چینی نائب وزیر خارجہ کا بروقت اور راست بیان

چین انسداد دہشت گردی کے نام پر سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوششوں کے خلاف ہے


Editorial October 12, 2016
چین انسداد دہشت گردی کے نام پر سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوششوں کے خلاف ہے. فوٹو: فائل

بھارتی ریاست گوا میں 15سے 16اکتوبر کو برکس سربراہ کانفرنس شروع ہو رہی ہے۔ برکس تنظیم میں چین' بھارت 'روس' برازیل اور جنوبی افریقہ شامل ہیں۔اس اہم کانفرنس میں چین کے صدر شی جنگ پنگ بھی شرکت کریں گے۔

اس کانفرنس سے قبل چین کے نائب وزیر خارجہ لی باؤ ڈونگ نے کہا ہے کہ چین انسداد دہشت گردی کے نام پر سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوششوں کے خلاف ہے، لی باؤڈونگ تسلیم کیا کہ چین نے مولانا مسعود اظہر پر اقوام متحدہ کی جانب سے پابندی لگائے جانے کے بھارتی مطالبے کی مخالفت کی ہے، کیونکہ چین دہشت گردی کے خلاف لڑائی کے ذریعے سیاسی فوائد سمیٹنے کے خلاف ہے ۔

بھارتی نیوز ایجنسی پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے حوالے سے خبر میں بتایا گیا ہے کہ چینی نائب وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ہم ہر قسم کی دہشت گردی کے خلاف ہیں ، تاہم انسداد دہشت گردی کے حوالے سے دہرا معیار نہیں ہونا چاہیے نہ ہی کسی کو اس سے سیاسی فائدہ اٹھانا چاہیے،چینی نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ برکس سربراہ اجلاس کے دوران انسداد دہشت گردی میں تعاون کا معاملہ زیربحث آئے گا۔

چین کے نائب وزیر خارجہ لی باؤڈونگ نے کہا ہے کہ ان کا ملک بھارت کے نیوکلیئر سپلائرز گروپ (این ایس جی) کی مکمل رکنیت کے امکانات پر بات چیت کرنے پر تیار ہے، ان سے سوال کیا گیا تھا کہ چینی صدر اور بھارتی وزیراعظم کی سائیڈ لائن ملاقات میں این ایس جی کے حوالے سے بات چیت کا امکان ہے۔

چینی نائب وزیر خارجہ نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ 48 ممالک کی تنظیم این ایس جی میں کسی نئے ممبر کو رکنیت دینے کے لیے ' تمام ممبران کا اتفاق رائے' ضروری ہے، خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق انڈیا نے کہا ہے کہ اس نے چین کے ساتھ این ایس جی کی اپنی رکنیت کے دعوے پر 'پرمغز گفتگو' کی ہے۔

اس سال جون میں این ایس جی کے 48 ممالک کے اجلاس میں چین نے بھارت کی رکنیت کے دعوے کی یہ کہتے ہوئے مخالفت کی تھی کہ انڈیا نے جوہری اسلحے کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے پر دستخط نہیں کیے،لی باؤڈونگ نے مزید کہا: 'یہ قوانین چین نے نہیں بنائے ہیں، تاہم ان کا کہنا تھا کہ این ایس جی کے معاملے پر چین اور انڈیا کے درمیان خاطر خواہ بات چیت ہوئی ہے اور (چین) بھارت کے ساتھ مزید بات چیت چاہتا ہے تاکہ اتفاق رائے پیدا کیا جا سکے۔چین کے نائب وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ : 'اس مسئلے پر انڈیا کے ساتھ چین تمام امکانات پر غور کرنا چاہتا ہے لیکن یہ این ایس جی کے چارٹر کے مطابق ہونا چاہیے اور اصولوں کا ہر طرف سے احترام کیا جانا چاہیے۔

عوامی جمہوریہ چین کے نائب وزیر خارجہ نے دہشت گردی کے حوالے سے جو بات کی ہے' وہ جنوبی ایشیاء کے حوالے سے انتہائی اہمیت کی حامل ہے ۔ امریکا کے پالیسی ساز ہوں ' نیٹو ہو یا روس کی اسٹیبلشمنٹ ' سب اس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ جنوبی ایشیاء اور وسط ایشیا کے خطے میں دہشت گردی کے خلاف اگر کوئی ملک حقیقی معنوں میں جنگ کر رہا ہے تو وہ پاکستان ہے ۔

درحقیقت پاکستان وسط ایشیا اور جنوبی ایشیا کے تحفظ کی جنگ لڑ رہا ہے لہٰذا عالمی قوتوں کا یہ فرض ہے کہ وہ پاکستان کے اس کردار کو دل سے تسلیم کریں اور اس حوالے سے پاکستان کے موقف کو ہمدردانہ جذبات سے سنیں۔بھارت کا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کوئی کردار نہیں ہے' لیکن وہ پروپیگنڈے کے زور پر اپنے ملک میں ہونے والی مختلف قسم کی وارداتوں کو دہشت گردی سے منسوب کر کے پاکستان سے منسلک کر رہا ہے۔

پٹھان کوٹ کا واقعہ ہو یا اڑی میں ہونے والا واقعہ' ان واقعات کی آڑ میں بھارتی اسٹیبلشمنٹ نے پاکستان کے خلاف محاذ کھول دیا۔ کنٹرول لائن کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بھارت نے شیلنگ کی جس کے نتیجے میں پاکستان کے دو فوجی جوان شہید ہوئے۔پھر بھارت نے سندھ طاس معاہدے کو ختم کرنے کی دھمکیاں دیں اور کنٹرول لائن پر سرجیکل اسٹرائیک کا جھوٹا پروپیگنڈا کیا ' بھارت نے اڑی واقعے کی آڑ میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس کو ملتوی قرار دیا۔دہشت گردی کی آڑ لے کر بھارت پاکستان کو دنیا میں تنہا کرنے کی مہم شروع کر چکا ہے اور اس کا اعلان بھارتی وزیراعظم نریندر مودی مسلسل کر رہے ہیں۔

چین کے نائب وزیر خارجہ نے درست کہا ہے کہ ان کا ملک کسی کو انسداد دہشت گردی کی آڑ میں کوئی سیاسی فائدہ نہیں لینے دے گا۔ بھارت ایک جانب پاکستان کو کمزور کرنے کی پالیسی پر گامزن ہے تو دوسری جانب وہ عوامی جمہوریہ چین کو بھی محدود کرنے کے مشن پر گامزن ہے۔ موجودہ حالات میں گوا میں ہونے والی برکس کانفرنس انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔اس تنظیم میں طاقتور ممالک شامل ہیں اور بھارت کی کوشش ہو گی کہ وہ اس تنظیم کو بھی پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کرے لیکن چین کے نائب وزیراعظم نے کانفرنس کے آغاز سے پہلے ہی بھارتی عزائم کو ناکام بنا دیا ہے۔