چار ملکی اجلاس چین کی قابل قدر کاوش

پاکستان ایک طویل عرصے سے دہشتگردی کے خلاف نبرد آزما ہے


Editorial August 05, 2016
پاکستان ایک طویل عرصے سے دہشتگردی کے خلاف نبرد آزما ہے. فوٹو: فائل

LOS ANGELES: پاکستان ایک طویل عرصے سے دہشتگردی کے خلاف نبرد آزما ہے، جب کہ خطے میں دہشت گردی کے تسلسل ، ہزارہا قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع سے پاکستان ، افغانستان اور دیگر ممالک بھی متاثر ہوئے ہیں، اقتصادی اور معاشی حالات بھی دگرگوں ہیں۔ مصائب اورآلام کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے۔ دہشتگردی کی وارداتوں کے باعث بے یقینی اور بداعتمادی کی فضا سے بھی ماحول ماضی میں خاصا مکدر رہا ہے۔

یہ اہم ترین مسئلہ ہنوز حل طلب ہے، وجہ یہ ہے کہ اس کے لیے مشترکہ طور پرکاوشیں نہیں کی گئیں۔ لیکن چین نے ایک سنہرا موقع فراہم کیا ہے اور اس ضمن میں چین کے شہر ارومچی میں پاکستان، چین، افغانستان اور تاجکستان کی مسلح افواج کی قیادت کا اجلاس بھی ہوا ہے ۔اجلاس کے شرکا نے اتفاق کیا کہ دہشت گردی علاقائی استحکام کے لیے خطرہ ہے جس کے خاتمے کے لیے چار ملکی لائحہ عمل تشکیل دیا گیا۔

چین پاکستان اقتصادی راہداری کا منصوبہ توگیم چینجر ہے اسے دہشتگردوں سے بچانا بھی نہایت اہم ہے ۔ مسئلہ یہ ہے کہ دہشتگردی ایک عفریت کی صورت اختیارکرچکی ہے، اس کو کچلنے کے لیے اگر پاکستان کوشش کرتا ہے، تودہشت گرد افغانستان کو محفوظ پناہ گاہ سمجھتے ہوئے وہاں فرار ہو جاتے ہیں۔ ایک مشترکہ حکمت عملی کے فقدان کے باعث دہشتگرد باآسانی خونی کی ہولی کھیلنے کے بعد سرحد پار چلے جاتے ہیں ۔ایک عرصے سے یہ محسوس کیا جا رہا تھا کہ جب تک خطے کے ممالک مل کر دہشت گردی کا مقابلہ نہیں کریں گے اس عفریت کا خاتمہ ممکن نہیں لہذا اب پاکستان،افغانستان،چین اور تاجکستان کے درمیان دہشت گردی کے خلاف تعاون پر اتفاق ایک خوش آیند فیصلہ ہے جس کے مستقبل پر خوشگوار اثرات مرتب ہوں گے۔

چاروں ملکوں کی افواج کے سربراہان نے امن واستحکام کے لیے ملکر کام کرنے، شواہد کی تصدیق اور خفیہ اطلاعات کے تبادلے اور انسداد دہشت گردی کے لیے افواج کی استعدادکار میں اضافے اور مشترکہ تربیتی مشقوں پر اتفاق رائے کیا ہے ۔چارملکی میکنزم کا تشکیل پانا خوش آیند بات ہے کیونکہ سب مل کرکوشش کریں گے تو دہشتگرد گروہوں کا خاتمہ ہوگا اورامن ہوگا ۔ اس میکنزم کی تشکیل سے یہ بات بھی واضح ہو رہی ہے کہ چاروں ممالک ایک دوسرے کی سلامتی اور خودمختاری کا احترام کریں گے اور یہ فورم کسی ملک یا بین الاقوامی تنظیم کے خلاف نہیں ہے۔ آنے والے وقت میں اگر یہ فورم کامیابی سے ہمکنار ہوتا ہے توخطے میں امن کا خواب شرمندہ تعبیر ہوسکے گا لیکن یہ تب ہی ممکن ہے جب تمام ممالک خلوص نیت سے کام کریں ۔