کالا باغ ڈیم پرلاہور ہائیکورٹ کا حکم

5 ہزار کیوسک پانی مسلسل سمندر کی نذر ہو رہا ہے جو تقریبا 3 ملین (تیس لاکھ) ایکڑ فٹ بنتا ہے۔


Editorial November 30, 2012
کالا باغ ڈیم کا منصوبہ ہے جو برسوں سے متنازعہ چلا آ رہا ہے کیونکہ پنجاب کے سوا دوسرے صوبے اس ڈیم کے حق میں نہیں ہیں. فوٹو: فائل

وطن عزیز میں نئے اور بڑے آبی ذخائر بنانے کا معاملہ ایک طویل مدت سے التوا کا شکار چلا آرہا ہے، پاکستان میں منگلا ڈیم اور تربیلا ڈیم کے بعد کوئی بھی ایسا بڑا منصوبہ شروع نہیں ہو سکا جس سے سستی ہائیڈل انرجی پیدا ہو سکے اور آبپاشی کے لیے پانی مل سکے۔ اس کوتاہی یا غفلت کے نتیجے میں ملک توانائی کے شدید بحران میں مبتلا ہو چکا ہے اور یہ ایسا بحران ہے جس کا اثر زندگی کے ہر شعبے پر مرتب ہو تا ہے۔ مملکت خدا داد کی فیکٹریاں بند ہو رہی ہیں' سرمایہ بیرون ملک منتقل ہو رہا ہے اور بیروزگاری ایک سیلاب کی مانند امڈ رہی ہے۔ بھاشا ڈیم کے بارے میں یہ کہا جا رہا ہے کہ اس پر کام شروع ہے، تاہم اسے تعمیر ہونے اور آپریشنل ہونے میں طویل مدت درکار ہے۔

اس کے علاوہ کالا باغ ڈیم کا منصوبہ ہے جو برسوں سے متنازعہ چلا آ رہا ہے کیونکہ پنجاب کے سوا دوسرے صوبے اس ڈیم کے حق میں نہیں ہیں۔ صوبوں کے درمیان اتفاق رائے نہ ہونے کی بنا پر موجودہ حکومت نے اقتدار سنبھالنے کے بعد اس منصوبے کو ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس معاملے میں نیا موڑ اس وقت آیا جب جمعرات کو لاہور ہائیکورٹ نے مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) کی سفارشات کی روشنی میں کالا باغ ڈیم کی تعمیر کا حکم دیتے ہوئے وفاقی حکومت کو ہدایت کی ہے کہ اس کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں۔ عدالت عالیہ نے قرار دیا ہے کہ سی سی آئی کی سفارشات پر عمل نہ کرنے سے آئین کے آرٹیکل9 اور 25 کی خلاف ورزی ہوئی ہے کیونکہ سی سی آئی ایک آئینی ادارہ ہے جو آئین کے آرٹیکل 154کے تحت کام کرتا ہے اور اس کی بنائی گئی پالیسیوں پر عملدرآمد ضروری ہے، 1991ء اور پھر 1998ء میں کونسل نے کالا باغ ڈیم سمیت متعدد نئے ڈیموں کی تعمیر کی پالیسی وضع کی تھی۔

چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس عمر عطا بندیال نے اپنے فیصلے میں حکم دیا ہے کہ کالا باغ ڈیم کے حوالے سے سی سی آئی کے فیصلوں پر عمل درآمد کیا اور تمام سیاسی اور غیر سیاسی اسٹیک ہولڈرز کے خدشات دور کرنے کے لیے جلد انتظامی فریم ورک تشکیل دیا جائے۔ وفاقی حکومت کی ذمے داری ہے کہ آئین کے آرٹیکل 154 کے مطابق مشترکہ مفادات کونسل کے کالا باغ ڈیم سے متعلق فیصلوں پر عمل کرے، اگر اس حوالے سے کسی مزید رہنمائی کی ضرورت ہو تو کونسل سے رجوع کیا جائے۔ عدالت عالیہ نے قرار دیا کہ کالا باغ ڈیم کے معاملے پر کونسل نے 1991ء اور 1998ء میں دو اجلاس منعقد کیے لیکن وفاق کی طر ف سے انھیں نظر انداز کر دیا گیا۔

کالا با غ ڈیم کی تعمیر کے حوالے سے 2004ء میں ماہرین کی ایک ٹیم نے ٹیکنیکل اسٹڈی کی تھی اور اس ڈیم کی فزیبلٹی بھی بنائی گئی تھی۔ آئین کے مطابق مشترکہ مفادات کونسل کو پانی اور انرجی کے حوالے سے پالیسیاں بنانے کا اختیار ہے، کونسل کے فیصلے کو بڑی اہمیت حاصل ہے تاہم پارلیمنٹ آئین کے آرٹیکل 154(7) کی روشنی میں اس کے فیصلے کو تبدیل کر سکتی ہے۔ عدالت نے وفاقی حکومت کو ہدایت کی ہے کہ آئین پر عمل درآمد کے ذریعے انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائے۔ عدالت نے کہا کہ کئی دہائیوں سے تیار ہونے والی فزیبلٹی اور لاگت عوامی پیسہ ہے، کالا باغ ڈیم کی تعمیر میں تاخیر سیاسی بنیادوں پر کی گئی حالانکہ سیاسی مسائل کو قومی مفادات پر حاوی نہیں ہونے دیا جانا چاہیے۔ فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ یہ کوئی نیا حکمنامہ نہیں، مشترکہ مفادات کونسل کالا باغ ڈیم کی تعمیر کا پہلے ہی فیصلہ کر چکی ہے، یہ عدالت صرف اس پر عمل درآمد کرنے کی ہدایت دے رہی ہے۔

