ڈی جی رینجرزکے بیان کی وضاحت میرا کام نہیں وزیر اعلیٰ

22  اگست کے واقعات کی جیو فینسنگ کی گئی تھی، ایک بینک میں چھپنے والے دہشت گردوں کو گرفتار کر لیا، مراد علی شاہ کا خطاب


Staff Reporter September 24, 2016
22  اگست کے واقعات کی جیو فینسنگ کی گئی تھی، ایک بینک میں چھپنے والے دہشت گردوں کو گرفتار کر لیا، مراد علی شاہ کا خطاب، فوٹو؛ فائل

MULTAN: وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ 22 اگست کے پرتشدد واقعات کی جیو فینسنگ ہوئی تھی، ایک بینک میں چھپنے والے دہشت گردوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے، قومی بینکوں میں دہشت گردوں کی موجودگی کے حوالے ڈی جی رینجرز کے بیان کے بارے میں مجھے علم نہیں ہے اور نہ ہی ان کے بیان کی وضاحت کرنا میرا کام ہے۔

بینکوں کے معاملات وفاقی حکومت دیکھتی ہے، اگرکوئی امن وامان کا مسئلہ ہوتا ہے تواس سے نمٹناصوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے ۔ وہ جمعہ کو سندھ اسمبلی کے اجلاس میں تحریک انصاف کے رکن خرم شیر زمان کے توجہ دلاؤ نوٹس پر بیان دے رہے تھے ۔ خرم شیر زمان نے کہا کہ ڈی جی رینجرز کا ایک بیان جاری ہوا تھا کہ قومی بینکوں میں ٹارگٹ کلرز اور دہشت گرد موجود ہیں، ان میں سے کچھ گھوسٹ ملازمین ہیں، یہ بھی خدشہ ہے کہ بینکوں سے دہشت گردوں کے ذریعہ منی لانڈرنگ ہوتی ہے، حکومت نے ان کے خلاف کیا کارروائی کی۔

متحدہ قومی موومنٹ کے رکن جمال احمد کے توجہ دلاؤ نوٹس پر وزیر بلدیات جام خان شورو نے کہا کہ بلدیاتی اداروں کے منتخب میئرز، ڈپٹی میئرز، چیئرمینوںاور ڈپٹی چیئرمینوںکومالی اختیارات سونپ دیے گئے ہیں۔ انھوںنے کہا کہ ضلع وسطی کراچی کو 16.5کروڑ روپے سالانہ گرانٹ دی جاتی ہے۔ ایم کیو ایم کی خاتون رکن سمیتا افضل کے توجہ دلاؤ نوٹس پر وزیرکھیل سردارمحمد بخش مہرنے کہا کہ قائداعظم انٹرنیشنل گیمز2016 میںطلائی اور چاندی کے تمغے حاصل کرنے والے تمام کھلاڑیوںکوانعام کی رقم دے دی گئی ہے۔

ایم کیو ایم کے رکن سیف الدین خالدکے توجہ دلاؤ نوٹس پروزیرکھیل نے کہاکہ اورنگی ٹاؤن سیکٹر ساڑھے 11 میںواقع اسٹیڈیم کی تعمیرآئندہ مالی سال تک مکمل کرلی جائے گی۔ ایم کیوایم کے اسیر رکن رؤف صدیقی نے نکتہ اعتراض پربات کرتے ہوئے حکومت سندھ سے اپیل کی کہ میئرکراچی وسیم اخترسمیت تمام بے گناہ سیاسی اسیروں کو رہاکیاجائے۔ جیل میںقیدیوں کی مشکلات سن کر ہم اپنا غم بھول گئے ہیں، میںقیدیوںکاایک خط وزیر اعلیٰ اوراسپیکر کے نام لایا ہوں تاکہ ان کی داد رسی ہوسکے۔ انھوںنے کہاکہ کنورنوید جمیل، وسیم اختر، شیراز وحید، قمر منصورجیسے سیاسی اسیروںکو رہاکیاجائے۔

اپوزیشن لیڈر خواجہ اظہار الحسن نے کہا کہ سیاسی اسیروںکی تعداد سیکڑوں نہیں ہزاروں میں ہے، وہ اپنے مقدمات ختم ہونے کا انتظار کررہے ہیں، حکومت کوبڑے فیصلے کرناہوںگے۔ اجلاس میں ذوالفقار آباد ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ترمیمی) بل2016 کی منظوری پیر تک موخرکردی گئی۔ قبل ازیں سابق صوبائی وزراشرجیل انعام میمن اورسیداویس مظفرکی چھٹی کی درخواستیںمنظورکرلی گئیں، یہ درخواستیں وزیر ٹرانسپورٹ ناصر حسین شاہ نے اسمبلی میںپیش کیں۔ اسپیکر نے درخواستیں ایوان میںپیش کیںتودیگرتمام ارکان نے منظوری کی حمایت کی جبکہ صرف فنکشنل لیگ کی نصرت سحرعباسی نے مخالفت کی۔

دریں اثنا یونائیٹڈ نیشنز ڈیولپمنٹ پروگرام کے ریزیڈنٹ کوآرڈینیٹر نیل بومھے (Neil Bumhe) نے جمعے کو وزیر اعلیٰ سے ملاقات کی اورصوبے میںجاری یواین ڈی پی کے منصوبوں سے متعلق تبادلہ خیال کیا۔ دریں اثنا سکھر میںمیڈیا سے گفتگو، آبادگاروں، ادیبوں، شعرا کے وفود سے ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ سکھر کے ترقیاتی کاموں میں کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی، محکموں میں کرپشن کی تحقیقات کر رہے ہیں، بلدیاتی نمائندوں کو عوام کی خدمت کے لیے اختیارات دیے ہیں، سندھ کے حالات مزید بہتر ہوں گے، آبادگاروں کے مسائل حل کریں گے، انھوں نے کہا کہ غیر قانونی تعمیرات ختم کر کے لاکھین جو دڑو کے آثار محفوظ بنائے جائیں گے۔