پاک فرانس اقتصادی تعاونامکانات و توقعات
پاکستان اور فرانس اچھے پارٹنر ہیں, ماضی کی طرح مستقبل میں بھی دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعاون میں اضافہ ہو گا۔
صدر نے صدر زرداری نے پیرس میں فرانسیسی سرمایہ کاروں کو انفرااسٹرکچر اور مواصلاتی شعبوں میں مشترکہ منصوبوں کی پیشکش کی۔ فوٹو : این این آئی
پاکستان اور فرانس نے تعلیم، صحت، معیشت اور توانائی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون میں اضافے اور منشیات کی اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے مشترکہ کوششوں پر اتفاق کیا ہے۔ پیرس کے ایلسے پیلس میں فرانسیسی صدر فرانکوئس ہالینڈی اور صدر آصف زرداری نے مذاکرات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں اپنی بات چیت کو اطمینان بخش اور حوصلہ افزا قرار دیا جس کے دوران مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے کا جائزہ لیا گیا اور علاقائی صورتحال پر بات چیت کی گئی۔ پاک فرانس اقتصادی اور تجارتی تعلقات کا روایتی تناظر اپنا ایک مستقل خوش آیند پس منظر رکھتا ہے جو وسعت پذیری اور باہمی ترقی و اشتراک عمل میں دوطرفہ تجارتی و معاشی تعاون کے حوالے سے خاصا اطمینان بخش رہا ہے۔ صدر زرداری نے بھی اسی سیاق وسباق میں کہا کہ پاکستان اور فرانس اچھے پارٹنر ہیں اور توقع ہے ماضی کی طرح مستقبل میں بھی دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعاون میں اضافہ ہو گا۔
پاکستان لڑکے، لڑکیوں کو تعلیم کے مساوی مواقع فراہم کرنے کے لیے کوششیں کر رہا ہے اور چاہتا ہے کہ ہماری مستقبل کی نسلوں کو دنیا کے دیگر ترقی یافتہ ممالک کی طرح پڑھنے لکھنے اور معمول کی زندگی گزارنے کا موقع ملے۔اسی طرح تعلیم،صحت ،سیاحت، توانائی اور اس کے متبادل وسائل کی تلاش سمیت کیمیکلز،فارماسیوٹیکلز اور تعمیرات کے شعبے میں دونوں ملکوں کے درمیان وسیع تر تعاون کے امکانات موجود ہیں۔فرانس پاکستان کے زرعی شعبے میں سرمایہ کاری کرسکتا ہے اور روئی و چاول کی پیداوار میں دو طرفہ معاونت کے کئی مواقع مہیا کیے جا سکتے ہیں،ادب وثقافت میں فرانس اور پاکستان کی دوستی ضرب المثل ہے، پاکستان میں فرانس اور اردو ڈکشنری کا کام آخری مراحل میں ہے اور یہ منفرد لغت 2013 ء میں منظر عام پر آجائے گی۔اس منصوبے پر وزارت قومی ورثہ فرانس اور ادارہ فروغ اردو نیشنل یونیورسٹی لینگویجز کے تعاون سے کام کر رہی ہے۔ فرانسیسی ادب ہمارے ادبی حلقوں میں ہمیشہ سے قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا ہے،عظیم فرانسیسی فلسفیوں،دانشوروںاور ادیبوں سے عالمی انقلاب و یکجہتی کے تاریخی حوالوں سے پاک فرانس تعلقات کا ایک خوشگوار ماضی ہے، تاہم تجارتی اور اقتصادی شعبوں میں دو طرفہ تعاون کی ضرورت پر ہر حکومت نے زور دیا ہے چنانچہ صدر زرداری کا یہ کثیرجہتی دورہ بھی دیگر دوست اور برادر ممالک سمیت فرانس سے موجودہ روابط اور دوستانہ تعلقات کے باب میں ترقی و خوشحالی کے حصول کی ایک توسیعی پیش رفت کا درجہ رکھتا ہے۔صدر نے تعلیم کے شعبے میں ملالہ یوسف زئی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہر بچے کو تعلیم حاصل کرنے کا حق حاصل ہے۔ حکومت نے جمہوریت کے فروغ اور دہشت گردی کی ذہنیت کے خاتمہ کا تہیہ کر رکھا ہے۔ فرانسیسی صدر نے کہا کہ ہم نے تعلیم، صحت، دفاع اور معیشت کے شعبوں میں تعاون پر بات چیت کی۔ فرانس نے صحت اور تعلیم سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کی پیشکش کی۔ فرانس پاکستان کو توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں ہر ممکن مدد اور تعاون کرے گا۔افغانستان کے مستقبل، دہشت گردی اور منشیات کے مسئلہ سے نمٹنے کا بھی جائزہ لیا گیا جو دنیا کا بڑا مسئلے ہے اور اس کے حل کے لیے بلاشبہ عالمی تعاون کی ضرورت ہے۔
