امریکا بلوچستان میں بھارتی مداخلت روکے

امریکا نے پاکستان کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ بلوچستان کی آزادی کی حمایت نہیں کرتا۔


Editorial August 26, 2016
امریکا نے پاکستان کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ بلوچستان کی آزادی کی حمایت نہیں کرتا۔ فوٹو؛ فائل

امریکا نے پاکستان کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ بلوچستان کی آزادی کی حمایت نہیں کرتا۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان مارک ٹونر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکی حکومت پاکستان کی علاقائی سالمیت اور قومی وحدت کا احترام کرتی ہے اور بلوچستان کی آزادی کی حمایت نہیں کرتی۔ ہم پاکستان میں تمام جماعتوں پر زور دیتے رہے ہیں کہ وہ اپنے اختلافات کو جائز سیاسی عمل اور پرامن طریقے سے حل کریں۔ سیاسی مبصرین امریکی یقینی دہانی پر کتنا بھروسہ کرتے ہیں یا ہمارے ارباب اختیار کا بلوچستان کے ایشو پر امریکی انوالومنٹ پر انداز فکر کیا ہے۔

اس کو جاننے میں کسی راکٹ سائنس کی ضرورت نہیں، کیونکہ امریکی ایوان نمایندگان اور بعض سنیٹروں نے بلوچستان کے مسئلہ کو سب سے پہلے ہائی لائٹ کیا اور بلوچستان کے شورش پر بلوچ تارکین وطن کے ان عناصر سے قریبی روابط پیدا کیے جو آزاد بلوچستان کے نعرے کے ساتھ امریکی اشیرباد کے حصول میں سرگرم ہیں، بلوچستان کی اصل صورتحال وہ نہیں جو امریکی تجزیہ کار سلیگ ہیریسن نے اپنی پرانی کتاب میں لکھی ہے ، حالات اب بہت تبدیل ہوئے ہیں ، کئی جنگجو ہتھیار ڈال چکے ہیں، بلوچوں کی نئی نسل نئے قومی آدرش کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے، اور آزاد بلوچستان کے نعرہ کی لہر چراغ کی آخری ٹمٹماہٹ ہے، اس لیے آج کی تبدیل شدہ زمینی صورتحال میں امریکی حکام کا یہ کہنا کہ وہ آزاد بلوچستان کی حمایت نہیں کرتے ایک خوش آیند یقین دہانی ہے جسے عملی شہادتوں کی بھی ضرورت ہے۔

جہاں تک آزادی اظہار رائے اور عوامی اجتماع کے حق کی حمایت اور احترام کا معاملہ ہے پاکستان نے اس حق کی کبھی تردید نہیں، دوسری طرف ترجمان نے بھارت اور پاکستان پر زور دیا کہ وہ جنوبی ایشیا میں کشیدگی ختم کرنے کے لیے مذاکرات بحال کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارا دیرینہ موقف یہی ہے کہ تعلقات کی بحالی اور عملی تعاون بھارت اور پاکستان دونوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہوں گے ، انھوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں میڈیا ہاؤسز پر حملے اور سیاسی کارکنوں کی گرفتاری کی خبروں سے آگاہ ہیں۔ جمہوری معاشرے میں تنقید کی حوصلہ افزائی کی جانے چاہیے۔ امریکی انتظامیہ سے عالمی رائے عامہ یہ بھی توقع رکھتی ہے کہ وہ خطے میں ان قوتوں کی منفی سرگرمیوں کے تدارک کے لیے عملی طور پر کوششوں میں پاکستان کا ساتھ دے ، دہشتگردی کے خلاف ٹھوس موقف اختیار کرے اور اسے بھارت کو بلوچستان میں مداخلت سے روکنا چاہیے۔