اختیارات سٹی گورنمنٹ کو دیکر سندھ حکومت کیا کریگی چیف جسٹس

پیشرفت روکنے کا حکم برقرار، بلدیاتی الیکشن آئینی حکم ہے ماننا ہوگا، ریمارکس


Numainda Express December 11, 2012
فوٹو: فائل

سپریم کورٹ نے سندھ پیپلز لوکل گورنمنٹ ایکٹ مجریہ2012 پر مزید پیشرفت روکنے کا حکم برقرار رکھتے ہوئے ایڈووکیٹ جنرل سندھ سے مقامی حکومتوں کے بارے میں اب تک جاری کیے جانے والے قوانین، ترامیم اورنوٹیفکیشن کی تفصیل طلب کر لی ہے۔

چیف جسٹس افتخارمحمدچوہدری کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے سماعت کی۔چیف جسٹس نے کہا کہ بادی النظر میں ایک صوبے میں دو مختلف بلدیاتی نظام آرٹیکل25کے مطابق نہیں۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سندھ ضمیرگھمرو نے بینچ کو بتایا کہ سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ2012کے تحت کراچی،حیدر آباد،خیر پوراورلاڑکانہ کیلیے میٹرو پولیٹن کارپوریشن قائم کر دیگئی ہے جبکہ باقی اضلاع میں ڈسٹرکٹ کونسل کا نظام اپنایا گیا ہے ۔انھوں نے بتایا کراچی سمیت 5 اضلاع کیلیے پرویز مشرف کا لوکل باڈیز سسٹم اپنایا گیا ہے جب کہ باقی صوبے کیلیے1979کا بلدیا تی نظام رکھا گیا ہے۔ انھوں نے کہا اس قانون کیخلاف مظاہرے بھی ہوئے ہیں،حکومت بلدیاتی نظام کا نوٹیفکیشن خفیہ رکھ رہی ہے،انھوں نے بتایا تقرریوں اور تبادلوں کے نوٹیفکیشن عام نہیںکیے جاتے۔ چیف جسٹس نے کہا یہ تو آئین کی خلاف ورزی ہے، عوام کو جاننے کا حق حا صل ہے کہ حکومت کیا کررہی ہے۔ حسین ہارون نے بھی سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ کی مخالفت کی اورکہا کہ تمام اختیارات میٹرو پولیٹن کارپوریشن کو دے دیے گئے ہیں یہاں تک کہ سمندر میں10کلومیٹر تک کارپوریشن کو اختیار دیا گیا۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ صوبے کا اختیار ختم کر دیا گیا ہے، دنیا میں سب سے طاقتور مقامی حکومت نیویارک سٹی کی ہے لیکن اسے بھی اتنے اختیارات حاصل نہیں جتنے نئے قانون میں میٹرو پولیٹن کارپوریشن کو دیے گئے۔چیف جسٹس نے کہا اگر ریونیو سے لے کر سمندر تک کا اختیار میٹرو پولیٹن کے پاس ہو تو پھر صوبائی حکومت کی کیا ضرورت باقی رہ گئی؟چیف جسٹس نے کہا سسٹم جو بھی ہو اپنایا جائے لیکن آئین سے باہر نہیں جایا جا سکتا۔

اسٹیک ہولڈرزکے خدشات اور سمجھوتوں پر آئین کو نظر انداز نہیںکیا جا سکتا۔ ایڈووکیٹ جنرل نے قانون کی حمایت کی۔ عدالت نے مزید سماعت 17 دسمبر تک ملتوی کردی۔ اے پی پی کے مطابق عدالت کے استفسار پر درخواست گزار نے بتایا کہ سٹی گورنمنٹ پورا میٹروپولیٹن نہیں بلکہ ایک علیحدہ اتھارٹی ہے جو اربن اوررورل میں تقسیم ہے۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کہ کسی ضلعے کو میٹروپولیٹن قراردینے، کسی کونہ بنانے اور ٹائونز بنانے کیلیے کیا معیار مقررکیا گیا ہے ؟ یہ تو نہیں کہ مرضی سے کسی کومیٹروپولیٹن بناکردوسرے کوچھوڑ دیا جائے۔ انھوں نے کہا کہ اس حوالے سے تمام نوٹیفیکیشن پیش کیے جائیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ کرا چی میونسپل کارپوریشن سے میٹروپولیٹن کمیٹی، پھر کارپوریشن بنا بعد میں ٹائونز بنے'آخر ا س کامعیارکیا ہے؟ اورجونہیں بنائے گئے'ان کوکس بنیاد پر نہیں بنایا گیا؟۔ مشرف دورمیں خیرپورمیٹرو پولیٹن بنا، آخر نواب شاہ کا کیا قصور تھا اوراگر اختیارات سٹی گورنمنٹس کودیے جارہے پھر صوبائی حکومت کیاکرے گی؟۔جسٹس گلزار نے کہا کہ اگرکوئی معیار نہیں،مرضی کی گئی ہے تو جواب دیناہوگا۔

