پاکستانی ہیلی کاپٹر افغانستان میں نذر آتش

یرغمال پاکستانی عملے کو طالبان کی قید سے چھڑانے کے لیے افغان حکومت کو فوری عمل میں آناچاہیے۔


Editorial August 06, 2016
یرغمال پاکستانی عملے کو طالبان کی قید سے چھڑانے کے لیے افغان حکومت کو فوری عمل میں آناچاہیے۔ فوٹو؛ فائل

PESHAWAR/ ISLAMABAD: افغانستان کے صوبہ لوگر میں پاکستانی ہیلی کاپٹر کے طالبان کے ہاتھوں جلائے جانے اور عملے کو یرغمال بنانے کا افسوس ناک واقعہ پیش آیا ہے جس پر نہ صرف پاکستانی حکومت مضطرب بلکہ افغان حکومت کی نااہلی اور کمزور رٹ واضح ہوکر سامنے آئی ہے، جس کا اپنے علاقے میں کنٹرول صفر دکھائی دیتا ہے۔

افسوس ناک امر یہ ہے کہ پاکستان کا روسی ساختہ ایم آئی 17 ہیلی کاپٹر، جو اوور ہالنگ اور مرمت کے لیے براستہ ازبکستان لے جایا جارہا تھا، اسے فنی خرابی کے باعث افغانستان میں ہنگامی لینڈنگ کرنا پڑی، جہاں لینڈنگ کرتے ساتھ ہی اس پر مقامی طالبان نے حملہ کردیا اور روسی پائلٹ سمیت 6 پاکستانی انجینئرز کو یرغمال بنالیا۔ واضح رہے ہیلی کاپٹر کو ری فیولنگ کے لیے ازبکستان اترنا تھا جب کہ افغانستان کی فضائی حدود استعمال کرنے کے لیے پیشگی اجازت لی گئی تھی۔

یہ امر قابل حیرت ہے کہ افغانستان کی فضاؤں میں دوسرے ملک کا ہیلی کاپٹر داخل ہوتا ہے اور لینڈنگ کے دوران غیر ریاستی عناصر اس پر حملہ آور ہوجاتے ہیں، آخر افغان حکومت ایسے موقع پر کہاں تھی؟ فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق افغانستان میں گرنے والا پنجاب حکومت کا ہیلی کاپٹر 8 بج کر 45 منٹ پر روس کے لیے روانہ ہوا تھا اور 10 بجے کے بعد افغانستان کی حدود میں داخل ہونے کے بعد ہیلی کاپٹر سے رابطہ منقطع ہوگیا تھا۔ ہیلی کاپٹر سے رابطہ منقطع ہونے پر افغان حکومت سے رابطہ کرکے ہیلی کاپٹر کے روٹ سے آگاہ کردیا گیا تھا۔ واضح رہے پنجاب حکومت کے ہیلی کاپٹر ایم 17 کے فلائنگ گھنٹے مکمل ہو چکے تھے، ہیلی کاپٹر کی اوورہالنگ اور مرمت سے متعلقہ سول ایوی ایشن نے پنجاب حکومت کو خط لکھا تھا، ہیلی کاپٹر مرمت کروانے کے لیے پنجاب حکومت نے 27 کروڑ 52 لاکھ گزشتہ ماہ جاری کیے تھے۔

یرغمال پاکستانی عملے کو طالبان کی قید سے چھڑانے کے لیے افغان حکومت کو فوری عمل میں آناچاہیے۔ آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے افغانستان میں اتحادی افواج کے سربراہ جنرل نکلسن سے ٹیلی فون پر رابطہ کرکے صوبہ لوگر میں کریش لینڈنگ کرنے والے پنجاب حکومت کے ہیلی کاپٹر کے عملے کے ارکان کی بازیابی کے لیے مدد مانگ لی ہے جب کہ امریکی جنرل نے ہرممکن مدد اور تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق افغان حکومت اور افغان نیشنل آرمی کے حکام کے ساتھ بھی ہیلی کاپٹر کے عملے کی بازیابی کے لیے رابطہ کیا گیا ہے۔ افغان حکومت کو بھی پاکستانی عملے کی بازیابی میں پاکستان کے ساتھ مکمل تعاون کرنا چاہیے۔