چوکی پر حملے سے2رینجرز اہلکار اور سب انسپکٹر ہلاک کراچی میں فائرنگ5افراد ہلاک

الآصف اسکوائر کے سامنے فائرنگ سے 4افراد زخمی، واقعہ کامیاب ٹارگٹڈ آپریشن کا نتیجہ ہے،ترجمان رینجرز، الطاف حسین کی مذمت


Staff Reporter December 11, 2012
محمود آباد ،پاک کالونی اور مچھرکالونی میں آپریشن،25افراد گرفتار،اسلحہ برآمد،پریڈی میں دکان کے قریب ٹائم بم کا دھماکا فوٹو فائل

سہراب گوٹھ الآصف اسکوائر کے سامنے موٹر سائیکل سوار دہشت گردوں کی فائرنگ سے رینجرز سندھ کے 2اہلکار اور ٹریفک پولیس کاسب انسپکٹر ہلاک ،4افراد زخمی ہوگئے۔

ترجمان سندھ رینجرز نے جوانوں کی ٹارگٹ کلنگ کے واقعے کو شہر میں جرائم پیشہ افراد کے خلاف کامیاب ٹارگٹڈ آپریشن کا نتیجہ قرار دیا ہے، ادھر رینجرز نے محمود آباد اور پاک کالونی میں آپریشن کے دوران 22 جرائم پیشہ افراد کو حراست میں لیتے ہوئے 26 پستول ،5 ایس ایم جیز،ایک ایم پی فائیو،2 ایٹ ایم ایم رائفلیں،2 رپیٹرز، 22 رائفلیں ،مختلف ہتھیاروں کی 952 گولیاں ،4 بلٹ پروف جیکٹس ، تیار شدہ ایمپرووائزڈ ایکسپلوزو ڈیوائس (IED) اور ایک چوری شدہ موٹر سائیکل برآمدکرلی، تفصیلات کے مطابق سہراب گوٹھ کے علاقے سپر ہائی وے الآصف اسکوائر سامنے ٹریفک پولیس چوکی سے ملحقہ رینجرز چوکی پر موٹر سائیکل سوار 2 دہشت گردوں نے اندھا دھند فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں چوکی پر تعینات 2 رینجرز اہلکار اور2 ٹریفک پولیس کے افسر سمیت 4 افراد زخمی ہو گئے۔جن میں سے سب انسپکٹر قمرپیرزادہ اسپتال میں دم توڑ گئے۔

ایس ایچ او سچل اظہر اقبال کے مطابق جاں بحق رینجرز اہلکاروں کی شناخت 40 سالہ حولدار حاکم اور سپاہی 28 سالہ عنایت کے نام سے ہوئی ہے جبکہ فائرنگ میں ٹریفک پولیس کے 2 افسران سب انسپکٹر قمر پیرزادہ اور اے ایس آئی خادم حیسن بھی زخمی ہو ئے۔ متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے سہراب گوٹھ الآصف اسکوائر کے قریب رینجرز اور پولیس اہلکاروں پر دہشت گردوں کی فائرنگ کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ پولیس کے مطابق رینجرز اہلکاروں پر کلاشنکوف سے فائرنگ کی گئی۔ واقعے میں 2 راہگیر 30 سالہ سلمان ولد محمد اقبال کو عباسی شہید اسپتال، 20 سالہ محمد مسلم ولد کریم بخش کو سول اسپتال جبکہ ٹریفک پولیس افسران کو الشفا اسپتال لیجایا گیا۔

رینجرز کے جوانوں کی میتیں رینجرز ہیڈ کوارٹرز منتقل کردی گئیں۔ دریں اثنا رینجرز نے جرائم پیشہ افراد کی موجودگی کی خفیہ اطلاعات پر پیر کی صبح پانچ بجے کے قریب محمود آباد کے علاقے کارپوریشن گیٹ، محمود آباد نمبر ایک اور نمبر دو ، ریلوے پھاٹک ، کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ اسٹاف کالونی اور اطراف میں آپریشن کیا جو تقریبا 7 گھنٹے تک جاری رہا۔ آپریشن میں ایک ہزار سے زائد مرد و خواتین اہلکاروں نے حصہ لیا۔گھر گھر تلاشی کے دوران مشتبہ افراد کوحراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا۔ دوسری جانب محمود آباد میں آپریشن ختم ہونے کے بعد علاقہ مکینوں کی بڑی تعداد نے آپریشن کے خلاف شدید احتجاج کیا۔علاوہ ازیں شہر کے مختلف علاقوں میں فائرنگ کے واقعات میں بلدیہ عظمیٰ کے کلرک اور بم ڈسپوزل اسکواڈ کے اہلکار سمیت 5 افراد ہلاک جبکہ موبائل فون کمپنی کا سیلزمین ایم اے جناح روڈ پر فائرنگ سے زخمی ہوگیا۔ اورنگی ٹاؤن تھانے کے قریب یکے بعد دیگرے 2 دھماکوں سے پورا علاقہ گونج اٹھا تاہم کوئی جانی و مالی نقصان نہیں ہوا ۔ جیل روڈ کوارٹرز عثمانیہ پارک کے قریب نامعلوم مسلح ملزمان نے موٹر سائیکل پر سوار شخص کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔ متوفی کو عباسی شہید اسپتال پہنچا یا گیا جہاں اس کی شناخت 40 سالہ محمد ندیم ولد محمد شفیع کے نام سے ہوئی۔

