عدلیہ کو احترام کرانا ہے تو فیصلوں پر نظر ثانی کرنا ہوگی کائرہ

عدالتوں نے ہماری حکومتیں گرائیں،منتخب وزیراعظم کوگھربھیجا،ہم عدالتوں کے ہاتھوں قتل ہوئے پھر بھی عزت کرتے ہیں


Staff Reporter December 10, 2012
کراچی: پیپلز یوتھ کے تحت ’’بیاد بے نظیر‘‘ سے وفاقی وزیر اطلاعات قمر کائرہ خطاب کررہے ہیں۔ فوٹو : ایکسپریس

وفاقی وزیراطلاعات اور پیپلز پارٹی کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات قمرزمان کائرہ نے کہا ہے کہ کالاباغ ڈیم ہویا صدرکے دو عہدے یہ سیاسی معاملات ہیں ان کوپارلیمنٹ میں دیاجائے،یہ عدالتی ایشوز نہیں۔

عدالتوں نے ہماری حکومتیں گرائیں،منتخب وزیراعظم کو گھر بھیجا،ہم ہی عدالتوں کے ہاتھوں قتل ہوئے پھربھی عدلیہ کی عزت کرتے ہیں لیکن عدالتوںکوبھی اپنااحترام کراناہے تواپنے فیصلوں پرنظرثانی کرناہوگی،ہم اس ملک میں سیاسی صدورچاہتے ہیں،سازشی صدور نہیں چاہتے کیونکہ اس ملک کوایک سیاسی صدرنے بنایاہے،ہم پرچارٹرڈ آف ڈیموکریسی پردستخط کرکے مکرجانے کے الزامات لگانے والوں نے آج پنجاب میں اسی سی او ڈی کی مخالفت کرکے وہاں دیگر سیاسی جماعتوں کے لوگوں کی وفاداریاں تبدیل کردیں،نواز شریف کوسیاست سے الگ کرنے کانہیں سوچ سکتے،پیپلزپارٹی کہیں نہیں جارہی،عوام کے ووٹوں سے آئندہ انتخابات میں فتح حاصل کرکے دوبارہ اقتدارمیں آئیں گے۔

اتوار کو پیپلز یوتھ آرگنائیزیشن،کراچی ڈویژن کے تحت مقامی ہوٹل میں ''بیاد بے نظیر'' ،بے نظیر بھٹو کاویژن، قومی مفاہمت اورامن کے عنوان سے منعقدہ سیمینارسے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہاکہ چارٹرڈآف ڈیموکریسی پردستخط کرکے شہید بینظیرنے اس ملک سے نفرت کی سیاست کاخاتمہ کیا اورتمام تر صعوبتیں برداشت کرنے کے باوجودنواز شریف کی جانب مفاہمت کا ہاتھ بڑھااورلندن میں چارٹرڈاور ڈیموکریسی پردستخط کیے،اس پرپیپلزپارٹی کے کارکنوں کوشدیدتحفظات تھے تاہم محترمہ نے درس دیاکہ ہمارے تحفظات اس ملک کی بقاوسالمیت سے بڑھ کرنہیں،آج بھی ہمارے اتحادمیں شامل جماعتوں کے ساتھ ماضی بہت تلخ رہاہے لیکن ہم نے تمام تلخیاں بی بی کے ویژن پربھلا دی ہیں،نفرتوںکوبڑھانے میں بہت کم وقت لگتاہے لیکن اسے کم کرنے میں بہت وقت لگ جاتاہے۔

صدرآصف زرداری نے بی بی کی شہادت کے بعد تمام سیاستدانوں کوایک پلیٹ فارم پر جمع کرنا شروع کیا اور اس پر ہم کئی الزامات کا سامناآج بھی کررہے ہیں،پرویز مشرف کو اگر ہم طاقت اورتلخیوں کے ذریعے ہٹاتے تو آج بھی اس ملک میں جمہوریت نہیں آتی اوریہ بات بھی کچھ لوگوں کو اچھی نہیں لگ رہی،ہم پنجاب کی حکومت کو گرا سکتے تھے لیکن آصف زرداری نے مفاہمتی سیاست کا قتل نہیں کیا۔انھوں نے کہا کہ عدلیہ کے ساتھ بھٹوسے لے کرآج تک ایک خاص فضارہی ہے،عدالت کے ساتھ ہماری کبھی نہیں بن پائی،تصادم کا خاتمہ ہی اس ملک کوبچانے کی سیاست کا حقیقی نظریہ ہے اوراس پر ہم عمل پیرا ہیں،آج ہمیں یہ طعنہ دیاجارہاہے کہ پیپلزپارٹی آنے والے انتخابات میں عوام کے پاس کیالے جائے گی توہم انہیں بتاناچاہتے ہیں کہ ہمیں 2008 میں جو پاکستان ملا تھا اسے 2013 میں ہم نے کیا بنایااس کا ہم جواب دینے کے ذمے دار ہیں، 2008میں پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ دہشتگردی تھا اسے نہیں بھولنا چاہیے،2008 میں مالاکنڈ تک طالبان آگئے تھے اور10 روز میں اسلام آباد پر قبضہ کی آوازدی جارہی تھی،ہر شہر میں روزانہ بموں کے دھماکے ہوتے تھے۔