عدالت نے یہ بھی قرار دیا ہے کہ وفاقی حکومت مشترکہ مفادات کونسل کی سفارش پر کالا باغ ڈیم کی تعمیر کی پابند ہے۔ عدالت کو یہ بھی بتایا گیا کہ جن علاقوں میں پانی کی سطح مسلسل گر رہی ہے وہاں صرف اسی منصوبے کے ذریعے پانی فراہم کیا جا سکتا ہے، 5 ہزار کیوسک پانی مسلسل سمندر کی نذر ہو رہا ہے جو تقریبا 3 ملین (تیس لاکھ) ایکڑ فٹ بنتا ہے اور اس طرح سالانہ 7 بلین (ارب) پانی کا نقصان ہو رہا ہے۔ عدالت میں بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلوں کو بطور نظیر پیش کیا گیا۔ بھارتی ریاستوں تامل ناڈو اور کیرالہ کے درمیان پانی کے تنازع پر عدالت نے ایک کمیٹی بنائی اور اس کی مرتب کردہ سفارشات کے مطابق معاملہ حل کر دیا گیا۔

لاہور ہائی کورٹ کی طرف سے وفاقی حکومت کو ڈیم بنانے کا حکم دینے کا فیصلہ عوامی اورسیاسی حلقوں میں دلچسپی اور حیرت کاباعث بنا ہے ۔اے این پی اور پیپلز پارٹی کے سندھ سے تعلق رکھنے والے رہنماوں نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے ۔اخبارات میں یہ خبر بھی شایع ہوئی ہے کہ پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت نے اس صورتحال پر غور کرکے حکمت عملی تیار کی ہے اور وہ سپریم کورٹ سے رجوع کرے گی۔ بہرحال عدالت کے فیصلے پر مزید کچھ کہے بغیر ہم یہ کہنا چاہیں گے کہ کالا باغ ڈیم پر سندھ اور خیبر پختونخوا کی سیاسی اور قوم پرست جماعتوں کو اعتراض ہے،خیبر پختونخوا اور سندھ ہی کے بعض حلقے یوں رائے دیتے ہیں کہ اس ڈیم پر اتفاق رائے ہونا چاہیے، یوں دیکھا جائے تو یہ ایک متنازعہ منصوبہ ہے۔ اس پر سارے صوبے متفق ہو جائیں تو اسے تعمیر کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے اور اگر صوبے اتفاق نہیں کرتے تو بجلی اور پانی کے متبادل منصوبوں پر جلد از جلد کام شروع ہونا چاہیے۔اگر ہم اعتراض یا تنازعہ کی بات کریں تو بھاشا ڈیم پر اعتراض کرنے والے بھی مل جائیں گے۔ پاکستان کو اس وقت بجلی اور پانی کا شدید مسئلہ درپیش ہے۔

بجلی کی لوڈ شیڈنگ سے سارا ملک متاثر ہورہا ہے، چاروں صوبوں کی قیادت کو بھی اس کا بخوبی پتہ ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ ملکی مفاد کے منصوبوں پر منفی سیاست نہ کی جائے لیکن پاکستان میں یہ روایت پختہ ہوچکی ہے کہ معاشیات کا معاملہ ہو یا توانائی کا اس پر سیاستدانوں نے مداخلت ضرور کرنا ہوتی ہے۔ یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ بعض اوقات سیاست دان جس ایشو پر رائے زنی کرتے ہیں، اس کے بارے میں ان کا علم سطحی ہوتا ہے یا سرے سے ہوتا ہی نہیں ہے۔بعض اوقات سیاسی جماعتیں ووٹ لینے کے لیے کسی مسئلے پر جذباتی فضا پیدا کردیتی ہیں اور اس کا خمیازہ پوری قوم کو بھگتنا پڑتا ہے۔ یہ صورتحال سب سے زیادہ افسوسناک ہے۔ کسی آبی منصوبے کے فوائد اور نقصانات پر سب سے بہتر رائے ان امور کے ماہرین کی ہی ہو سکتی ہے۔ لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد سپریم کورٹ کا دروازہ کھلا ہے، یقیناً یہ معاملہ وہاں جائے گا۔

یہی شائد آئینی اور قانونی طریقہ کار ہے۔ اس کے علاوہ اسے پارلیمنٹ میں بھی پیش کیا جا سکتا ہے۔ پارلیمنٹ کے ارکان پر مشتمل ایسی کمیٹی بنائی جا سکتی ہے جس میں چاروں صوبوں کے آبی ماہرین شامل ہوں۔ یہ کمیٹی ایک فیصلے پر پہنچے اور پھر اس فیصلے کو پارلیمنٹ کے سامنے پیش کر دیا جائے،پارلیمنٹ اسے منظور یا رد کرکے اس تنازعہ کو ہمیشہ کے لیے طے کرسکتی ہے۔