بلدیاتی اداروں کو بااختیار بنائیں

جمہوریت اورجمہورکی گردان کرنے والی حکومتوں کا یہ المیہ رہا ہے کہ انھوں نے کبھی بلدیاتی انتخابات نہیں کرائے


Editorial August 17, 2016
بلدیاتی ادارے جمہوریت کی نرسری ہیں انھیں پروان چڑھنے دیں تو ملک میں جمہوریت مضبوط ہوگی اور عوام کو ریلیف ملے گا۔ فوٹو: فائل

کفرکفرٹوٹا خدا خدا کر کے، کے مصداق بالاخرطویل اورصبرآزما کٹھن مراحل کے بعد الیکشن کمیشن نے بلدیہ عظمیٰ کر اچی کے میئروڈپٹی میئر اورضلع چیئرمین، وائس چیئرمین کے انتخابات کے شیڈول کا اعلان کردیا ہے۔

جمہوریت اورجمہورکی گردان کرنے والی حکومتوں کا یہ المیہ رہا ہے کہ انھوں نے کبھی بلدیاتی انتخابات نہیں کرائے،عوام کو نچلی سطح پر بااختیار بنانے کے لیے اگر کچھ کام ہوا ہے تو وہ آمرانہ حکومتوں کے دور میں ہوا ہے۔ بلدیاتی نظام کی بحالی کے لیے ایک طویل عدالتی جنگ لڑی گئی، سپریم کورٹ کے حکم پر انتخابات ہوئے اور پھر بھی ہر ممکنہ کوشش کی گئی کہ بلدیاتی نظام بحال نہ ہو ۔عوامی مسائل میں کئی سوگنا اضافہ ہوگیا ، شہریوں کا کوئی پرسان حال نہیں ۔وہ کس کے پاس جائیں کسے اپنا دکھڑا بیان کریں۔ ارے یہ جمہوریت تو نہ ہوئی ، کراچی کے عوام تو رل گئے، پانی ، سیوریج ، بجلی ، سڑکیں ، صفائی ستھرائی کا نظام چوپٹ اور اندھیرنگری بنا روشنیوں کا شہر ۔خبر چھپی ہے کہ اب میئرکے عہدے کے لیے 4 امیدوار اورڈپٹی میئر کے لیے 3 امیدوار میدان میں رہ گئے ہیں، میئرشپ کے لیے ایم کیوایم نے وسیم اختر اور پیپلزپارٹی نے کرم اللہ وقاصی کو ٹکٹ جاری کردیا، الیکشن کمیشن کے مطابق 24اگست کو پولنگ ہوگی، 25اگست کو نتائج کا اعلان ہوگا جب کہ 30اگست کو میئر وڈپٹی میئر ضلع چیئرمین ووائس چیئرمین حلف اٹھائیں گے۔

جماعت اسلامی ، متحدہ قومی موومنٹ ، مسلم لیگ ن، پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف سمیت تقریبا تمام سیاسی جماعتوں نے بلدیاتی انتخابات میں حصہ لیا اور مختلف اضلاع میں ان کی پارٹی پوزیشن بھی مستحکم ہے، کراچی کے پانچ اضلاع میں مقابلے انتہائی دلچسپ اور سخت ہونگے ۔امید ہے یہ مرحلہ بھی بخیروخوبی طے ہو جائے گا،لیکن اصل مسئلہ ان تمام مراحل کے مکمل ہونے کے بعد کا ہے۔ کیا بلدیاتی نمایندوں کو وہ تمام اختیارات حاصل ہونگے جو آئین اور قانون کے مطابق درج ہیں یا پھرجمہوریت کے چیمپئن روایتی ٹال مٹول سے کام لیں گے ۔ شہرکراچی کی ترقی وخوشحالی کے لیے ضروری ہے کہ بلدیاتی اداروں کو کشادہ دلی سے اختیار دیے جائیں تاکہ عوام کے مسائل ان کے دروازے پر حل ہوں اور انھیں دربدر کی ٹھوکریں نہ کھانی پڑیں ۔ بلدیاتی ادارے جمہوریت کی نرسری ہیں انھیں پروان چڑھنے دیں تو ملک میں جمہوریت مضبوط ہوگی اور عوام کو ریلیف ملے گا۔