کھاد کی ترسیل رک گئی گندم کی پیداوار متاثر ہونے کا خدشہ

ہڑتال کے باعث کراچی سے ہزاروں ٹن کھاد ڈسٹری بیوٹرز تک نہ پہنچائی جا سکی


Business Reporter December 09, 2012
کراچی میں واقع پلانٹ سے گزشتہ 6 یوم سے 25 ہزار ٹن سے زائد یوریا کی اپنے ڈسٹری بیوٹرز اور کسانوں تک ترسیل مکمل طور پر بند ہے، گڈز ٹرانسپورٹرز یونین فوٹو: اسٹاک

KARACHI: ٹرانسپورٹرزکی جاری ہڑتال کے باعث ملک بھر میں کھاد کی ترسیل کا عمل رک گیا ہے جس کے نتیجے میں گندم کی پیداوار بھی متاثر ہونے کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق ڈائی امونیم فاسفیٹ (ڈی اے پی) کی ترسیل بحال نہ ہوسکی توگندم کی کاشت کے عمل میں تاخیرہوگی جو قومی مفاد میں نہیں ہے۔ واضح رہے کہ ٹرانسپورٹرزکی جانب سے ٹرکوں کے اغوا،بھتہ خوری اورموٹر وے پولیس کی زیادتیوں کے خلاف 4 دسمبر سے غیر معینہ مدت کیلیے ہڑتال جاری ہے لیکن اس ہڑتال سے دیگر شعبوں کی طرح فرٹیلائزر انڈسٹری کی سرگرمیاں بھی بری طرح متاثر ہورہی ہیں۔

02

ذرائع کے مطابق ڈی اے پی کی ترسیل ایسے وقت میں متاثر ہوئی ہے کہ جب ملک بھر میں گندم کی بوائی تقریباً مکمل ہے اور کسان کھاد کے منتظر ہیں لیکن انہیں کھاد میسر نہیں ہے اور کھاد کی عدم فراہمی گندم کی پیداوارکو براہ راست متاثرکرے گی جس سے اس امر کا بھی خدشہ ہے کہ رواں سال ملک میں گندم کی پیداوار گزشتہ سال کے مقابلے میں کم ہو۔

فوجی فرٹیلائزر بن قاسم کے ذرائع نے بتایا کہ گڈز ٹرانسپورٹرز یونین کی ہڑتال کے باعث کمپنی کے کراچی میں واقع پلانٹ سے گزشتہ 6 یوم سے 25 ہزار ٹن سے زائد یوریا کی اپنے ڈسٹری بیوٹرز اور کسانوں تک ترسیل مکمل طور پر بند ہے، اس سے یہ حقیقت بھی ظاہر ہوتی ہے کہ بعض سیاسی عناصر حیدرآباد ٹول پلازہ پرٹرک ڈرائیوروں کو پریشان کرنے کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ اس مسئلے کے فوری حل کے لیے اعلیٰ حکام کی مداخلت ملکی مفاد میں ہوگی۔