وزیراعظم کا لاہور میں خطاب
بابا گرونانک نے صلح جوئی‘ سچائی‘ رحمدلی‘ انصاف اور خدا سے محبت کا پرچار کیا جب کہ وہ معاشرے میں بداخلاقی کے مخالف تھے.
پیپلز پارٹی کی حکومت اقلیتوں کے حقوق کی سب سے بڑی علمبردار ہے،وزیراعظم. فوٹو: فائل
وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے اتوار کو لاہور میں دیال سنگھ ریسرچ اینڈ کلچرل فورم کے زیر اہتمام ''اج سکھ قوم کیتھے کھڑی اے'' کے موضوع پر انٹرنیشنل سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کوشاں ہے، مذاہب محبت، بھلائی اور انسانیت کی فلاح کا درس دیتے ہیں، برصغیر سے جہالت اور بدامنی کے خاتمے کے لیے پاک، بھارت تعلقات میں بہتری ناگزیر ہے۔ بابا گرونانک نے ہمیشہ صلح جوئی' سچائی' رحمدلی' انصاف اور خدا سے محبت کا پرچار کیا جب کہ وہ معاشرے میں بداخلاقی کے مخالف تھے۔
وزیراعظم نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت اقلیتوں کے حقوق کی سب سے بڑی علمبردار ہے، اقلیتوں کی فلاح و بہبود پی پی پی کے منشورکا حصہ ہے، حکومت سکھوں کے مقدس مذہبی مقامات کی تزئین و آرائش کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ پاکستان آنے والے سکھ یاتریوں کو ویزے کے حصول میں آسانیاں پیدا کرنے سمیت ان کے تمام مسائل حل کیے جائیں گے تاکہ انھیں کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ برصغیر کے مسلمانوں اور سکھ قوم میں بہت سی قدریں مشترک ہیں جو بھائی چارے کے رشتے کو مضبوط اور پروان چڑھانے میں مدد دیتی ہیں۔کوئی بھی مذہب دہشت گردی اور انتہا پسندی کی حمایت نہیں کرتا، ہمارا دین اسلام دوسروں اور خاص طور پر اقلیتوں اور غیر مسلموں کی فلاح و بہبود کا درس دیتا ہے، ایک دوسرے کے مذہب کے احترام اور عزت میں انسانیت کی فلاح ہے۔ اھر ثناء نیوز کے مطابق وزیراعظم نے سکھ اقلیت کے لیے علیحدہ وزارت کے قیام کا بھی اعلان کیا۔
پاکستان میں جس قسم کے شدت پسند رویے پروان چڑھے، آج پورا ملک ان رویوں کے بھیانک نتائج بھگت رہا ہے۔ یہ سب کچھ اچانک نہیں ہوا' اسے پاکستان کے سیاستدانوں' سول و فوجی افسروں' کاروباری طبقوں' ادیبوں' شاعروں اور دانشوروں کے ایک گروہ نے پروان چڑھایا' اس گروہ نے عوام میں گروہی' نسلی اور مذہبی تعصبات کو ہوا دی۔ عمومی تاثر یہ ہے کہ انگریزوں نے تقسیم کرو اور حکومت کرو کا فارمولا اختیار کر کے ہندوستان کے عوام کو تقسیم کیا' حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان کی ہندو، مسلم اور سکھ اشرافیہ خود تقسیم ہونا چاہتی تھی اور اس نے اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیے انگریز حکومت کا سہارا لیا۔ اس اشرافیہ نے مذہب کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا' اس تعصب' نفرت اور اشتعال انگیزی کا نتیجہ 1947ء کے فسادات کی شکل میں برآمد ہوا' ان فسادات میں ہندو' سکھ اور مسلم اشرافیہ کے ارکان کا جانی و مالی نقصان نہیں ہوا۔ عام اور بے گناہ سادہ لوح انسان فسادات کی نذر ہو گئے۔
