اسحاق ڈارکی وعدہ معاف گواہی غیرقانونی ہےوکیل شریف فیملی

نوازشریف کے حدیبیہ پیپرملز میں معمولی شیئرہیں، ان کیخلاف کیس نہیں بنتا، دلائل مکمل


Numainda Express November 30, 2012
نوازشریف کے حدیبیہ پیپرملز میں معمولی شیئرہیں، ان کیخلاف کیس نہیں بنتا، دلائل مکمل

ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ کے جسٹس خواجہ امتیاز احمد اورجسٹس محمد فرخ عرفان پر مشتمل ڈویژن بینچ نے سابق وزیر اعظم نواز شریف،وزیر اعلیٰ شہباز شریف اوران کی فیملی کے دیگرافرادکیخلاف اربوں روپے کی کرپشن کے3ریفرنس حدیبیہ پیپرز ملز،اتفاق فاؤنڈری اور رائے ونڈ محل خارج کرکے انھیں بری کرنے کی 3پٹیشنوں کی سماعت کی۔

شریف فیملی کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل مکمل کرلیے، مزید سماعت پیر3دسمبر تک ملتوی کر دی گئی،آئندہ تاریخ پر نیب کے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل چوہدری ریاض دلائل کا آغازکریںگے۔گزشتہ روز خواجہ حارث نے مؤقف اختیارکیا کہ نواز شریف کا حدیبیہ پیپر ملز سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں نہ یہ اس کے ڈائریکٹر نہ مالک ہیں، ان کا انتہائی معمولی شئیر ہے،انھوں نے کوئی جرم نہیں کیا نہ کسی جرم سے تعلق ہے،ان کیخلاف کیس ہی نہیں بنتا۔

سابق وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے وعدہ معاف گواہ بننے کا جو بیان دیا وہ غیر قانونی ہے، نیب قانون کے مطابق وعدہ معاف گواہ کا بیان چیئرمین نیب نے ریکارڈکرنا تھا مگر اسے مجسٹریٹ نے ریکارڈکیا ،یہ بیان ان کیخلاف استعمال ہی نہیںکیاجاسکتا، اس بیان کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے،تفتیشی آفیسر نے ان سے تفتیش تک نہیںکی پھریہ ملزم کیسے بن سکتے ہیں؟انھوں نے کہا ہم اس ریفرنس کے حقائق کو نہیںچھیڑ رہے نہ اس طرف جاتے ہیں بلکہ ہمارا موقف صرف قانونی پہلوؤں تک ہے۔