مردم شماری سے گریز کے حیلے بہانے

ملک میں آخری مردم شماری سے پہلے جتنی بارمردم شماری ہوئی ہے اس میں فوج کا کوئی عملی کردار نہیں تھا


Editorial August 04, 2016
مردم شماری فوراً سے بیشتر ہونی چاہیے اس کا تعلق براہ راست عوامی حقوق کی منصفانہ تقسیم اور ہماری ترقی سے مشروط ہے۔ فوٹو؛ فائل

ISLAMABAD: جوکام جمہوری حکومتوں کے کرنے کے ہوتے ہیں ناجانے وہ کیوں نہیں کرتیں۔ مردم شماری ہر دس سال بعد ہونی چاہیے یہ صرف آئین کی کتابوں میں ہی درج رہ گیا ہے، اس پر عملدرآمد کی آرزو تو پوری ہوہی نہیں پا رہی۔ سپریم کورٹ حکومت سے پوچھتی کچھ ہے جواب کچھ اور ملتا ہے، تازہ رودادسنئے، محکمہ شماریات نے رواں سال مردم شماری کرانے سے معذرت کرتے ہوئے سپریم کورٹ کوبتایا ہے کہ اگرمطلوبہ تعداد میں فوج دستیاب ہوئی تو اگلے سال مارچ یا اپریل میں مردم شماری کرائی جاسکتی ہے۔ مردم شماری کے اعدادوشمارکی روشنی میں اقوام عالم اپنے مستقبل کی پلاننگ کرتی ہیں،آبادی کے تناسب سے عوام کو سہولتیں فراہم کرنے کے منصوبے بنائے جاتے ہیں لیکن ہمارے یہاں تو الٹی گنگا بہہ رہی ہے۔

کوئی بھی ادارہ اپنی ذمے داری پوری کرنے کو تیار نظر نہیں آتا، بس وقت گزاری کے بہانے ہیں ۔ فوج''آپریشن ضرب عضب'' میں مصروف ہے،فوجی جوان دستیاب ہوئے تو اگلے سال مارچ میں مردم شماری کروا دیں گے ۔ کوئی پوچھے آپریشن ضرب عضب کا آغاز توکل کی بات ہے، لیکن آخری مردم شماری تو سن اٹھانوے میں ہوئی تھی نا، اٹھارہ برس میں تین حکومتیں کیا کرتی رہیں؟ اسے کہتے ہیں ''ڈنگ ٹپاؤ'' پالیسی جو اس سے پہلے 'بلدیاتی انتخابات' کے حوالے سے وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے اختیار کی ۔جمہوریت نام ہے جمہورکی فلاح کا، لیکن یہاں تو ہر حکومت پانچ سال پورے ہونے کے جتن کرتی رہتی ہے اور عوامی مسائل دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں ۔دلچسپ بات یہ ہے کہ بقول حکومت مردم شماری کے لیے بجٹ میں رقم مختص ہوچکی ہے،اس لیے اگلے سال مارچ یا اپریل میں مردم شماری ممکن ہوسکے گی۔

بہانے تراشنے اور ٹال مٹول کی بھی حد ہوتی ہے، اگر فوجی جوان دستیاب نہیں ہیں تو کیا اس کے متوازی انتظامات نہیں کیے جاسکتے، جواب، بالکل کیے جاسکتے ہیں۔ ملک میں آخری مردم شماری سے پہلے جتنی بارمردم شماری ہوئی ہے، اس میں فوج کا کوئی عملی کردار نہیں تھا۔سول انتظامیہ نے مختلف سرکاری محکموں کے حاضر اور ریٹائرڈ ملازمین کی خدمات سے استفادہ کرکے مردم شماری کا انعقاد کروایا تھا ۔کیا اب ایسا نہیں کیا جاسکتا ہے، بالکل کیا جاسکتا ہے بات ہے نیت کے درست ہونے کی ۔ سپریم کورٹ میں جمع کرائی جانے والی محکمہ شماریات کی رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ وزارت داخلہ کے توسط سے نادرا نے شناختی کارڈزکی تصدیق کا عمل شروع کردیا ہے۔

دسمبر تک منسوخ اور بلاک کیے جانے والے شناختی کارڈزکی تفصیل بھی دستیاب ہوگی۔ جب اصل اور نقل کی پہچان کرنے کے لیے اور اعدادوشمار کو جانچنے کے جدید سائنسی ذرایع موجود ہیں تو پھر ٹال مٹول زیب نہیں دیتی ۔ مردم شماری فوراً سے بیشتر ہونی چاہیے اس کا تعلق براہ راست عوامی حقوق کی منصفانہ تقسیم اور ہماری ترقی سے مشروط ہے۔