آج ہندوستان اور پاکستان دونوں ملک انتہا پسندی کی فصل کاٹ رہے ہیں۔ پاکستان میں صورتحال اس لیے مختلف ہوئی کہ یہاں سے افغانستان کے میدان میں کپیٹل ازم نے کمیونزم کے خلاف جنگ لڑی۔ اس جنگ میں پاکستانی اسٹیبلشمنٹ نے امریکا اور اس کے اتحادیوں کا ساتھ دیا' کیپٹل ازم اور کمیونزم کے درمیان اس جنگ کا فیصلہ ہو چکا ہے' کیپٹل ازم فتح یاب ہو گیا ہے' امریکا دنیا کی واحد سپر پاور کا درجہ حاصل کر چکا ہے' کیپٹل ازم گلوبل نظام کی شکل اختیار کر رہا ہے' دنیا بھر کے ممالک مذہبی شدت پسند نظریات کو رد کر کے جیو اور جینے دو اور پر امن بقائے باہمی کے نظریات کو اختیار کررہے ہیں' اب اقلیتوں کے بارے میں روایتی تصورات تبدیل ہو رہے ہیں' امریکا میں اگر کوئی کالا ہے تو اسے اقلیت نہیں سمجھا جاتا ہے' اسی طرح رومن کیتھولک یا پروٹیسٹنٹ کی تفریق کو اقلیت اور اکثریت میں تقسیم نہیں کیا جاتا' یہ سب امریکن ہیں' سب کے آئین میں برابر حقوق ہیں' آئین میں کسی کو اقلیت قرار دے کر ان کے لیے کوئی خاص درجہ یا پہچان مقرر نہیں ہے'البتہ کوئی تعداد میں کم یا زیادہ ضرور ہوسکتا ہے۔
اب برصغیر کے عوام کو بھی دنیا کے تبدیل ہوتے ہوئے نظریات میں زندہ رہنا ہے۔ 1947ء میں جو تقسیم ہوئی' اسے برقرار رکھتے ہوئے دونوں ملکوں کو ایک دوسرے کے قریب آنا چاہیے' سکھوں اور ہندوئوں کے پاکستان میں مقدس اور تاریخی مقامات ہیں' اسی طرح ہندوستان میں مسلمان بزرگوں' اولیاء اللہ اور اہل علم کی درگاہیں اور یاد گاریں موجود ہیں۔ مسلم حکمرانی کے تاریخی آثار بھی بھارت میں موجود ہیں۔ یوں دیکھا جائے تو دونوں ملکوں کے درمیان اچھے تعلقات وقت کی اہم ضرورت ہے۔ پاکستان اور بھارت اگر چاہیں تو وہ ایک دوسرے کے ہاں آنے جانے والے غیر مسلم یاتریوں اور مسلمان زائرین کے ذریعے اربوں روپے کا زرمبادلہ کما سکتے ہیں۔ سکھ مذہب کے بانی بابا گرونانک جی کا جنم استھان پاکستان میں ہے' لاہور' راولپنڈی' پشاور اور پاکستان کے دیگر شہروں میں سکھوں کے مقدس مقامات ہیں' پاکستان کی حکومت کو چاہیے کہ وہ پاکستان آنے والے سکھ یاتریوں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کرے' یاتریوں کو زیادہ سے زیادہ تعداد میں ویزے فراہم کیے جائیں ۔
اسی طرح ٹیکسلا بدھ مت کے پیروں کاروں کے لیے بہت زیادہ کشش رکھتا ہے۔ ٹیکسلا اور صوبہ خیبر پختونخوا میں بدھ مت اور ہندو مت کی قدیم یاد گاریں موجود ہیں' ان کی تزئین و آرائش کی جائے تو ٹیکسلا اور دیگر شہروں میں بڑے بڑے ہوٹلوں کی تعمیر کے لیے بھاری سرمایہ کاری آ سکتی ہے۔ یوں پاکستان میں جاپان' کوریا' تھائی لینڈ' چین' کمبوڈیا وغیرہ سے ہزاروں بدھ سیاح پاکستان کے لیے کروڑوں ڈالر کے زرمبادلہ کا سبب بن سکتے ہیں۔ وزیراعظم پاکستان نے لاہور میں سکھوں کے روبرو جو باتیں کی ہیں' وہ عہد جدید کا تقاضا ہے' اس کے لیے ضرورت اقدامات کی ہے' محض باتو ںسے مسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