ڈیم کی تعمیر کے لیے امریکا کی امداد

پاکستان کو بجلی کی کمی پر قابو پانے کے لیے بڑے ڈیم کی اشد ضرورت ہے۔


Editorial December 07, 2012
بعض ماہرین کی رائے ہے کہ 10 ارب ڈالر کی لاگت سے تعمیر کیا جانے والا بھاشا ڈیم ملک میں بجلی کی کمی دور کر دے گا۔ فوٹو: فائل

وفاقی وزیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ ، جنھوں نے امریکا کے ایک ہفتے کا دورہ مکمل کرلیا ہے، انھوں نے واشنگٹن میں پاکستانی سفارتخانے میں پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ امریکا نے 10 ارب ڈالر کی لاگت والے دیامر بھاشا ڈیم منصوبے کے ابتدائی کام کے لیے 20 کروڑ ڈالر امداد دینے کا وعدہ کیا ہے۔ بھاشا ڈیم کے لیے امریکی امداد پاکستان میں بجلی کی پیداوار میں اضافے کے لیے دی جانیوالی دیگر امداد کے علاوہ ہو گی۔

وزیرخزانہ نے یہ بھی کہا کہ مستقبل میں پاکستان کو فوڈ سیکیورٹی کاکوئی خدشہ نہیں نیز ٹیکس ریونیو میں 350 ارب کا اضافہ ہوا، جی ڈی پی میں اعشاریہ چار پانچ فیصد اضافہ ہوا۔امید ہے آیندہ سال شرح نمو چار فیصد ہو جائے گی۔ حکومت نے کفایت شعاری سے چلنے کی کوشش کی ہے۔ ساڑھے چار سال میں حکومتی اخراجات کی شرح کم کی، مہنگائی کی رفتار میں بھی نمایاں کمی ہوئی ہے۔

دیامر بھاشا ڈیم پاکستان کی ترقی کا اہم منصوبہ ہے۔پاکستان کو بجلی کی کمی پر قابو پانے کے لیے بڑے ڈیم کی اشد ضرورت ہے۔ بعض ماہرین کی رائے ہے کہ 10 ارب ڈالر کی لاگت سے تعمیر کیا جانے والا بھاشا ڈیم ملک میں بجلی کی کمی دور کر دے گا۔ یوں دیکھا جائے تو اس ڈیم کی تعمیر جلد ازجلد ہونی چاہیے تاکہ ملک توانائی کے بحران سے نکل سکے۔ وفاقی وزیر خزانہ نے مزید بتایا کہ امریکا پاکستان کے پرانے ڈیموں کی مرمت وغیرہ کے لیے بھی مدد دے رہا ہے،پاکستان پرانے ڈیموں کی مرمت کا کام بھی فوری طور پر شروع کردے تو اس سے بھی توانائی کے بحران میں کمی ہو گی اور بجلی کی پیداوار میں 900 میگاواٹ کا اضافہ ہو سکتاہے ۔

دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر کی ابتدائی تیاریوں کے ضمن میں امریکا کی طرف سے دو سو ملین (دو کروڑ) ڈالر کی بطور تعاون پیشکش ایک مثبت بات ہے۔پاکستان کا ایک اہم ترین آبی منصوبہ صوبوں کی سیاست کی نذر ہوچکا ہے۔ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ڈیم کی ابتدائی تیاریوں پر 80 ارب روپے سے زائد رقم صرف ہو چکی ہے اور اگر اس کی تعمیر مکمل ہو گئی ہوتی تو اس وقت تک ملک کو 60کھرب سے زیادہ کا منافع حاصل ہو چکا ہوتا۔

بہرحال اب چونکہ یہ ڈیم اس وقت تک تعمیر نہیں ہوسکتا جب تک صوبوں کے درمیان اتفاق نہ ہولہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ اس متنازعہ منصوبے پر لڑائی جھگڑے کرنے کے بجائے وہ ڈیم تعمیر کیے جائیں جن پر جھگڑا نہیں ہے یا کم ہے۔ دیامر بھاشا ڈیم کا منصوبہ ایسا ہی ہے۔ اس پر تنازعات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اس لیے کوئی وقت ضایع کیے بغیر اس ڈیم پر کام کی رفتار تیز کرنی چاہیے تاکہ یہ اہم منصوبہ جلد مکمل ہوسکے اور ملک بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے عذاب سے نکل سکے۔