سیاستدان اخلاقیات اور رواداری ملحوظ رکھیں
سیاست کا میدان ایک ایسی راہِ پرخار ہے جہاں ہر سمت اپنے دامن کو کانٹوں سے بچا کر چلنا پڑتا ہے
سیاست کا میدان ایک ایسی راہِ پرخار ہے جہاں ہر سمت اپنے دامن کو کانٹوں سے بچا کر چلنا پڑتا ہے، نیز اس دشت کی سیاحی میں آبلہ پائی ہی مقدر نہیں بنتی بلکہ بلند کردار شخصیتیں بھی ہزار تہمتیں سہہ کر پُرکٹھن گھاٹیوں کو عبور کر کے منزل مقصود تک پہنچتی ہیں۔ سیاست میں مخالفین پر الزامات اور جملے بازی کوئی نیا طرز عمل نہیں لیکن بہرحال ہر سیاستدان کو اپنے اعمال اور بیانات میں اخلاقیات اور رواداری کو ملحوظ خاطر رکھنا ازحد ضروری ہے کہ یہ طرز عمل خود اس کی اپنی شخصیت کا عکاس ہوتا ہے۔
پاکستانی سیاست میں متنازعہ بیان بازی اور رکیک جملوں کا استعمال نئی بات نہیں لیکن اس طرز عمل سے بیرونی دنیا میں پاکستان کی جو جگ ہنسائی ہوتی ہے اس کا سیاستدانوں کو ادراک ہونا چاہیے۔ سندھ کی سیاست میں متحدہ کے بانی کی متنازعہ تقریر اور پارٹی کے دو دھڑوں میں تقسیم ہونے کے بعد جو انتشار پھیلا تھا وہ ابھی تھما نہیں تھا کہ سابق ناظم کراچی مصطفیٰ کمال اور موجودہ گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد کے درمیان مخالفانہ بیان بازی نے ایک بھونچال پیدا کر دیا ہے، اسے فہمیدہ حلقے کسی طور مثبت اقدام قرار نہیں دے رہے ہیں۔
ماضی میں دونوں ایک ہی پارٹی کا حصہ رہے ہیں اور جس طرح کے سنجیدہ الزامات ایک دوسرے پر عائد کیے جا رہے ہیں، سابق سٹی ناظم کو دنیا کا دوسرا بہترین میئر ہونے کا اعزاز حاصل ہوا تو گورنر سندھ کے پاس سب سے زیادہ طویل عرصے یعنی 14 سال تک گورنر رہنے کا اعزاز موجود ہے۔ دونوں صاحبان کو مخالفت میں الزام تراشی اور بیانات دیتے ہوئے محتاط رہنے کی ضرورت ہے، نیز اخلاقیات کو مدنظر رکھا جائے۔
نہایت افسوس کا مقام ہے کہ پاکستانی سیاست ابھی ذہنی بالیدگی کی اس نہج پر ہے جہاں بڑے بڑے نامور سیاستدان اخلاقی گراوٹ اور کج روی کا شکار ہیں اور سیاست کو محض اختلاف برائے اختلافات کے تناظر میں دیکھتے ہوئے سیاسی مخالفین کی کردار کشی میں کسی بھی حد تک جانے میں عار محسوس نہیں کرتے۔ پاکستانی سیاستدانوں کو خیال رکھنا ہو گا کہ ان کا کردار اور طرز عمل ہی عالمی سیاست میں پاکستان کا امیج بنا یا بگاڑ سکتا ہے۔ ہمارے سیاستدان کب نئی نسل کے لیے رول ماڈل بنیں گے؟