تیزی کے بعد مندی انڈیکس 16900 کی تاریخی حد چھو کر واپس

51 فیصد حصص کی قیمتیں گر گئیں، سرمایہ کاروں کو 13 ارب 56 کروڑ کا نقصان، انڈیکس 16.64 پوائنٹس کمی سے 16807.91 پر بند


Business Reporter December 08, 2012
سرگرمیوں کا دائرہ کار 376 کمپنیوں تک محدود، 159 کے بھائو میں اضافہ،191 کے داموں میں کمی، 26 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔ فوٹو : پی پی آئی

نئی مانیٹری پالیسی کے اعلان میں ممکنہ تاخیراور پرافٹ ٹیکنگ کے باعث کراچی اسٹاک ایکس چینج میں گزشتہ روز کاروباری صورتحال اتارچڑھائو کے بعد مندی کی لپیٹ میں رہی۔

تاہم مختلف شعبوں کی خریداری سرگرمیاں برقرار رہنے سے انڈیکس کی16800 کی حد مستحکم رہی، مندی کے سبب 51 فیصد حصص کی قیمتیں گرگئیں جبکہ سرمایہ کاروں کے13 ارب55 کروڑ86 لاکھ96 ہزار105 روپے ڈوب گئے، ٹریڈنگ کے ابتدائی سیشن کے دوران مختلف شعبوں کی سرمایہ تسلسل برقرار رہنے سے ایک موقع پر 79.43 پوائنٹس کی تیزی سے انڈیکس کی نئی تاریخی 16900 کی سطح بھی عبور ہوگئی تھی۔

اس دوران مقامی بینکوں ومالیاتی اداروں، این بی ایف سیزاور انفرادی سرمایہ کاروں کی جانب سے مجموعی طور پر64 لاکھ85 ہزار844 ڈالر مالیت کی تازہ سرمایہ کاری بھی کی گئی جس سے مارکیٹ کا مورال بلندی کی جانب گامزن رہا، لیکن کاروباری دورانیے میں غیرملکیوں کی جانب سے10 لاکھ27 ہزار298 ڈالر، مقامی کمپنیوں کی جانب سے35 لاکھ10 ہزار716 ڈالر، میوچل فنڈزکی جانب سے 9 لاکھ40 ہزار918 ڈالر اور دیگر آرگنائزیشنز کی جانب سے 10 لاکھ6 ہزار912 ڈالر مالیت کے سرمائے کا انخلا کیا گیا، جس سے تیزی مندی میں تبدیل ہوگئی۔ نتیجتاکاروبار کے اختتام پر کے ایس ای100 انڈیکس16.64 پوائنٹس کی کمی سے16807.91 ہوگیا۔

3

کاروباری حجم جمعرات کی نسبت 26.61 فیصد زائد رہا اور مجموعی طور پر31 کروڑ34 لاکھ27 ہزار 930 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار376 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا، جن میں 159 کے بھائو میں اضافہ 191 کے داموں میں کمی اور26 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔

جن کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ان میں نیسلے پاکستان کے بھائو155.85 روپے بڑھکر4800 روپے اور کولگیٹ پامولیو کے بھائو 69.86 روپے بڑھ کر 1467.09 روپے ہوگئے جبکہ یونی لیور فوڈز کے بھائو152 روپے کم ہوکر4138 روپے اور یونی لیور پاکستان کے بھائو 150.98 روپے کم ہوکر9802.47 روپے ہوگئے۔ لاہور سٹاک ایکسچینج میں بھی مندی کا رجحان رہا۔ مجموعی طور پر 108کمپنیوں کا کاروبارہوا ۔29 کمپنیوں کے حصص میں اضافہ،30کمپنیوں کے حصص میں کمی جبکہ49کمپنیوں کے حصص میں استحکام رہا ۔