لیاری ایکسپریس وے تعمیر میں تاخیر کیوں

لیاری ایکسپریس وے منصوبہ 14 سال بعد بھی نامکمل اور تاخیر کا شکار دکھائی دیتا ہے


Editorial October 15, 2016
فوٹو : فائل

کراچی میں ٹرانسپورٹ کے دباؤ کو کم کرنے اور شہریوں کو سہولیات کی فراہمی کے لیے شروع کیا جانے والا لیاری ایکسپریس وے منصوبہ 14 سال بعد بھی نامکمل اور تاخیر کا شکار دکھائی دیتا ہے، جس پر نہ صرف شہری متوشش ہیں بلکہ منصوبہ متعلقہ اداروں کی نااہلی، لاپرواہی اور اپنے فرائض سے غفلت کا مظہر ہے۔

لیاری ایکسپریس وے منصوبے کا اعلان وفاق کی جانب سے 2002ء میں کیا گیا تھا جسے سہراب گوٹھ سے ماڑی پور تک دو طرفہ ٹریفک کے لیے تعمیر کیا جانا تھا۔ بلاشبہ منصوبے کا ایک ٹریک 2010ء میں مکمل کرلیا گیا لیکن دوسرے ٹریک کی تعمیر اب تک موخر ہے۔وفاق اور صوبائی حکومتوں کی ایک دوسرے پر الزام تراشیوں کے باعث معاملہ اب تک زیر التوا ہے۔

سندھ حکومت کی مذکورہ پروجیکٹ میں ذمے داری محض ایکسپریس وے کے راستے میں حائل تجاوزات اور تعمیرات کا صفایا تھی جسے صوبائی حکومت سرانجام دینے میں ناکام رہی۔ بلاشبہ لیاری ایکسپریس وے کی تعمیر سے ٹریفک کے دباؤ میں کسی حد تک ریلیف متوقع ہے لیکن منصوبے کی تعمیر میں تاخیر اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔

تجاوزات اور آباد علاقوں کے انہدام کے دوران گھر بدر کیے جانے والے سیکڑوں متاثرین ایک عرصے تک در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہو گئے جن کی دادرسی نہیں کی گئی۔ شنید ہے کہ دوسرے ٹریک کی راہ میں حائل تجاوزات کے خاتمے میں سیاسی مفادات بھی رکاوٹ بن رہے ہیں۔

رواں سال ماہِ فروری میں وزیراعظم پاکستان نے گرین لائن بس منصوبے کے آغاز کے وقت وعدہ کیا تھا کہ لیاری ایکسپریس وے کے بقیہ حصے کی تعمیر 15 دن میں شروع کر دی جائے گی لیکن یہ وعدہ بھی تاحال اپنے ایفا کا منتظر ہے۔ یاد رہے ناردرن بائی پاس کی تعمیر میں بھی برسوں تاخیر ہوئی۔ لہذا وفاق و صوبائی حکومتیں ایک دوسرے پر الزام تراشی کے بجائے جلد از جلد لیاری ایکسپریس وے کی تعمیر کو تکمیل تک پہنچائیں۔