متحدہ کے تحفظات دور ہونے چاہئیں

ایم کیوایم کی جانب سے کارکنوں کی گرفتاریوں اور چھاپوں کے خلاف کراچی پریس کلب پر تادم مرگ بھوک ہڑتال شروع کر دی گئی۔


Editorial August 19, 2016
ایم کیوایم کی جانب سے کارکنوں کی گرفتاریوں اور چھاپوں کے خلاف کراچی پریس کلب پر تادم مرگ بھوک ہڑتال شروع کر دی گئی۔ فوٹو؛ ایکسپریس

متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے کارکنوں کی گرفتاریوں اور چھاپوں کے خلاف کراچی پریس کلب پر تادم مرگ بھوک ہڑتال شروع کر دی گئی ہے۔ بھوک ہڑتالی کیمپ سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ بھوک ہڑتال بھی انتہائی اقدام کا ایک طریقہ ہے، سب اپنے اپنے مفادات کی سیاست کر رہے ہیں۔ کراچی کی صورتحال کے پیش نظر ارباب اختیار کو متحدہ کے تحفظات دور کرنے کے لیے سیاسی مذاکرات شروع کرنے چاہئیں کیونکہ شہر قائد مزید بدامنی کا متحمل نہیں ہو سکتا، احتیاط کی جائے کہ میئر کے انتخابات سے قبل ان کے اختیارات سلب کرنے اور کراچی میں صفائی اور دیگر انتظامات بلدیاتی اداروں سے لے کر سندھ حکومت کے حوالہ کرنے کی اطلاعات بیک فائر نہ کریں، ہر کام سیاسی تدبر سے ہونا چاہیے۔

نئی سندھ حکومت کی اولین کوشش ہونی چاہیے کہ شکایات کا ازالہ ہو، یہ حقیقت ہے کہ رینجرز اور پولیس کی کارروائیوں سے کراچی میں دہشتگردی، ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری اور اغوا برائے تاوان سمیت مافیاؤں، کالعدم تنظیموں کی ملک دشمن سرگرمیوں اور سٹریٹ کرائمز کی شرح کم ہوئی ہے۔ سیاسی ڈائیلاگ کا در کھلا رہنا چاہیے، شہر قائد کے شراکت داروں، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور خاص طور پر نئے وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ کو متحدہ سے بات چیت شروع کرنی چاہیے، متحدہ کوشش کر رہی ہے کہ وزیراعظم نوازشریف کو اپنے تحفظات سے آگاہ کرے، وزیراعظم نوازشریف آج (جمعہ کو) ایک روزہ متوقع دورے پر کراچی پہنچ رہے ہیں۔

ادھر قومی اسمبلی میں ایم کیوایم کے ڈپٹی پارلیمانی لیڈر خالد مقبول نے کہا ہے کہ اگر ہمیں وقت دیا گیا تو متحدہ وزیراعظم کو اپنے کارکنان کی گرفتاریوں اور انھیں ماورائے عدالت قتل کیے جانے جب کہ متحدہ کے تحفظات دور کرنے کے لیے بنائی گئی تحفظات ازالہ کمیٹی فعال کرنے کے لیے بات کرے گی۔ متحدہ کی رابطہ کمیٹی نے پاناما لیکس پر اپوزیشن جماعتوں کی ٹی او آرز کمیٹی سے لاتعلقی کا اعلان کیا ہے جب کہ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے متحدہ کو یقین دلایا ہے کہ سندھ حکومت سے بات کریں گے۔