پاک افغان وزرائے خارجہ مذاکرات
پاکستان نے 9 ہزار افغان طلبہ کو اسکالرشپ دیئے لیکن دہشت گردی کے ساتھ منشیات کی اسمگلنگ دونوں ممالک کیلئے بڑا مسئلہ ہے۔
پاکستان نے کہا ہے کہ وہ افغانستان میں امن عمل کی بحالی کے مزید طالبان قیدیوں کی رہائی کے لیے تیار ہے۔ اخباری خبر کے مطابق دونوں ممالک نے اسٹرٹیجک معاہدے کا مسودہ بھی تیار کر لیا ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان خوشگوار اور بہتر تعلقات کے حوالے سے یہ اہم پیش رفت ہے۔ گزشتہ دنوں افغان مفاہمتی امن کونسل کے سربراہ صلاح الدین ربانی بھی اپنے وفد کے ہمراہ پاکستان آئے تھے۔
انھوں نے پاکستان میں اعلیٰ سطح پر ملاقاتیں کی تھیں۔ انھی ملاقاتوں کے نتیجہ میں پاکستان میں قید بعض طالبان رہنماؤں کو رہا کیا گیا تھا۔ اس کے بعد مزید طالبان قیدیوں کی رہائی کی باتیں سامنے آتی رہی ہیں' اب افغانستان کے وزیر خارجہ زلمے خلیل زاد پاکستان آئے ہوئے ہیں۔ یہاں انھوں نے پاکستانی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر سے مذاکرات کیے ہیں۔ زلمے خلیل زاد اہم افغان رہنما ہیں' خارجہ امور پر انھیں خاصی گرفت ہے اور وہ طالبان کے حوالے سے بھی بہت آگاہی رکھتے ہیں۔ انھیں ایک ماڈریٹ شخصیت کہا جاتا ہے۔ وہ امریکا اور مغربی ممالک کے خاصے قریب سمجھے جاتے ہیں۔ افغانستان پر جب طالبان کا قبضہ تھا، اس وقت انھوں نے ان کی مخالفت کی تھی' اب کرزئی انتظامیہ نے انھیں وزیر خارجہ کا منصب سونپ رکھا ہے، انھیں افغان انتظامیہ اور امریکا میں خاصا اثر ورسوخ حاصل ہے۔ جمعے کو پاکستانی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر اور انھوں نے باہمی مذاکرات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔
ان مذاکرات میں افغانستان نے پاکستان میں قید تمام طالبان قیدیوں کی حوالگی کا مطالبہ کیا اور کہا کہ افغانستان اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا' اسی مطالبے کی روشنی میں پاکستانی حکومت نے مزید طالبان قیدیوں کی رہائی کا عندیہ دیا ہے تاہم پاکستان کی جانب سے ڈپٹی طالبان لیڈر عبدالغنی برادر کی حوالگی کے حوالے سے کوئی یقین دہانی نہیں کرائی گئی۔ ملا برادرکی گرفتاری 2010ء میں عمل میں آئی تھی۔ مذاکرات میں پاکستان نے افغانستان میں ہونے والی علما کانفرنس کی حمایت کا بھی یقین دلایا ہے۔ مشترکہ پریس کانفرنس میں پاکستانی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے کہا کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ تعلقات مزید مستحکم کرنے کا خواہاں ہے اور افغانستان میں امن عمل کی حمایت کرتا ہے لیکن اس امن عمل میں پاکستان کا کردار رابطہ کار کا ہو گا۔ پاکستان کی وزیر خارجہ افغانستان کا اب تک 4 بار دورہ کر چکی ہیں۔
یوں انھیں افغان انتظامیہ کی ترجیحات اور عزائم کا بخوبی علم ہے۔حنا ربانی کھر نے مشترکہ پریس کانفرنس میں یہ بھی کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے عوام کے درمیان گہرے روابط ہیں۔ افغان وزیر خارجہ ہماری دعوت پر پاکستان آئے ہیں۔ حنا ربانی کھر نے مزید بتایا کہ پاکستان نے 9 ہزار افغان طلبہ کو اسکالرشپ جاری کیے ہیں لیکن دہشت گردی کے ساتھ منشیات کی اسمگلنگ دونوں ممالک کے لیے بڑا مسئلہ ہے۔ جب کہ افغانستان کی تعمیر نو میں پاکستان اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ افغان وزیر خارجہ زلمے رسول خلیل زاد کا کہنا ہے کہ دورہ پاکستان کے دوران افغان امن عمل پر بات چیت ہوئی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان تمام افغان قیدیوں کو افغانستان کے حوالے کرے۔ افغان پناہ گزینوں کی وطن واپسی پر بھی بات چیت ہوئی ہے۔ افغانستان کے لوگ 31 سالہ جنگ کے بعد امن چاہتے ہیں جس کے لیے اعتماد سازی کی ضرورت ہے، جنگ کی شروعات کرنا آسان مگر اس پر قابو پانا بہت مشکل ہے، یقین ہے کہ افغانستان میں امن عمل کو کامیابی نصیب ہو گی۔
