پاک بھارت تجارتی تعلقات

بھارت پاکستان میں اپنی تجارتی منڈی کو زیادہ سے زیادہ وسعت دینے کا خواہاں ہے۔


Editorial November 30, 2012
آنند شرما نے اسی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت باہمی تجارت کو فروغ دینے کے لیے پاکستان کے ساتھ مزید ٹریڈ روٹس کھولنے کا خواہش مند ہے۔ فوٹو: فائل

موجودہ بدلتے ہوئے حالات کے باعث پاکستان اور بھارت کے درمیان خوشگوار تجارتی تعلقات پیدا ہو رہے ہیں جو اس خطے کی ترقی اور خوشحالی کے لیے خوش آیند ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی سالانہ اربوں ڈالر کی تجارت کے باعث پاک بھارت تجارتی طبقہ ایک دوسرے کے قریب آ رہا ہے۔ بھارتی ٹیکسٹائل مصنوعات کی نمائشیں پاکستان میں شروع ہو چکی ہیں۔ اس سے پیشتر بھی بھارت اپنی مصنوعات کی کامیاب نمائش پاکستان میں کر چکا ہے۔ یہ صورت حال اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ بھارت پاکستان کو ایک اہم تجارتی منڈی تصور کرتا ہے۔ پاکستانی تاجر بھی بھارتی منڈی میں اپنی جگہ مضبوط کرنے کے لیے تگ و دو کررہے ہیں۔ اس وقت پاکستان کا 11 رکنی تجارتی وفد بھارت کے دورے پر ہے۔

پاکستان بزنس کونسل کے اس وفد نے دہلی میں بھارتی وزیر تجارت' صنعت و ٹیکسٹائل آنند شرما سے ملاقات کی۔ آنند شرما نے اس موقع پر پاکستانی کاروباری وفد کو اقتصادی روابط کو فروغ دینے کے لیے اقدامات کرنے کا یقین دلایا جس میں ایک دوسرے کے ملکوں میں بینکوں کی شاخیں اور مزید تجارتی راستے کھولنا شامل ہے۔ بھارت پاکستان میں اپنی تجارتی منڈی کو زیادہ سے زیادہ وسعت دینے کا خواہاں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آنند شرما نے اسی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت باہمی تجارت کو فروغ دینے کے لیے پاکستان کے ساتھ مزید ٹریڈ روٹس کھولنے کا خواہش مند ہے، وہ پنجاب اور راجستھان میں مزید بارڈر پوائنٹس کھولنا چاہتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان بینک کی شاخیں کھلنے سے تجارتی حلقوں کے لیے کرنسی کے لین دین میں آسانی پیدا ہونے سے تجارت کو مزید فروغ ملے گا۔ پاکستان کا ٹیکسٹائل مصنوعات میں اہم مقام ہے مگر بھارت پاکستانی ٹیکسٹائل انڈسٹری کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھتے ہوئے بنگلہ دیش سمیت دیگر ممالک کو زیادہ رعایتیں دے رہا ہے جس کی شکایت پاکستانی تجارتی وفد نے آنند شرما سے کی۔

بھارت کو بہتر تجارتی تعلقات کے لیے اس جانب بھی توجہ دینا ہو گی۔ دونوں ممالک نے نئے ویزا معاہدہ پر 8 ستمبر کو دستخط کیے تھے جس کے تحت دونوں ممالک کے درمیان کاروبار سمیت مختلف مقاصد کے لیے سفر میں آسانی کی خاطر اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ دونوں ممالک اس معاہدے پر عملدرآمد کو جلد از جلد ممکن بناتے ہوئے کاروباری برادری کے بلا روک ٹوک آنے جانے کے لیے سفر کو یقینی بنائیں۔ دونوں ممالک کو بخوبی ادراک ہو گیا ہے کہ ان کے درمیان جنم لینے والی دشمنی نے اس خطے کے مسائل میں اضافہ کیا۔ ان کے درمیان کشمیر وجہ تنازعہ چلا آ رہا ہے۔ اس خطے میں امن کے استحکام اور عوام کی خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے کہ یہ مسئلہ پرامن مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے۔ جس دن یہ مسئلہ حل ہو گیا دونوں ممالک میں بہتر تعلقات کا ایک نیا دور شروع ہو جائے گا اور اس خطے پر چھائے جنگ کے مہیب بادل ہمیشہ کے لیے چھٹ جائیں گے۔ تجارتی تعلقات میں اس قدر اضافہ ہو جائے گا کہ یہ خطہ دنیا کی ایک بڑی تجارتی منڈی بن جائے گا اور یہاں ترقی اور خوشحالی کے پھول کھل اٹھیں گے۔