فرانسیسی ہم منصب سے ملاقات کے دوران صدر نے فرانس کے ساتھ جامع اور کثیر الجہتی شراکت داری، تجارتی تعلقات میں اضافے اور عوامی سطح پر روابط کو مضبوط بنانے کے لیے نئے مواقعوں کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے اضافی تجارتی اور مارکیٹ رسائی کی سہولتوں پر زور دیا۔مزید برآں فرانسیسی سرمایہ کاروں کو توانائی، زراعت، ٹیکسٹائل، زرعی صنعتوں، انفرااسٹرکچر اور مواصلاتی شعبوں میں مشترکہ منصوبوں کی پیشکش کی۔ صدر کا کہنا تھا کہ پاکستان جنگ زدہ اور سانحات سے متاثرہ اپنی معیشت کے استحکام کے لیے زیادہ تجارتی مواقع کا خواہاں ہے۔ پاکستان جی ایس پی اسکیم پر نظرثانی کے لیے یورپی یونین کے فیصلے کا خیر مقدم کرتا ہے اور جی ایس پی پلس درجہ کا متمنی ہے۔اقوام متحدہ کے خصوصی تعلیمی نمایند ے اورسابق برطانوی وزیراعظم گورڈن برائون سے ملاقات میں صدر زرداری نے کہا پاکستان ابتدائی تعلیم سب کے لیے کا ہدف حاصل کرنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا، بین الاقوامی برادری کو تعلیم کے فروغ کے سلسلے میں پاکستان کی کوششوں کوکامیاب بنانے میں مدد دینی چاہیے۔ پاکستان ملالہ یوسف زئی کے نصب العین کو اجاگر کرنے کے لیے بین الاقوامی برادری اور اقوام متحدہ کے تعاون کوبہت قدرکی نگاہ سے دیکھتا ہے۔گورڈن برائون نے پاکستان میں خصوصاً لڑکیوں کی تعلیم کے لیے مدد جاری رکھنے کا یقین دلایا۔
بلاشبہ ان ملاقاتوں کے نتائج دوطرفہ پاک فرانس تعلقات میں اضافہ کے ساتھ ساتھ پاکستان کی امیج سازی اور اقتصادی معاملات میں بہتری لانے میں بھی ممد ومعاون ثابت ہوں گے۔یہ حقیقت ہے کہ آج کی دنیا میں تنہا عسکری قوت کسی ملک کے استحکام کی اصل ضمانت نہیں بن سکتی بلکہ معیشت کی مضبوطی،اقتصادی منصوبوں میں عوام دوستی اور ان کے شفاف عمل درآمد کو یقینی بنانے میں مضمر ہے۔پاک فرانس تجارتی حجم کا ایک اجمالی جائزہ لیاجائے تو کہا جاسکتا ہے کہ اس میں دوگنا اضافہ ناگزیر ہے۔اس پہلو پر ہم پہلے بھی اظہار کرچکے ہیں کہ پاک فرانس تجارتی و اقتصادی تعلقات میں استحکام،پھیلائو اور وسعت کے روشن امکانات ہیں اور ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان فرانس سے جدید ترین ٹیکنالوجی کی جتنی مدد حاصل کرسکے اسے ملنی چاہیے ۔سال گزشتہ فرانس سے تجارتی حجم 1,106.19 ملین ڈالر تھا جب کہ برآمدات682.77 ملین اور درآمدات 423.42 ملین ڈالر تھیں۔2010-11 ء میں پاک فرانس تجارت ایک ارب یورو تک بڑھنے کا امکان ظاہر کیا گیا تھا،2008 ء میں یہ حجم 88.3 ملین یورو تھا۔تاجروں اوراقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ فرانس کو پاکستان کی زرعی معیشت میں سرمایہ کاری کی پیشکش سے بہتر نتائج حاصل ہوسکتے ہیں۔اس شعبہ میں تعاون اور مشترکہ سرمایہ کاری پر سنجیدگی سے مستقل منصوبہ بندی ہونی چاہیے۔