترجیح دی جارہی ہے جس کی وجہ سے شہر میں پٹرول کی مجموعی کھپت میں نمایاں اضافہ ہوگیا ہے، دوسری جانب سی این جی کے ساتھ پٹرول اورڈیزل فروخت کرنے والے پمپس کو بھی سی این جی گاڑیوں کی طویل قطاروں کے سبب دہری پریشانی کا سامنا ہے ،سی این جی پر چلنے والی نجی گاڑیوں اور پبلک ٹرانسپورٹ کی بھرمار سے اسٹیشنز کی آمدورفت کے راستے مسدود ہوگئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق سی این جی اسٹیشن مالکان نے اوگرا کی جانب سے نئے فارمولے کے تحت قیمت میں اضافے کا ناکافی قرار دیتے ہوئے غیر اعلانیہ ہڑتال جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، شہر بھر میں بڑی تعداد میں سی این جی اسٹیشنز پر فروخت تاحال بند ہے جبکہ محدود تعداد میں گیس فروخت کرنے والے اسٹیشنز پر گاڑیوں کی طویل قطاروں کے سبب پٹرول اور ڈیزل سے چلنے والی گاڑیوں کے لیے بھی ایندھن کا حصول دشوار ہوگیا ہے، شہر کے مختلف علاقوں میں سی این جی اسٹیشنز پر لگی گاڑیوں کی طویل قطاریں اردگرد کے علاقے میں ٹریفک جام کا بھی سبب بن رہی ہیں۔

سی این جی فروخت کرنے والے اسٹیشن مالکان کے مطابق گاڑیوں کی طویل قطاروں اور مسلسل فلنگ کے سبب کمپریسرز کو شدید دبائو کا سامنا ہے، اسٹیشن مالکان کے مطابق ایک جانب سی این جی نہ ہونے کے سبب پٹرول کی کھپت بڑھ گئی ہے، دوسری جانب طویل قطاریں لگی ہونے اور امن و امان کی صورتحال پیدا ہونے کی وجہ سے اسٹیشن مالکان پٹرول کے ٹینکرز کے ذریعے نیا اسٹاک بھرانے سے بھیاجتناب کررہے ہیں۔

بیشتر اسٹیشنز پر پٹرول لے کر آنے والے بڑے ٹینکرز کی جگہ نہیں ہے اور ٹینکرز کی آمد کے موقع پر ناخوشگوار واقعہ بڑی تباہی کا سبب بن سکتا ہے، ادھر آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی نے قیمت کا نیا فارمولا کابینہ ڈویژن کو ارسال کردیا ہے جس میں ریجن ون میں قیمت 61.64روپے سے بڑھا کر 70.20روپے کلو اور ریجن ٹو میں فی کلو قیمت 54.16روپے سے بڑھا کر 63.66روپے فی کلو مقرر کرنے کی سفارش کی گئی ہے تاہم سی این جی اسٹیشن مالکان تمام آپرٹینگ اخراجات کو شامل کرکے 30فیصد ریٹرن کا مطالبہ کررہے ہیں۔