2

مقتول شاہراہ فیصل پر واقع بلدیہ عظمیٰ کراچی کی ڈسپینسری میں کلرک تھا ۔ رضویہ کے علاقے میں نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر کے 35سالہ سید علی عباس نقوی ولد سید جعفر عباس نقوی کو ہلاک کردیا ، مقتول کو سر پر ایک گولی مار کر قتل کیا گیا۔ ایس پی لیاقت آباد ظفر اقبال کے مطابق مقتول علی عباس پولیس اہلکار ہے اور بم ڈسپوزل اسکواڈ آرٹلری میدان میں تعینات تھا، پیر آباد تھانے کے علاقے میاں والی کالونی میں X-20 منی بس اڈے پر فائرنگ سے40 سالہ حمزہ ولد خان ہلاک ہو گیا۔ مقتول3 بچوں کا باپ اور X-20 منی بس اڈے کا منشی تھا۔ ایس ایچ او پیر آباد اشفاق بلوچ کے مطابق مقتول کے بھائی کو بھی ایک سال قبل فائرنگ کر کے قتل کردیا گیا تھا اور پیر کو مقتول کے بھائی کی برسی تھی۔ شاہ لطیف ٹائون کے علاقے قائد آباد السید سینٹر کے گیٹ قائم پان اور سگریٹ کے کیبن پر ہیلمٹ پہنے ہوئے موٹر سائیکل سوار2 ملزمان نے فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک ہو گیا، جس کی لاش جناح اسپتال پہنچائی گئی ، ہلاک شخص کی شناخت 38 سالہ حاجن قہر ولد گل شیر قہر کے نام سے ہوئی ہے جوگلستان سوسائٹی قائد آباد کا رہائشی ہے ایم اے جناح روڈ پر کیپری سینما کے قریب نامعلوم افراد نے سفید رنگ کی کرولا کار نمبر AFW-011 پر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں محمد نہال الدین ولد صلاح الدین زخمی ہوگیا ۔ پریڈی پولیس کے مطابق نہال الدین کو 2 سے 3گولیاں لگی ہیں۔

تاہم اس کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ زخمی شخص نجی موبائل فون کمپنی کا سیلزمین اورگلشن معمار کا رہائشی ہے، اورنگی ٹائون تھانے کے قریب 2 پراسرار دھماکے ہوئے جن کی آواز دور دور تک سنائی دی۔ دھماکے ہوتے ہی اورنگی ٹائون تھانے کی نفری خوفزدہ ہو کر تھانے سے باہر نکل آئی جبکہ رینجرز اور فلاحی اداروں کے رضا کار بھی جائے وقوعہ پر پہنچ گئے، دھماکوں سے علاقے میں خوف ہراس پھیل گیا۔ ایس ایچ او تھانہ اورنگی ٹائون ذوالقرنین نے ایکسپریس کو بتایا کہ پہلا دھماکا مغرب کی نماز کے وقت تھانے کی عمارت کے قریب ہوا جبکہ دوسرا دھماکا گرین بلٹ پر ہوا تھا ۔شریف آباد کے علاقے لیاقت آباد سراج الدولہ کالج کے قریب موٹر سائیکل سوار نامعلوم ملزمان کی فائرنگ سے 30 سالہ سینی شہزاد ولد بھاول مسیح ہلاک ہوگیا ۔ ڈیفنس کے علاقے فیز 2 کمرشل مارکیٹ کے قریب موٹر سائیکل پر سوار نامعلوم ملزمان کی فائرنگ سے 20 سالہ ونود کمار زخمی ہوگیا۔تبت سینٹر کے قریب آٹو مارکیٹ کے باہر ڈبے میں رکھا گیا ٹائم بم زوردار دھماکے سے پھٹ گیا جس سے دکان کو نقصان پہنچا،سی آئی ڈی گارڈن نے مچھر کالونی میں چھاپہ مار کر کالعدم تحریک طالبان سے تعلق رکھنے والے 2 ملزمان کو گرفتار کر کے دستی بم اور اسلحہ برآمد کرلیا۔