نہ جانے کس کس ملک کے لوگ آکر بیٹھ گئے پاکستان میں دہشت گردی کی حد ہو گئی چیف جسٹس

کوئی ملک چھوٹا ہو یا بڑا اپنی خود مختاری پر کبھی سمجھوتا نہیں کرتا، ریکوڈک کیس میں ریمارکس


Numainda Express December 04, 2012
کوئی ملک چھوٹا ہو یا بڑا اپنی خود مختاری پر کبھی سمجھوتا نہیں کرتا، ریکوڈک کیس میں ریمارکس۔ فوٹو: فائل

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے ملک چھوٹا ہو یا بڑا وہ اپنی خود مختاری پر کبھی سمجھوتا نہیں کر تا،کسی ملک میں داخل ہونے سے پہلے ویزا حاصل کیا جا تا ہے۔

لیکن خیبر پختون خوا اور بلوچستان میں پتہ نہیں کس کس ملک کے لوگ غیر قانونی طور پر آکر بیٹھ گئے ہیں، بین الاقوامی دہشت گردی کے بعض واقعات میں بھی ان لوگوں کا نام لیا جا تاہے۔ یہ ریمارکس انھوں نے ریکوڈک کیس کی سماعت کے دوران دیے ہیں۔ پیر کو ٹتھیان کمپنی کے وکیل خالد انور نے چیف جسٹس کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ کو بتایا کہ حکومت بلوچستان نے معاہدے کو شفاف قرار دیا جبکہ حکومت پاکستان کا کہنا ہے کہ اس معاہدے سے اس کا کوئی تعلق نہیں، یہ صوبائی معاملہ ہے اور صوبے کی حکومت نے قانون کے مطابق معاہدہ کیا ہے۔

جسٹس شیخ عظمت سعید کا کہنا تھا کہ کسی بھی ملک کی دولت پر اس ملک کی حکومت کا حق ہو تاہے اور اس بارے کسی بھی معاہدے کے لیے وفاقی حکومت سے منظوری لازمی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا پاکستان ایک خود مختار ملک ہے،کوئی بھی رعایت قانون کے اندر ہونی چاہیے،انھوں نے کہا پاک بھارت معاہدوں میں قانون کے فریم ورک کو مد نظر رکھا جاتا ہے، ملک کو چھوٹا ہو یا بڑا اس میں داخل ہونے سے پہلے ویزا لینا پڑتا ہے ویزا ختم ہونے پر جیل بھی جانا پڑ سکتا ہے۔

1

چیف جسٹس نے کہا راحت فتح علی خان اور عدنان سمیع خان بہت بڑے لیجنڈ ہیں لیکن جب قانون آڑے آیا تو بھارت میں ان کے خلاف کاروائی ہوئی۔ چیف جسٹس نے کہا پاکستان میں پتا نہیں کہاں کہاں سے لوگ آکر بیٹھ گئے ہیں۔ دہشت گردی میں بھی ان کا نام لیا جتا ہے۔

خالد انور کا کہنا تھا کہ بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ ہمیشہ سے امتیازی سلوک ہو تا ہے یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے رشتے داروں کی دعوت پر کبھی بھی بھارت نہیں گئے۔ انھوں نے کہا جہاں مسلمانوں سے اچھا سلوک نہیں ہو تا وہ وہاں نہیں جاتے۔خالد انور نے کیس پر دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا سپریم کورٹ نے 25مئی 2011کو بلوچستان حکومت کو ہدایت کی تھی کہ ٹیتھیان کی مائننگ کی درخواست پر شفاف کارروائی کی جائے لیکن بلوچستان حکومت نے درخواست مسترد کر کے حکومت پاکستان کو مشکل میں ڈال دیا۔

انھوں نے کہا درخواست مسترد کر کے پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان سرمایہ کاری کے معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی ہے، جس پر ٹیتھان عالمی ثالثی عدالت میں گئی۔ خالد انور نے اپنے دلائل کے دوران ایک نیا نکتہ اٹھایا اور کہا مشترکہ معاہدہ اور قواعد میں نرمی کے الزامات بی ایچ پی پر ہیں، قواعد میں نرمی کا ٹیتھیان سے کوئی تعلق نہیں،انھوں نے کہا جو حقوق بی ایچ پی کو حاصل ہیں وہی ٹیتھیان کو حاصل ہوں گے۔چیف جسٹس نے کہا اس دلیل کو اگر مان لیا جائے تو پھر معاہدوں کا جائزہ لینے کی ضرورت نہیں۔

کیونکہ اصل پارٹی بی ایچ پی ہے اور ٹیتھیان کو پاکستان میں کاروبار کی اجازت بی ایچ پی کے ساتھ معاہدوں کی وجہ سے ملی۔ چیف جسٹس نے سوال اٹھایا کیا حکومت بلوچستان کو اب تک کوئی منافع ملا ہے جس پر ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان نے کہا کمپنی پہلے قرضہ چڑھائے گی کچھ بچے گا تو منافع ملے گا۔چیف جسٹس نے کہا ہمیشہ سوچ سمجھ کر معاہدے کر نے چاہئیں۔مقدمے کی سماعت آج بھی جاری رہے گی۔