پاک رینجرز اور بی ایس ایف میں دوستانہ حل پر اتفاق

پاک بھارت سرحدی محافظوں کا مل بیٹھنا دونوں ممالک میں اعتماد کی فضا کو مضبوط کرتا ہے


Editorial July 30, 2016
مذاکرات میں ورکنگ باؤنڈری پر بھارتی بارڈر سیکیورٹی فورس کی فائر بندی کی خلاف ورزیوں پر بھی بات ہوئی ہے فوٹو: نمائندہ ایکسپریس نیوز

پاکستان رینجرز (پنجاب) اور بھارتی بارڈر سیکیورٹی فورسز (بی ایس ایف) کے درمیان رینجرز ہیڈکوارٹرز میں ہونے والے 3 روزہ مذاکرات خوش اسلوبی سے ختم ہوگئے، جس میں ہونے والے فیصلوں کے تناظر میں مذکورہ مذاکرات کو خوش آیند اور دونوں ممالک کے مابین بہتر تعلقات کی جانب پیش رفت میں ایک سنگ میل قرار دیا جاسکتا ہے۔ پاک بھارت سرحدوں پر ہر کچھ عرصے بعد کشیدگی اور بلااشتعال فائرنگ کے نتیجے میں نہ صرف امن مذاکرات سبوتاژ ہوتے رہے بلکہ کئی انسانی جانیں بھی اس کشیدگی کی نذر ہوئیں۔

مذاکرات میں ورکنگ باؤنڈری پر بھارتی بارڈر سیکیورٹی فورس کی فائر بندی کی خلاف ورزیوں پر بھی بات ہوئی ہے جس کے بعد امید کی جانی چاہیے کہ مستقبل میں ایسے واقعات ظہور پذیر نہیں ہوں گے۔ 25 جولائی سے 28 جولائی تک جاری رہنے والے اجلاس میں 2015ء کے مذاکرات کو جاری رکھتے ہوئے جن اہم نکات پر اتفاق کیا گیا ان میں دونوں فورسز نے امن کو یقینی بنانے کے لیے سیزفائر معاہدے پر عملدارآمد جاری رکھنے، مشترکہ گشت، دفاعی تعمیرات اور اعتراضات کے دوستانہ حل پر اتفاق کیا ہے جب کہ غلطی سے سرحد پار کرنے والوں کو تصدیق کے بعد واپس بھجوانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

یہ فیصلہ اس تناظر میں نہایت اہمیت کا حامل ہے کہ سرحدوں کے دونوں جانب آبادیوں کے معصوم افراد لاعلمی کی بنا پر بارڈر کراس کرجاتے ہیں جنھیں فورسز جاسوس قرار دے کر گرفتار کرلیتی ہیں اور بھارت کی جانب سے ایسے اکثر واقعات میں ان معصوم افراد کی زندہ واپسی بمشکل ہی ہو پاتی ہے۔ مذاکرات میں اس بات کا اعادہ کرنا کہ غلطی سے سرحد عبور کرجانے والوں کی زندہ واپسی کو یقینی بنایا جائے گا، قابل تحسین ہے۔ اجلاس میں دونوں ملکوں میں آنے جانے والے مسافروں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے اور ایمرجنسی حالات میں سرحدی فورسز کے سربراہان کے ہاٹ لائن پر رابطے رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ سرحدوں پر معمولی تنازعات مقامی کمانڈر ہی طے کریں گے، جس سے معمولی نوعیت کے معاملات جلد نمٹانے میں آسانی ہوگی۔ اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے انٹیلی جنس شیئرنگ اور غیر قانونی بارڈر کراسنگ روکنے کے لیے مشترکہ پٹرولنگ پر بھی اتفاق ہوا جب کہ دونوں ممالک کے سروے ڈپارٹمنٹس کے نمایندے سرحد کی نشاندہی کرنے والی برجیوں کا جائزہ لیں گے۔ پاک بھارت سرحدی محافظوں کا مل بیٹھنا دونوں ممالک میں اعتماد کی فضا کو مضبوط کرتا ہے، وقت کا بھی تقاضا ہے کہ دونوں ممالک کے عوام کی خوشحالی کے لیے باہمی چپقلش ختم کی جائے۔