اغوا برائے تاوان میں بعض افسر ملوث ہیں‘ پشاور ہائیکورٹ

طالبان سرکاری اداروں پر حملے کرتے ہیں مگر حکومت انھیں اسپتالوں میں طبی امداد دیتی ہے


Numainda Express December 13, 2012
فاٹامیںحکومتی کنٹرول ختم ہوچکا، گومل زام ڈیم سے مغوی اہلکار7 روز میں بازیاب کرانیکا حکم۔ فوٹو: فائل

پشاورہائیکورٹ نے گومل زام ڈیم سے پیسکوکے مغوی 8اہلکاروں کو 7 روز میں بازیاب کرانے کا حکم دیدیا۔

اپنے ریمارکس میں چیف جسٹس نے کہاکہ قبائلی علاقوںمیںعملاًحکومتی کنٹرول ختم ہوچکاہے اسی وجہ سے وہاں پرشدت پسند عناصرمضبوط ہوکراغواء کی کارروائیاں کرتے ہیں،اس دھندے میں بعض اعلیٰ افسران بھی ملوث ہیں اوراسی وجہ سے وہاں سے لوگوںکی رہائی کروڑوںروپے کے عوض ہوتی ہے۔

15

وفاقی حکومت،گورنر،ایڈیشنل چیف سیکریٹری فاٹا، سیکٹر کمانڈر اورپولیٹیکل ایجنٹ تمام مغویوںکی بحفاظت بازیابی کیلیے ٹھوس اقدامات اٹھائیں ۔ سیکرٹری لاء اینڈ آرڈر فاٹا جمال ناصر نے بتایاکہ مغویوں کی بازیابی کیلئے اب تک سات جرگے ہو چکے ہیں، شدت پسندوں نے 15کروڑ روپے تاوان اور 17شدت پسندوں کی رہائی کا مطالبہ کیا جو قابل قبول نہیں۔