پاکستانی شائقین کو ٹکٹیں پی سی بی سے ملیں گی

اہم شخصیات میں تقسیم کرنے کیلیے میچز کی 300 ٹکٹیں الگ سے دی جائیں گی


Sports Desk December 12, 2012
بھارتی اسپانسرکے حامل موجودہ طریقہ کار کے تحت ہی ویزے حاصل کر پائیں گے۔ فوٹو: فائل

لاہور: بھارت سے سیریز کیلیے پاکستانی شائقین کو ٹکٹیں پی سی بی سے ملیں گی۔

اہم شخصیات میں تقسیم کرنے کیلیے300 ٹکٹیں الگ سے دی جائیں گی، جن شائقین کے پاس بھارتی اسپانسر ہوگا وہ موجودہ طریقہ کار کے تحت ہی ویزے حاصل کرپائیں گے، دیگر پاکستانیوں کو ہوٹل بکنگ اور میچ و سفری ٹکٹوں کی نقول درخواست کے ساتھ لگانا ہوں گی، بھارتی کرکٹ بورڈ ہر میزبان شہر میں پاکستانی شائقین کے لیے مختص ہوٹلز کی تفصیل پی سی بی کو بھیجے گا، ہر ہوٹل میں خصوصی پولیس رپورٹنگ کائونٹر موجود ہوگا۔

فضائی سفر کرنے والوں کی آمد اور روانگی صرف دہلی، ممبئی اور چنئی میں ہوگی، ریل اور بس والوں کا استقبال اور رخصتی اٹاری سے ہوگی، ویزے درخواست میں ظاہر کیے گئے پروگرام کو بعد میں تبدیل کرنا ممکن نہیں ہوگا، یہ تفصیلات بھارتی وزیرمملکت برائے داخلہ امور ملاپالی راماچندرن نے لوک سبھا میں مختلف اراکین پارلیمنٹ کی جانب سے کیے گئے سوالات پر تحریری جواب میں بتائیں۔ انھوں نے اپنے تفصیلی جواب میں لوک سبھا کو بتایا کہ بھارت کی مرکزی حکومت کی جانب سے 25 دسمبر سے شروع ہونے والی 2 ٹوئنٹی 20 اور 3 ون ڈے میچز کی ہوم سیریز کیلیے پاکستانی شائقین کو 3 ہزار ویزے جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

02

ان میں سے دہلی کے میچ کیلیے ایک ہزار جبکہ بنگلور، احمد آباد، چنئی اور کولکتہ میں شیڈول باقی مقابلوں کے 500،500ٹکٹیں دی جائیں گی، اسی طرح 300 وی آئی پی ٹکٹیں بھی دی جائیں گی، پاکستانی شائقین اور وی آئی پی ایز میں ٹکٹوں کی تقسیم کی ذمہ داری خود پاکستان کرکٹ بورڈ کی ہوگی۔ ایسے پاکستانی شائقین جن کے پاس بھارتی شہری کی اسپانسر شپ موجود ہوگی اسے موجودہ طریقہ کار کے تحت ہی ویزا جاری کردیا جائے گا تاہم جن کے پاس بھارتی اسپانسر شپ نہیں وہ اپنی درخواست کے ساتھ میچ اور سفری ٹکٹوں سمیت دیگر درکار دستاویزات کی نقول لگائیں گے۔

ویزا ٹکٹوں کی حساب سے مخصوص شہروں اور مخصوص مدت کیلیے جاری کیے جائے گا اس میں کوئی اضافہ یا کسی اور جگہ جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔ بھارتی کرکٹ بورڈ تمام میزبان شہروں میں پاکستانی شائقین کیلیے مختص ہوٹلوں کی فہرست اور کرائے کی تفصیلات پی سی بی کو بھیجے گا، ہر ہوٹل میں پولیس رپورٹنگ کائونٹر قائم ہوںگے۔

فضائی سفر کرنے والے صرف چنئی، ممبئی اور نئی دہلی کے ذریعے بھارت آ اور جا سکیں گے جبکہ بس اور ریل کے مسافر اٹاری سے آئیں جائیں گے۔ ویزا درخواست میں آمد اور روانگی اور مدت کے بارے میں جومعلومات فراہم کی جائیں گی ان میں بعد میں کوئی ردوبدل نہیں ہوسکے گا۔اٹاری سے پیدل اور مونا بائو سے ریل کے ذریعے سرحد پار کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