1

فاضل بینچ نے کنٹونمنٹ بورڈزکے علاقوں میں الیکشن کرانے کے مقدمے میں14سال سے الیکشن نہ کرانے کا سخت نوٹس لیا۔ چیف جسٹس نے آبزرویشن دی کہ مقامی سطح پر الیکشن نہ کر انا آئین کی خلاف ورزی ہے اور اس بارے میں مسلسل آئین کی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا جب حکومت جمہوریت کی بات کرتی ہے تو الیکشن بھی کرانے پڑیںگے۔ڈپٹی اٹارنی جنرل دل محمد علیزئی نے عدالت کو بتایا ابھی تک وزارت دفاع کی جانب سے جواب موصول نہیں ہوا۔ عدالت نے اس پر برہمی کا اظہارکیا ۔چیف جسٹس نے کہا آئین کی خلاف ورزی ہورہی ہے اور وزارت دفاع سے اتنا نہیں ہو رہا کہ عدالت کے نوٹس کا جواب دیں۔این این آئی کے مطابق چیف جسٹس نے واضح کیاکہ بلدیاتی انتخابات کرانا آئین کا حکم ہے جسے ہرصورت ماننا ہوگا، اللہ کا شکرکریں ملک میں جمہوریت ہے،اسے مستحکم کرنا ہم سب کی ذمے داری ہے۔ ثناء نیوزکے مطابق چیف جسٹس نے کہا کہ جب تک آئین کی پاسداری نہیں ہوگی ملکی معاملات صحیح طور پر نہیں چلائے جا سکتے۔ حکومت سمری کو آگے بڑھائے ،عدالت الیکشن کمیشن کو ہدایات جاری کر دے گی۔

ایسے لوگ نہیں چاہئیں جو آئین سے انحراف کے بہانے تلاش کر رہے ہوں۔ وزارت دفاع کی جانب سے وزیر اعظم سے مشاورت کیلیے مہلت مانگی گئی تو چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم مستعد انسان ہیں وہ تاخیر نہیں کریں گے۔ دریں اثنا چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے ریکوڈک کیس میں ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں پروا نہیں کہ کس وقت کیا ہونے والا ہے۔غلط کام کرنے والے کو خمیازہ بھی بھگتنا پڑے گا۔ پانچ سال کے دوران اتنے غیر قانونی کام ہوئے ، کیا بلوچستان حکومت نے کسی کے خلاف مقدمہ درج کرایا؟۔ ریکوڈک میں معاہدہ کان کنی لائسنس کا نہیں تھا بلکہ اس کے لیے صرف درخواست دینے کے حق کو تسلیم کیا گیا تھا۔ پیر کو چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے ریکوڈک کیس کی سماعت کی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ بلوچستان حکومت اپنے موقف کو ثابت کرے۔ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان امان اللہ کنرانی نے بتایا کہ گورنر بلوچستان نے معاہدے پر کابینہ کی منظوری کے بغیر دستخط کیے۔

انٹرفاگسٹا اوربیرکس گولڈ معاہدے میں بغیرکسی وجہ شامل ہوگئے، بیرکس گولڈ نے ریکوڈک معاہدے کی فائل60 ملین ڈالرمیں جبکہ انٹرفاگسٹا نے معاہدے کی فائل 140ملین ڈالرمیں خریدی۔ بلوچستان حکومت کے وکیل احمربلال صوفی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ مشترکہ ریکوڈک معاہدہ صرف معدنیات کی تلاش کیلیے ہوا، ریکوڈک معاہدے میں زمین مخصوص نہیں کی گئی تھی۔چیف جسٹس نے کہا کہ مائننگ کیلئے حق نہیں، درخواست دینے کا حق دیا گیا ہے۔