بھارتی مظالم کا شکار کشمیریوں کی مدد ہونی چاہیے

31روز سے جاری کرفیو کے نفاذ کے باوجود کشمیری بھارتی مظالم کے خلاف ہڑتال اور مظاہرے کر رہے ہیں


Editorial August 08, 2016
کیا کشمیریوں پر ظلم و ستم کا سلسلہ یونہی جاری رہے گا۔ فوٹو؛ فائل

وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے ریاستی جبر سے زخمی ہونے والے کشمیریوں کے علاج کی پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان متاثرہ افراد کے علاج معالجے کے لیے انتظامات کا خواہاں ہے، خصوصی طور پر پیلٹ بندوقوں کے متاثرین کی آنکھوں کا دنیا میں کہیں بھی دستیاب طبی سہولیات کے ذریعے علاج کرانا چاہتا ہے۔

ہفتے کو جاری ایک بیان میں وزیراعظم نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی بحران کی شدت نے ہمیں مجبور کر دیا ہے کہ ہم متاثرین کے علاج معالجے کے لیے فوری طور پر اپنے مادی اور انسانی وسائل کو بروئے کار لائیں، ظلم کی حد یہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بنیادی صحت کی سہولیات فراہم کرنے والے افراد اوراداروں کو بھی متاثرین کے مناسب علاج معالجے کی اجازت نہیں دی جا رہی، بھارتی سیکیورٹی فورسز پرامن، نہتے اور بے گناہ مظاہرین کو علاج معالجہ فراہم کرنے والے اسپتالوں اور ایمبولینس گاڑیوں کو بھی نشانہ بنا رہی ہیں۔

بصارت سے محرومی متاثرہ افراد اور ان کے خاندانوں کے لیے سنگین نتائج کا باعث بنتی ہیں، پیلٹ بندوقوں سے متاثرہ افراد میں سے بعض شاید دوبارہ کبھی روشنی نہیں دیکھ پائیں گے تاہم اس کے باوجود وہ اب بھی آزادی کی روشنی سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے اپنے حق خودارادیت کے لیے پرعزم ہیں اور دنیا کو اس کا احساس کرنا چاہیے، پاکستان کشمیریوں کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔ وزیراعظم نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ بھارت پر اپنا اثرورسوخ استعمال کرے تاکہ پاکستان مقبوضہ وادی میں حالیہ جاری انسانی بحران کے تناظر میں متاثرین کے علاج معالجہ کا اہتمام کر سکے۔

وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی فائرنگ سے زخمی ہونے والے کشمیریوں کے علاج معالجے کی پیشکش کر کے پاکستانی قوم کے جذبات کی صائب عکاسی کی ہے۔ ادھر مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں کی ریاستی دہشت گردی، جبر و ستم اور کشمیریوں کی شہادت کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ بھارتی فوج کشمیریوں کے جذبہ حریت اور تحریک آزادی کو دبانے کے لیے جبر و ستم کے نئے حربے بروئے کار لاتے ہوئے پیلٹ گنوں کے ذریعے انھیں نابینا کر رہی ہے۔

31روز سے جاری کرفیو کے نفاذ کے باوجود کشمیری بھارتی مظالم کے خلاف ہڑتال اور مظاہرے کر رہے ہیں، اس دوران بھارتی فوج کے ہاتھوں 68 کشمیری شہید اور 6500 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کی بھارت سے اپیل کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں پیلٹ بندوق کا استعمال بند کر دے، بھی موثر ثابت نہ ہو سکی اور بھارتی فوج کشمیریوں کے خلاف پیلٹ بندوق کا استعمال مسلسل جاری رکھے ہوئے ہے۔

بھارتی ظلم و ستم کشمیریوں کے جذبہ حریت کو ماند کرنے کے بجائے اسے مزید تیز تر کر رہا ہے، روز ہونے والی شہادتوں کے باوجود مقبوضہ کشمیر میں مظاہروں میں شدت آتی جا رہی ہے، گولیاں کھانے کے باوجود کشمیریوں کی زبان پر ایک ہی نعرہ ہے ''کشمیر بنے گا پاکستان،،۔ مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ چار دہائیوں سے جاری بھارتی ظلم و ستم کا سلسلہ فوری طور پر رکنے کے آثار دکھائی نہیں دے رہے۔

مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے پاک بھارت جنگیں ہونے کے علاوہ مذاکرات کے دور بھی ہو چکے ہیں مگر معاملات جوں کے توں ہیں۔ اقوام متحدہ سمیت دیگر عالمی قوتیں کشمیریوں پر ہونے والے ظلم کے خلاف مسلسل خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں، انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں بھی برائے نام بیانات کی حد تک محدود ہیں۔

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ جنوبی ایشیا کے خطے میں عالمی طاقتوں کے مفادات میں بڑی تیزی سے تبدیلی آ چکی ہے اور وہ مستقبل میں بھارت سے اپنے تعلقات کو مضبوط سے مضبوط تر بنانے کے لیے کوشاں ہیں جس کا اظہار امریکا کے بھارت سے ہونے والے بڑے پیمانے پر اقتصادی اور فوجی معاہدے ہیں، اب امریکا کی کمپنی ایف16 طیارے بھارت میں تیارکرنے کی تجویز بھی سامنے لے آئی ہے جس سے یہ حقیقت کھل کر سامنے آ رہی ہے کہ مستقبل میں بھارت عالمی قوتوں کا اہم پارٹنر ہو گا۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ قوتیں پاکستان کی خاطر بھارت کو ناراض کریں گی یا اس کی خواہشات کے برعکس اس پر دباؤ ڈال کر مسئلہ کشمیر حل کرنے کے لیے میدان میں اتریں گی، بادی النظر میں ایسا ہوتا ہوا دکھائی نہیں دے رہا۔ بھارت تو پاکستان کی بار بار پیشکش کے باوجود مذاکرات کی میز پر نہیں آ رہا۔ اس تناظر میں یہ سوال اہمیت اختیار کرتا جا رہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کا کیا حل ہے، کیا کشمیریوں پر ظلم و ستم کا سلسلہ یونہی جاری رہے گا۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر کی تحریک فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو گئی ہے، پاکستان کشمیریوں کی بھرپور سیاسی حمایت جاری رکھے گا۔ پاکستان بھارت کو دباؤ میں لانے کے لیے مسئلہ کشمیر کو او آئی سی، عرب لیگ اور اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر پوری شد و مد سے اٹھائے دوسری جانب بیرون ملک پاکستانی مشنز کو بھی انسانی حقوق کی تنظیموں، سول سوسائٹی اور بین الاقوامی سیاسی قیادت کی حمایت کے لیے متحرک کیا جائے۔