پاک افغان سرحدپر فورسز کی کارروائی

پاک فوج کے ذرایع کے مطابق پاک افغان سرحد پر آپریشن کا مقصد خیبر ایجنسی میں دہشتگردوں کی آمد و رفت روکنا ہے


Editorial August 18, 2016
پاک افغان سرحد طورخم پر نادرا ، کسٹمز اور ایف آئی اے نے اپنی ذمے داریاں سنبھال لی ہیں۔

PESHAWAR: خیبرایجنسی کی تحصیل جمرود کے دور افتادہ علاقے راجگل کوکی خیل میںعسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن خیبر تھری کا آغاز کر دیا گیا۔ بمباری سے 20 دہشتگرد ہلاک اور9 ٹھکانے تباہ کردیے گئے ، آئی ایس پی آر کے مطابق منگل کو نئے سرچ آپریشن کے لیے وادی راجگل میں مزید فوجی دستے تعینات کیے گئے ہیں جنھیں بلند پہاڑوں پر دہشت گردوں کی نقل و حمل روکنے کا ٹاسک دیا گیا ہے، فوجی دستے خیبرایجنسی کے تمام دروں میں دہشتگردوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھیں گے ۔

آپریشن خیبر تھری کا آغاز ایک گہرے تزویراتی ، زمینی اور فضائی حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے ،اس کے کثیرجہتی اہداف میں طورخم بارڈر پر نصب گیٹ کی تعمیر بھی اہمیت کی حامل ہے جس کے بعد پاک افغان سرحد پر دہشتگردوں کی کھلی نقل وحرکت کو کنٹرول کرنے میں نہ صرف مدد ملنے کی مثبت اطلاعات ہیں بلکہ خود افغان انتظامیہ بھی چشم حقیقت کھولے تو اس کے خطے میں امن واستحکام کے حوالہ سے مفید نتائج نکلیں گے۔

پاک فوج کے ذرایع کے مطابق پاک افغان سرحد پر آپریشن کا مقصد خیبر ایجنسی میں دہشتگردوں کی آمد و رفت روکنا ہے تاہم افغانستان کی داخلی صورتحال کی سنگینی بھی اس آپریشن کے ساتھ جڑی ہوئی ہے، پاکستان افغانستان کے امن اور اس کی سلامتی کو خطے کی ضرورت پہلے بھی قرار دے چکا ہے اور اس نے طالبان، چارملکی گروپ اور صدر اشرف غنی سے وسیع تر مذاکرات کے ذریعے قیام امن کی کوششیں کی ہیں، افغان معاشرے کو آسودگی، معاشی استحکام اور انتظامی ڈھانچہ کو اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کے قابل بنانے کے لیے بھی کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی مگر پاکستان کی ہر مخلصانہ اور بے لوث کوشش کو افغان حکومت اور انکل سام بدنیتی کی نگاہ سے دیکھنے کے عادی ہو چکے ہیں چنانچہ تمام تر کوششوں اور نیٹو کی جنگی کارروائیوں کے باوجود دنیا کی عظیم جنگی مشین افغانستان کو امن و استحکام کا تحفہ نہیں دے سکی اور نہ دے سکتی ہے کیونکہ افغانستان کا پہاڑی اور صحرائی علاقہ اور اس کے خطرناک درے، پر پیچ راستے، جنگی اور گوریلا حکمت عملی کے لیے طالبان کا ہولناک ہتھیار ہیں، پاک فوج پہلی قوت ہے جس نے طالبان کی ہلاکت خیزی کو اس کے ہوم گراؤنڈ پر دفن کردیا ہے۔

افغان انتظامیہ نے ایک خیرسگالی کا پیغام ضرور دیا جب اس کے جرگے نے افغانستان میں کریش لینڈنگ کرنے والے ہیلی کاپٹر عملے کی بازیابی میں مدد دی ، اسی طرز عمل کی دہشتگردی کے خاتمہ کے لیے بھی دونوں برادر پڑوسی ملکوں کو ضرورت ہے کیونکہ جب تک پاکستان کی مفاہمتی و مصالحتی کوششوں کو بریک تھرو کا موقع نہیں دیا جاتا امن ایک پریشاں خواب رہے گا۔

افغانستان کے داخلی عدم استحکام سے یہ خطرہ اپنی جگہ قابل غور ہے کہ دہشتگرد پاکستان کا رخ کرتے رہیں گے، افغان حکومت نے پاکستان کی استدعا کے باوجود ملا فضل اللہ اور دیگر طالبان کمانڈروں کو پاکستان کے حوالے نہیں کیا ، یہ مفرور عناصر پاک افغان سرحد کو اپنے گھناؤنے مقاصد کے لیے آج بھی استعمال کر رہے ہیں، فورسز کی زمینی و فضائی پیش قدمی سے دو فائدے ہونگے ، ایک دہشتگردوں کی نقل و حرکت رک جائے گی اور افغان حکومت کو یہ فیصلہ کرنے کی مہلت اور سانس لینے کا موقع مل جائے گا کہ اسے داخلی انتشار اور دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے پاکستان پر الزامات کی سیاست سے اجتناب برتنا ہوگا تاکہ خطے میں دہشتگردی کے خلاف پاک افغان مشترکہ کارروائیوں کا طاقتور میکنزم وضع کیا جا سکے۔