2

روزانہ کئی کئی شہادتیں ہوتی تھی اورہماری افواج کے جنازے ہم رات کی تاریکیوں میں پڑھانے پر مجبورتھے، ہمیں ایسا پاکستان 2008 میں ملا تھا،آج پاکستان خوراک کے معاملے میں خود کفیل ہے بلکہ ہم لاکھوں ٹن خوراک بیرون ملک بھیجنے کے قابل ہوئے ہیں، آج اسٹاک مارکیٹ تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے اور یہ تیزی بیرون سرمایہ کاری سے نہیں بلکہ ہماری کمپنیوں کی شئیر ہولڈرز کو منافع دینے کے باعث ہے،ماضی میں معیشت مستحکم ہوتی تھی تب بھی اسٹاک مارکیٹ بیرونی طاقت کی وجہ سے نیچے ہوجاتی تھی،صدر نے اپنے تمام اختیارات وزیر اعظم کو دے دیے ہیں تو اب لوگوں کو ایوان صدر سے کیوں خوف ہے،ماضی میں ڈاکے ایوان صدرسے پڑتے تھے لیکن ہم نے تو آکر صدر کے اختیارات کو ہی وزیر اعظم کو سونپ دیا،آصف زرداری 2008 میں وزیر اعظم بن سکتے تھے لیکن وہ اس ایوان صدر کو جو ہمیشہ جہموریت کے لیے سازش کاگھر رہااس کو سنبھالا اور اس ایوان صدر سے جمہوریت کے خلاف سازشوں سے نجات دلائی،ہمارے خلاف متعدد عدالتی کمیشن بنائے گئے اور ہمیں کرپٹ قراد دینے کی سازشیں کی گئی لیکن کوئی یہ تو بتائے کہ ان کمیشنز سے کیا نکلا،ایل پی جی معاہدہ، رینٹل پاور معاہدے سمیت متعددمیں کرپشن کا الزام عائد کیا گیالیکن کسی میں کوئی کرپشن کمیشنزثابت نہیں کرسکا بلکہ اس سے اس ملک کو اربوں روپے کا نقصان پہنچایاگیا اور عوام کو گیس اور بجلی کے بحران میں مبتلا کیاگیا،ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی جانب سے کرپشن میں پاکستان کے نمبر 33 پر آنے کا طعنہ دیا جاتا ہے۔

شہباز شریف کے اپنے بھائی کے دور میں جب وہ وزیر اعظم تھا پاکستان کرپشن میں دوسرے نمبر پر تھا وہ کس منہ سے ہمیں طعنہ دے رہے ہیں،پاکستان کے تیز ترین ارب پتی ہمیں یہ توبتائے کہ ان کے پاس کیاکلیہ ہے کہ وہ اس رفتار سے روپے کہاں سے لائے،ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے کوئی ٹھوس شواہدنہیں ہیں۔ انھوں نے کہا کہ روزانہ 7 ارب کی کرپشن کا الزام عائد کرنے والوں کو یہی نہیں معلوم کہ ہمارے گذشتہ5 برس کا بجٹ بھی 25 کھرب کا نہیں تو ہم نے ساڑھے 25 کھرب کا کیسے کرپشن کیا۔قمر زماںن کائرہ نے کہا کہ ہم نے احتساب کے لیے پبلک اکائونٹس کمیٹی کے چیئرمیں کاعہدہ اپوزیشن لیڈر کو دے کر اپنے آپ کو احتساب کے لیے پیش کیا اور آج وہ کمیٹی ایوان صدر، ایوان وزیر اعظم سب کو نوٹس بھجوا سکتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اصغر خان کیس نے کئی معملات سے پردہ اٹھایاہے اور کئی معاملات سے پردہ اٹھنا باقی ہے،پاکستان میں آج جہموریت اسی سیاسی صدر کے باعث ہے،پاکستان کے مفاد کے لیے ہمیں نفرتوں کی سیاست کااس ملک سے خاتمہ کرنا ہوگا، کوئی ایک جماعت اس ملک کے مسئلے حل نہیں کرسکتی اس لیے تمام سیاسی جماعتوں کو مل کر اس ملک سے مسائل کا خاتمہ کرنا ہوگا۔قبل ازیں کراچی ائیرپورٹ پر میڈیا سے گفتگو میں قمرالزمان کائرہ نے کہاکہ پیپلزپارٹی عوامی جماعت ہے۔

پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ موجودہ حکومت اپنی مدت پوری کررہی ہے، ہم کہیں نہیں جارہے ہیں بلکہ دوبارہ واپس آرہے ہیں، ضمنی انتخابات کا عام انتخابات سے موازنہ نہ کیا جائے۔انھوں نے کہاکہ صدر مملکت آصف علی زرداری کے پرنسپل سیکریٹری سلمان فاروقی کو وفاقی محتسب کے عہدے پر تقرری صدرنے وزیراعظم کی ایڈوائس پر کی ہے، یہ صدر مملکت کا استحقاق ہے،وہ سینئر بیوروکریٹ ہیں ان کی تقرری سے عوام کے مسائل حل ہوں گے،آئندہ انتخابات کیلیے پیپلزپارٹی کاق لیگ اور سنی اتحاد کونسل کے ساتھ انتخابی اتحاد ہوچکا ہے،امید ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ اور عوامی نیشنل پارٹی سے بھی جلدہمارا انتخابی اتحاد ہوجائے گا۔دریں اثنا سیمینار سے پیپلز پارٹی کراچی ڈویژن کے صدر اور رکن قومی اسمبلی عبدالقادر پٹیل،متحدہ قومی موومنٹ کے رہنماء و وزیر اعلیٰ سندھ کے معاون خصوصی حیدر عباس رضوی ،معروف ڈرامہ نگار اصغر ندیم سید ،غلام شہباز بٹ ،وجاہت مسعود،ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (اپچ آر سی پی)کے ڈائیریکٹر حسین نقی نے بھی خطاب کیا۔ قمرزمان کائرہ نے پیپلز یوتھ کراچی کی ویب سائٹ اوربے نظیر بھٹو کے حوالے سے بنائی ڈاکومینٹری کابھی افتتاح کیا۔