مودی جیآپ کو دوبارہ ’ تلوار‘ نہیں ملنے والی…

8 جولائی کو کشمیری نوجوانوں کی شہادت سے اس جدوجہد آزادی میں نیا جوش و ولولہ پیدا ہوا ہے


Editorial August 17, 2016
مودی جی آپ کو دوبارہ تلوار نہیں ملے گی بلکہ کشمیر کے ساتھ ساتھ دیگر آزادی کی تحریکیں کامیاب ہوں گی اور بھارت کے ٹکر ے ٹکرے ہوں گے۔ فوٹو : اے ایف پی

تھا تو بھارت کا یوم آزادی، لیکن کشمیری دنیا بھر میں یوم سیاہ منا رہے تھے، ہمیشہ کی طرح، مقبوضہ کشمیر کے درودیوار پربھارت مخالف نعرے درج تھے پاکستانی پرچم ہر گھر کی چھت پر لہرا رہا تھا، یاد رہے مقبوضہ کشمیر میں آزادی کی نئی لہرکے باعث چالیس دن سے کرفیو نافذ ہے۔ادھر بھارت کے وزیراعظم نئی دلی میں بے تکان بولے، اپنی ناکامیوں کا ملبہ بطورعلت پاکستان پر ڈالا کہنے لگے پاکستان میں دہشت گردوں کے گنْ گائے جاتے ہیں اوروہاں کی حکومت دہشت گردی کے نظریے سے متاثر ہے، بلوچستان، آزادکشمیر اورگلگت بلتستان کے عوام نے ان کے لیے آوازاٹھانے پر میرا اور بھارتی قوم کا شکریہ ادا کیا ہے۔ یہ ہرزہ سرائی انھوں نے لال قلعے میں فرمائی لیکن وہ یہ بھول گئے کہ لال قلعہ تو مسلمانوں کی عظمت رفتہ کی نشانی ہے۔

اپنی ناکامی اور خفت چھپانے کے لیے مودی نے جو بے سروپا باتیں کیں، اس پر بھارت کے چیف جسٹس ٹی ایس ٹھاکر نے کہا کہ مودی دوسروں کوچھوڑیں، اپنی خبر لیجیے، باتیں بڑی بڑی اور عمل صفر، مودی انھی لوگوں میں سے ایک ہیں۔ پاکستان کو تنقید کا نشانہ بنایا لیکن اپنے گریبان میں جھانک کرنہیں دیکھا ۔وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز کا کہنا ہے کہ بھارتی وزیراعظم مقبوضہ کشمیر میں حالیہ شدید المناک صورتحال سے دنیا کی توجہ ہٹانے کی کوشش کررہے ہیں۔جب کہ سابق بھارتی وزیر خارجہ سلمان خورشید نے کہا کہ بلوچستان پربھارت کاکوئی دعویٰ ہی نہیں یہ پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے۔ دراصل حقیقت یہ ہے کہ کشمیر پر بھارت کا ناجائز تسلط اس مسئلے کا اقوام متحدہ کی قراردوں کے مطابق حل نہ ہونا،ایک سوالیہ نشان ہے،ایک لاکھ سے زائد کشمیروں کا لہو انصاف کا طلبگار ہے، یقیناً ان کے لہو سے ہی کشمیرکی آزادی کا چراغ روشن ہوگا ۔8 جولائی کو کشمیری نوجوانوں کی شہادت سے اس جدوجہد آزادی میں نیا جوش و ولولہ پیدا ہوا ہے۔

اس توجہ ہٹانے کے لیے مودی نے بلوچستان کا ذکر بھی کرڈالا،کیونکہ وہاں بھارتی خفیہ ایجنسی را سی پیک کے خلاف کام کررہی ہے اس کا جواب وزیراعلیٰ بلوچستان ثناء اللہ خان زہری نے دوٹوک انداز میں دیا۔ دراصل مودی کے دامن پرگجرات کے معصوم مسلمانوں کے خون سرخ دھبے ہیں، وہ تو 'بنگلہ دیش' کی آزادی کے لیے اپنی نوجوانی میں مکتی باہنی کے ساتھ مل کر کام کرنے پر ایوارڈ اورآزادی کی تلوار بھی حکومت بنگلہ دیش سے لے چکے ہیں۔ لہذا وہ اب بھی یہی سوچتے ہیں کہ بلوچستان آزاد ہوجائے گا لیکن انھیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اب کی بار ایسا نہیں ہوگا مودی جی آپ کو دوبارہ تلوار نہیں ملے گی بلکہ کشمیر کے ساتھ ساتھ دیگر آزادی کی تحریکیں کامیاب ہوں گی اور بھارت کے ٹکر ے ٹکرے ہوں گے۔