اس لیے فوجی دستوں کی تعیناتی پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کی جانب سے کوئٹہ دھماکے کے بعد فورسز کو ملک کے ہر حصے میں کومبنگ آپریشن تیز کرنے کے حکم پر عمل میںلائی گئی ہے۔ اس سٹریٹجی کو ملک کے دوسرے حساس شہروں اور دور افتادہ علاقوں تک پھیلانے کی ضرورت ہے کیونکہ دہشتگردوں کے سیف ہیون شہروں سے کافی دور بھی بنائے گئے ہیں۔ سیکیورٹی فورسز کے ذرایع کے مطابق راجگل تیراہ آفریدی قبیلے کی ذیلی شاخ کوکی خیل کا علاقہ ہے جس کی سرحد افغانستان کے علاقے ننگرہار سے ملی ہوئی ہے، واضح رہے کہ تین سال پہلے عسکریت پسند تنظیموں نے علاقے پر حملہ کرکے یہاں پر قبضہ کر لیا تھا جس کے بعد30 ہزار سے زائد کوکی خیل قبیلے کے افراد نے اپنے گھر بار چھوڑ کر جمرود میں پرامن علاقوں اور پشاور کی طرف نقل مکانی کی تھی۔

بی بی سی کے مطابق اس دور افتادہ علاقے میں کئی شدت پسند تنظیمیں سرگرمِ عمل ہیں جن میں لشکرِ اسلام، تحریکِ طالبان پاکستان اور دوسری تنظیمیں شامل ہیں جن کے ارکان علاقے کے جغرافیے سے فائدہ اٹھا کر آسانی سے سرحد کے پار آتے جاتے رہتے ہیں۔اب جب کہ اس خطرناک راہداری کو چیک کرلیا گیا ہے اس لیے یہ عناصر کوئی دوسرا راستہ تلاش کرنے کے جتن کریں گے، ان کے موجودہ آپریشن کے خلاف رد عمل سے بھی ہوشیار ہونے کی ضرورت ہے، وہ سافٹ اہداف کی طرف رجوع کرسکتے ہیں اور ایسا کرتے آئے ہیں۔

ان منفی قوتوں کو شفاف ترین ہوم لینڈ پالیسی اور حکمت عملی کے تحت گھناؤنی وارداتوں سے روکا جاسکتا ہے۔ پاک فوج دہشتگردی کے خلاف ثابت قدمی سے کارروائیاں کررہی ہے ، تمام وزارتوں کو ہدایت ملنی چاہیے کہ وہ دہشتگردی کے خلاف قومی کاز کے لیے مشترکہ کارروائیوں کو نتیجہ خیز بنائیں۔ یہ خوش آیند بات ہے کہ فوج کو اس کے کام پر سیاسی اور عوامی حمایت بھی مل رہی ہے ، حکومت درست سمت میں اقدامات کرنے کے لیے مشاورت سے کام لے تاکہ سیاسی و عسکری قیادت کے بارے میں جو افواہیں اڑائی جا رہی ہیں وہ دم توڑ دیں ، اسی ضمن میں جنرل راحیل شریف نے میجر جنرل عابد مجید' ڈی آئی جی فیاض سنبل ' آئی ایس آئی کے انسپکٹر کامران نذر پر حملوں' فرقہ وارانہ قتل' عام شہریوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کے اغواء اور قتل سمیت دہشتگردی کی دیگر سنگین کارروائیوں میں ملوث مزید 11دہشتگردوں کی سزائے موت کی توثیق کر دی ہے۔

ایک خوش آیند اطلاع پولیٹیکل ایجنٹ خیبر ایجنسی کیپٹن ریٹائرڈ خالد محمود نے دی ہے ، ان کا کہنا ہے کہ بارڈر مینجمنٹ کے بعد غیرقانونی طور پر پاکستان داخل ہونے والے افغان شہریوں کا سلسلہ تھم گیا ہے تاہم دونوں اطراف کے شہری اب قانونی دستاویزات کے ذریعے ہی سرحد کے آر پار جا رہے ہیں، پاک افغان سرحد طورخم پر نادرا ، کسٹمز اور ایف آئی اے نے اپنی ذمے داریاں سنبھال لی ہیں اور ایک دوسرے ملک آنے جانے والوں کی تعداد جو کم ہو گئی تھی بتدریج بڑھنے لگی ہے۔افغان مہاجرین کی وطن واپسی کے لیے وزارت سیفران نے بھی اعلیٰ سطح کا اجلاس بلانے کا فیصلہ کر لیا، اس اجلاس میں افغان مہاجرین کو حالیہ مہینوں میں درپیش مشکلات کا جائزہ لیا جائے گا، یوں فاٹا سمیت پاک افغان سرحد دہشگردوں سے محفوظ بنائی جا سکے گی۔