اولمپکس ہاکی پاکستان کو گولڈ میڈل جیتے 32 برس مکمل

قومی کھیل اس بدترین مقام پر آ جائے گا کسی نے نہ سوچا ہوگا، منظور جونیئر


Sports Reporter August 11, 2016
قومی کھیل اس بدترین مقام پر آ جائے گا کسی نے نہ سوچا ہوگا، منظور جونیئر فوٹو: فائل

پاکستان کو اولمپکس ہاکی مقابلوں میں گولڈ میڈل جیتے آج32 برس مکمل ہو گئے، گرین شرٹس نے11اگست 1984کو لاس اینجلس اولمپکس میں طلائی تمغہ اپنے نام کیا تھا.

پاکستان کو آخری کانسی کا میڈل24سال قبل1992کے بارسلونا اولمپکس میں ہاکی کے مقابلوں میں ہی ملا تھا، بارسلونا کے بعد پاکستانی ہاکی ٹیم 5 اولمپکس میں شریک رہی لیکن کوئی خاطر خواہ کارکردگی نہ دکھا سکی۔ اس کے باوجود کم از کم اس بات کی ہی خوشی رہتی تھی کہ وہ اولمپکس میں موجود ہے، تاہم ریو اولمپکس کے لیے کوالیفائی نہ کرنے کے نتیجے میں شرکت برائے نام کی خوشی بھی چھن چکی، اس حوالے سے اپنے ایک انٹرویو میں لاس اینجلس اولمپکس میں طلائی تمغہ جیتنے والی ٹیم کے کپتان منظور جونیئر کا کہنا ہے کہ کسی نے کبھی یہ سوچا بھی نہ تھا کہ پاکستانی ہاکی اس بد ترین مقام پر آجائے گی، ملک میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں لیکن اس ٹیلنٹ کو نکھارنے کے لیے جس سسٹم کی ضرورت ہونی چاہیے وہ نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ ملک بھر میں اکیڈمیز تو بنا دی گئیں لیکن اگر وہ صحیح طریقے سے کام کرتیں تو آج یہ دن دیکھنے نہ پڑتے، انھوں نے موجودہ فیڈریشن کو مشورہ دیا کہ وہ 2018 اور2022 کو ذہن میں رکھ کر منصوبہ بندی کرے، اگر ہاکی فیڈریشن آج منصوبہ بندی کرے گی تو اس کا نتیجہ آنے والے دنوں میں اچھا مل سکتا ہے، فیڈریشن کو چاہیے کہ وہ نوجوان کھلاڑیوں کو مستقبل کے لیے تیار کرے۔