مشترکہ اعلامیے میں سرحد پار دہشتگردی اور گولہ باری روکنے پر بھی اتفاق کیا گیا اور اس کے لیے ایک میکانزم ترتیب دینے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ دونوں ممالک نے پاکستان ٹرانزٹ ٹریڈ ایگریمنٹ کی تاجکستان تک توسیع کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ افغان وزیر خارجہ نے وزیراعظم راجہ پرویز اشرف سے بھی ملاقات کی جنہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان علما کانفرنس منعقد کرانے کا معاہدہ تعلقات کو مضبوط اور بہتر بنانے میں معاون ثابت ہو گا۔ ایک پر امن، مستحکم اور خوشحال افغانستان پاکستان کے اپنے قومی مفاد میں ہے۔ افغان وزیر خارجہ نے کہا کہ وقت آ گیا ہے، ہمیں اب نتائج دکھانے ہیں اور امن مشن میں کامیاب ہونا ہے۔ ہماری تمنا ہے کہ دونوں ممالک جن کی سرحد دو ہزار کلومیٹر تک ملتی چلی گئی ہے انھیں تو آپس میں بالکل شیر و شکر ہو نا چاہیے نا کہ ایک دوسرے کی دشمنی پالنی چاہیے۔
یہ عجیب مخمصہ ہے کہ تقسیم برصغیر پر قیام پاکستان کی سب سے پہلے مخالفت کرنے والا ملک افغانستان ہی تھا حالانکہ برادر اسلامی ملک ہونے کے ناتے اسے اپنے عظیم ہمسایہ ایران کی تقلید کرنا چاہیے تھی جس نے پاکستان کو سب سے پہلے تسلیم کرنے کا اعلان کیا۔ جہاں ہمارا دین ہمیں اپنے گھروں میں پڑوسیوں کے حقوق کا خیال کرنے کی بطور خاص تلقین کرتا ہے اسی کلیہ کا اطلاق ہمارے پڑوسی ملکوں پر بھی ہوتا ہے لیکن افسوس کی بات ہے کہ پاک افغان تعلقات تقریباً آغاز سے ہی الجھاؤ اور مخاصمت کا شکار رہے اور اس دوران افغانستان بار بار بیرونی جارحیتوں کا بھی شکار بنتا رہا۔ زلمے رسول خلیل زاد کی باتیں حوصلہ افزائی ہیں۔بلاشبہ پاکستان اور افغانستان کی سرحد تقریباً دوہزار کلومیٹر طویل ہے، دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان گہرے تاریخی، مذہبی، نسلی ، لسانی اور ثقافتی تعلقات ہیں ، اس کے باوجود دونوں کے درمیان اختلافات موجود ہیں۔یہ اختلاف کیوں ہیں، اس بارے میں دونوں ملکوں کی قیادت کو بخوبی علم ہے۔ اگر دونوں ملکوں کی اسٹیبلشمنٹ اپنے حدود اور دائرے میں رہ کر حقائق کو تسلیم کرلے تو سارے جھگڑے ختم ہوسکتے ہیں۔
پاکستان اور افغانستان نے مشترکہ اعلامیے میں جن ترجیحات اور اہداف کا ذکر کیا، ان پر عمل کیا جائے تو بہت سے معاملات حل ہو جاتے ہیں۔ پاکستان میں جو طالبان قید ہیں، اور افغانستان انھیں لینا چاہتا ہے، اس حوالے سے پاکستان کو چاہیے کہ وہ انھیں افغان حکومت کے حوالے کرے۔ اسی طرح افغانستان کی حکومت طالبان کو اگر افغان امور میں کوئی کردار دینا چاہتی ہے اور طالبان بھی اس پر تیار ہیں، اس پر بھی پاکستان کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ اسی طرح پاکستان میں جو افغان مہاجرین موجود ہیں، افغانستان کی حکومت کو اس حوالے سے لیت ولعل کا مظاہرہ کرنے کے بجائے اپنے باشندوں کو فوری طور پر واپس لینے اور ان کی آبادکاری کا بندوبست کرنا چاہیے۔
اگر افغان باشندے مکمل طور پر پاکستان سے نکل جاتے ہیں تو اس سے پاکستان کے بہت سے مسائل حل ہو جائیں گے۔ اسی طرح دونوں ملکوں کے درمیان آمد ورفت کے معاملات کے لیے قانونی تقاضے پورے ہونے چاہئیں۔ سرحد کے آر پار آنے جانے کو اتنا آسان بھی نہیں ہونا چاہیے کہ سرحد کی تمیز ختم ہو جائے۔اس حوالے سے ڈیورنڈ لائن کا مسئلہ بھی حل ہونا چاہیے۔ جہاں تک تجارتی تعلقات کا معاملہ ہے تو یہ ایسی چیز نہیں ہے، جس میں کوئی رکاوٹ ہو۔ اصل مسئلہ یہی ہے کہ پاکستان اور افغانستان کی اسٹیبلشمنٹ اپنی فکر اور ترجیحات میں تبدیلیاں لائے، حقائق کو تسلیم کیا جائے، اسی طرح دونوں ملکوں کے درمیان قابل قبول، خوشگوار اور برادرانہ تعلقات قائم ہو سکتے ہیں۔