اویس بیگ کی ہلاکت کا مقدمہ تابش گوہر کیخلاف درج

فاضل بینچ نے انھیں 20 جنوری 2013 کے لیے دو بارہ نوٹس جاری کردیے۔


Staff Reporter December 11, 2012
کراچی: اسٹیٹ لائف بلڈنگ سے گر کر جاں بحق ہونے والے نوجوان اویس بیگ کی والدہ اور دیگر سندھ ہائی کورٹ میں افسردہ کھڑے ہیں۔ فوٹو : ایکسپریس

سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس مقبول باقر کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سانحہ اسٹیٹ لائف بلڈنگ میں جاں بحق ہونے والے اویس بیگ کی ہلاکت کا مقدمہ درج کر کے ڈی آئی جی سلطان خواجہ کی نگرانی میں تفتیش کرانے کا حکم دیا ہے ۔

آرٹلری میدان پولیس نے عدالت کے حکم پر سانحہ اسٹیٹ لائف میں نوجوان کی ہلاکت کا مقدمہ کراچی الیکٹرک سپلائی کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر طابش گوہر سمیت دیگر افسران و محکموں کے خلاف قتل بالسبب کا مقدمہ درج کرلیا تاہم اس سلسلے میں کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آسکی ، سماعت کے موقع پرمتوفی اویس بیگ کی والدہ مسمات سارہ رشید بھی جاوید چھتاری ایڈووکیٹ کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئیں ، پیر کو سانحہ اسٹیٹ لائف بلڈنگ اور سانحہ بلدیہ ٹاؤن گارمنٹس فیکٹری کی ایک ساتھ سماعت ہوئی ، فاضل بینچ نے ان سے واقعہ کے مقدمے کے بارے میں استفسار کیا توانھوں نے بتایاکہ ایف آئی آر ایک طرف رکھ کر پولیس ان کے بیٹے کی ہلاکت کو خودکشی ظاہر کر رہی ہے جو کہ غلط ہے ، ہمارے موقف پر مبنی ایف آئی آر درج نہیں کی جارہی ، جسٹس مقبول باقر نے آرٹلری میدان کے ایس ایچ او کو طلب کرنے کا حکم دیا تاہم جاوید چھتاری ایڈووکیٹ نے بتایاکہ ایڈیشنل ایس ایچ او کمرہ عدالت میں موجود ہے ، اسے ہدایت جاری کردی جائے ۔

ان کی تجویز پر فاضل بینچ نے ایف آئی آر کے اندراج کا حکم جاری کرتے ہوئے عمل درآمد کی رپورٹ عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت کی ، عدالت کے حکم پر آرٹلری میدان پولیس نے متوفی اویس بیگ کے والد عبدالرشید بیگ کی مدعیت میں مقدمہ نمبر 129/12 بجرم دفعہ 322/34 تعزیرات پاکستان کے تحت کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کے چیف ایگزیکٹو آفیسر تابش گوہر اور چیف سیکیورٹی انچارج کرنل (ر) شیراز سمیت دیگر افسران کے خلاف درج کرلیا ہے تاہم اس سلسلے میں انویسٹی گیشن پولیس کی جانب سے کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آسکی ۔

فاضل بینچ نے 3 دسمبر کو گزشتہ سماعت کے موقع پر ندیم شیخ ایڈووکیٹ کی درخواست پر اسٹیٹ لائف بلڈنگ میں آتشزدگی ، اس موقع پر عمارت میں حفاظتی انتظامات ، عمارت کی ساخت ، ریسکیو اداروں کی کارکردگی اور وہاں موجود نوجوان کی جان بچانے کے لیے چھلانگ لگانے اور جاں بحق ہونے کے بارے میں وفاقی ، صوبائی اور مقامی حکومت کے علاوہ کے ای ایس سی کو رپورٹس جمع کرانے کی ہدایت کی تھی تاہم پیر کو کے ای ایس سی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اور کے ایم سی کے چیف آفیسر حاضر نہیں ہوئے۔ فاضل بینچ نے انھیں 20 جنوری 2013 کے لیے دو بارہ نوٹس جاری کردیے۔

پیر کو اسٹیٹ لائف کی جانب سے محمد اسلم بٹ ایڈووکیٹ نے وکالت نامہ داخل کیا اورکمنٹس داخل کرنے کے لیے مہلت طلب کی۔ کے ایم سی کی جانب سے خورشید ایڈووکیٹ نے جب کہ حکومت سندھ کی جانب سے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل محمد میرانشاہ نے بھی عدالت کی جانب سے 3دسمبر کو مانگی گئی رپورٹس جمع کرانے کے لیے مہلت طلب کی۔ فاضل بینچ نے انھیں مہلت دیتے ہوئے آئندہ سانحہ بلدیہ ٹاون اور سانحہ اسٹیٹ لائف بلڈنگ کی درخواستیں علیحدہ علیحدہ پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت 20جنوری کے لیے ملتوی کردی۔