کشمیریوں پر بھارتی مظالم کو عالمی سطح پر اٹھایا جانا چاہیے

بھارت کی ہر ممکن کوشش ہو گی کہ وہ پاکستانی حکومت کے منصوبوں کو ناکام بنائے اور خطے میں اپنی بالادستی قائم کرے


Editorial August 29, 2016
بیرون ممالک میں پاکستان کے سفارتکار اور کمیشن پہلے ہی سے موجود ہیں ان کی کارکردگی کو بھی بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ فوٹو: فائل

وزیراعظم میاں محمد نوازشریف نے مقبوضہ کشمیر میں وحشیانہ بھارتی مظالم اور انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزیوں کودنیا کے مختلف ممالک میں اجاگرکرنے کے لیے22/20 ارکان پارلیمان کو خصوصی نمایندہ نامزد کیا ہے۔

وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا کہ انھوں نے کشمیر کا مقدمہ لڑنے کے لیے ان ارکان پارلیمان کو دنیا کے مختلف حصوں میں بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے، وہ دنیا بھر میں کشمیرکاز کو اجاگر کرنے کی سرتوڑ کوششوں میں خصوصی نمایندوں کی پشت پر کھڑے ہیں تاکہ آیندہ ستمبر میں اقوام متحدہ میں اپنے خطاب کے دوران بین الاقوامی برادری کے اجتماعی ضمیر کو جھنجوڑ سکوں، وہ اقوام متحدہ کو کشمیری عوام کے حق خودارادیت کا دیرینہ وعدہ یاد دلائیں گے اور بھارت پر واضح کرینگے کہ یہ بھارت ہی تھا جس نے تنازعہ کشمیر پر کئی عشروں قبل اقوام متحدہ سے رجوع کیا تھا لیکن وہ اپنا وعدہ پورا نہیں کررہا، کشمیریوں نے نسل در نسل صرف اور صرف ٹوٹے ہوئے وعدے اور بے رحم ظلم و استبداد دیکھا ہے۔

جس طرح بھارتی حکومت مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے مذاکرات کی میز پر آنے سے مسلسل انکاری اور اس کے ساتھ ساتھ مقبوضہ کشمیر میں ظلم و ستم کا بازار گرم کیے ہوئے ہے اس موقع پر وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے تنازع کشمیر کو اجاگر کرنے اور پوری دنیا کی حمایت حاصل کرنے کے لیے مختلف ملکوں میں ارکان پارلیمان کو بھیجنے کا فیصلہ کر کے بروقت اور صائب قدم اٹھایا ہے۔

نئے نامزد کیے گئے ارکان پارلیمنٹ مختلف ممالک کے دورے کر کے مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کی رپورٹ وزیراعظم کو پیش کریں گے۔ بھارت کو گمان تھا کہ چونکہ امریکا خطے میں اپنا اثرورسوخ بڑھانے کے لیے اس کی بے جا حمایت کر رہا ہے لہذا اس صورت حال میں وہ پاکستان کے مطالبات کو نظرانداز کر کے مسئلہ کشمیر پر اپنے من مانے فیصلے کرنے میں آزاد ہو گا اور پاکستانی حکومت کی کارکردگی صرف بیانات تک محدود ہو کر رہ جائے گی۔ اب وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی جانب سے مختلف ملکوں میں ارکان پارلیمنٹ کو بھیجنے کا فیصلہ بھارت کے لیے یقیناً غیر متوقع ہے یہی وجہ ہے کہ بھارتی میڈیا نے پاکستانی حکومت کے اس فیصلے پر چیختے چلاتے ہوئے اسے اشتعال انگیز اور اپنے ملکی معاملات میں مداخلت قرار دیا ہے۔

بھارت کی ہر ممکن کوشش ہو گی کہ وہ پاکستانی حکومت کے منصوبوں کو ناکام بنائے اور خطے میں اپنی بالادستی قائم کرے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پاکستانی حکومت اور کشمیر پر عالمی ضمیر جگانے کے لیے نامزد کیے گئے ارکان پارلیمنٹ کیا کردار ادا کرتے ہیں۔ ماضی میں مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کے لیے بنائی گئی کمیٹیوں کی کارکردگی کے تناظر میں معاملات کا جائزہ لیا جائے تو صورت حال تسلی بخش نہیں دکھائی دیتی۔ عوامی اور سیاسی حلقوں میں یہ بات زبان زد عام ہے کہ کشمیر کمیٹی کے ممبران سوائے بیرون ملک کے سیر سپاٹے اور شاپنگ کرنے کے کوئی کارکردگی نہیں دکھا سکے اور یہ ممبران ملکی خزانے پر بوجھ ہی ثابت ہوئے ہیں۔ کشمیر کمیٹی اب بھی موجود ہے لیکن سوال یہ ہے کہ اس نے موجودہ حکومت کے تین سالوں میں کیا کارکردگی دکھائی ہے' اس کا بھی احتساب ہونا چاہیے۔

اب نئے نامزد کیے گئے ارکان پارلیمنٹ کی کارکردگی پر کڑی نظر رکھنے کی ضرورت ہے یہ نہ ہو کہ وہ بھی پہلے سے قائم کشمیر کمیٹی کے ممبران کی طرح مختلف ممالک کے سیر سپاٹے کرنے کے بعد نام نہاد بہتر کارکردگی کی رپورٹ پیش کر کے حکومت اور عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کریں اور پاکستان کو ان اصحاب کے بیرون ملک قیام و طعام اور سفر اخراجات کی مد میں کروڑوں روپے کا نقصان ہو جائے۔ بھارتی ریشہ دوانیوں کا مناسب جواب دینے اور پاکستان کے خلاف اس کے پروپیگنڈے کو بے اثر کرنے کے لیے ناگزیر ہے کہ مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے خلوص دل سے کام کیا جائے۔

اس امر کا خدشہ ہے کہ بھارت پاکستان کی سالمیت کو نقصان پہنچانے کے لیے اپنی پراپیگنڈہ مہم اور سازشی عمل کو مزید تیز کرنے کی کوشش کرے گا جس کا واضح ثبوت ان خبروں سے ملتا ہے کہ بھارت نے پاکستان کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں مظالم کا معاملہ عالمی سطح پر اٹھانے پر سیخ پا ہوتے ہوئے جواباً بلوچستان کا معاملہ دنیا بھر میں اچھالنے کے لیے لائحہ عمل کی تیاری شروع کر دی ہے اس سلسلے میں بھارتی وزارت خارجہ سابق سفارتکاروں سے بھی رابطے کر رہی ہے۔

بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان وکاس سوارپ نے بھارتی اخبار کو بتایا کہ بھارت کو بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش ہے تاہم سفارتی محاذ پر اس کا اظہار کیسے کیا جائے گا اس کے لیے پالیسی وضع کی جا رہی ہے جو جلد سامنے آ جائے گی تاہم بھارت اپنا گیم پلان فی الحال ظاہر نہیں کر رہا۔ بھارت کے مذموم ارادوں سے عیاں ہوتا ہے کہ مسئلہ کشمیر پر بھارت اور پاکستان کے درمیان عالمی سطح پر سفارتی جنگ شروع ہونے والی ہے' اب دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان بھارتی چالوں کا جواب دینے کے لیے کس قدر متحرک اور فعال کردار ادا کرتا ہے اس کے لیے لازم ہے کہ سیاسی نوازشات کے بجائے اہل،محنتی اور مخلص افراد کا انتخاب کیا جائے۔ بیرون ممالک میں پاکستان کے سفارتکار اور کمیشن پہلے ہی سے موجود ہیں ان کی کارکردگی کو بھی بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