پاک سینیگال تعاون خوش آیند پیش رفت

سینیگال کی معیشت مونگ پھلی اور ماہی گیری پر انحصار کرتی ہے


Editorial September 08, 2016

پاکستان اور سینیگال نے مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق کیا ہے۔ منگل کو وزیراعظم ہاؤس میں سینیگال کے صدر میکی سل نے وزیراعظم نواز شریف سے پہلے ون آن ون اور پھر وفد کی سطح پر ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران وزیراعظم نے دونوں ملکوں میں تجارت، زراعت، دفاع، انسداد دہشتگردی، انسانی اسمگلنگ کی روک تھام اور انٹیلی جنس شیئرنگ کے شعبے میں تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان سینیگال کو زراعت کے خصوصی شعبے میں تعاون فراہم کر سکتا ہے۔ سینیگال اور پاکستان کے درمیان اقتصادی اور دیگر شعبوں میں تعاون کا فیصلہ خوش آیند ہے ، ان دو طرفہ مذاکرات کا مقصد دونوں ملکوں میں خیر سگالی ، تجارتی و اقتصادی تعاون اور مشترکہ سرمایہ کاری کے نئے افق تلاش کرنا ہے۔

سینیگال افریقہ کا اہم ملک ہے جس کی اکثریت صوفی اسلام کے مسلک کی پیروکار ہے۔ سیاحت عالمی سطح پر انتہائی ترقی یافتہ قرار دی گئی ہے تاہم معیشت کی مجموعی صورتحال بنیادی اقتصادی اصلاحات کی مرہون منت ہے، عالمی مالیاتی اداروں کے تعاون سے سنیگال کی معیشت درآمدات کے بجائے اب خود انحصاری کی طرف مراجعت کے لیے پر تول رہی ہے۔ ملکی امداد اور عالمی مالیاتی اداروں کے اشتراک اور مالیاتی امداد کے باعث معیشت بہتر ہوئی ہے۔

وزیراعظم نے اسلام آباد میں سینیگال کا سفارتخانہ کھولنے کے سلسلہ میں سینیگال کے صدر کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سے دونوں ممالک کے درمیان تعاون مزید مستحکم ہو گا جب کہ وزیراعظم ہاؤس میں سینیگال کے صدر میکی سل کے ساتھ ون آن ون ملاقات کے دوران وزیراعظم نے سالانہ دو طرفہ تجارت کے موجودہ حجم 30.469 ملین ڈالر کو اس کی حقیقی صلاحیت کے ساتھ بڑھانے پر زوردیا۔ وزیراعظم نوازشریف نے کہا کہ سینیگال پاکستان کی پراڈکٹس بشمول چمڑا، چھوٹی انجینئرنگ کے سامان سے فائدہ اٹھائے، وزیراعظم نے صدر میکی سل کے اعزاز میں ایوان وزیراعظم میں استقبالیہ تقریب بھی دی۔وزیراعظم نے سینیگال کے طلبا کو اسکالر شپ کی پیشکش کی اور صدر میکی کو مارچ 2016 ء ریفرنڈم میں شاندار کامیابی پر مبارکباد دی۔سینیگال کو قدرت نے زرعی وسائل سے مالامال کیا ہے۔

سینیگال کی معیشت مونگ پھلی اور ماہی گیری پر انحصار کرتی ہے، فاسفیٹس اور دیگر سروسز اس کی تجارت میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔پاک سینیگال مشترکہ سرمایہ کاری کے نئے امکانات ڈھونڈنے اور دونوں ملکوں کے تاجروں ، ماہرین زراعت اور عوام کے مختلف وفود کے دوروں کا اہتمام کیا جائے تاکہ ثقافتی اور سماجی شعبوں میں بھی اشتراک عمل اور ایک دوسرے کے تجربات سے بخوبی فائدہ اٹھایا جاسکے۔