برطانوی آرمی چیف کی پاک فوج کو شاباش
بھارتی انتہاپسندوں نے امریکا کی طرح برطانیہ میں بھی پاکستان مخالف نفرت آمیز جذبات بھڑکانے کے لیے مہم شروع کر رکھی ہے
شمالی اور جنوبی وزیرستان سمیت دہشتگردی کے خلاف ملک گیر آپریشن کی کامیابی پر برطانوی چیف آف جنرل اسٹاف جنرل نکولس پیٹرک کارٹرک کی ستائش نہ صرف خوش آیند ہے بلکہ خطے میں پاک افواج کی امن و استحکام اور جمہوری عمل کی سبک روی میں اہم کردار کا اعتراف بھی ہے۔
برطانوی جنرل نے دہشتگردی کے خاتمے میں پاک فوج کے کردار کو سراہتے ہوئے در حقیقت اہل وطن کی اس خواہش کا احترام کیا ہے جو فرنٹ لائن اسٹیٹ کی حیثیت میں پاک فوج کی دہشتگردی کے خلاف بے شمار قربانیوں سے عبارت ہے۔ شمالی وزیرستان کے صدر مقام میران شاہ کے دورے کے موقع پر جنرل نکولس پیٹرک نے کہا کہ پاک فوج ان علاقوں میں بہترین کام کر رہی ہے اور اس علاقے کو کلیئر کرنے اور اسے برقرار رکھنے کا کریڈٹ پاک فوج کو جاتا ہے۔
قبل ازیں جنرل نکولس پیٹرک نے جی ایچ کیو میں آرمی چیف جنرل راحیل شریف سے ملاقات کی۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں اپنی افغانستان میں تعیناتی کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وہ اس مسئلے کی نوعیت کو سمجھتے ہیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق فارمیشن کمانڈر نے برطانوی آرمی چیف کو ایجنسی کی موجودہ صورتحال، ٹی ڈی پیز کی واپسی اور ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے بریفنگ دی۔
یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ برطانوی جنرل کی موجودگی کے دوران پاکستانیوں کو بھارت کی عالمی سطح پر خفت کی ایک اور خبر ملی جو بھارت کی پاکستان مخالف سازشوں کی مسلسل ناکامیوں کا اعلان ہے، کیونکہ امریکا کے بعد لندن میں بھی بھارتی حکومت کو اس وقت سبکی کا سامنا کرنا پڑا جب امریکا ہی کی طرح برطانیہ نے بھی بھارتی انتہاپسندوں کی پاکستان مخالف پٹیشنز مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف قابل قدر قربانیاں اور خدمات دی ہیں اور برطانیہ اس کا اعتراف کرتا ہے۔ در اصل یہ مکافات عمل ہے۔ بھارت جس شدو مد کے ساتھ پاکستان کو دنیا میں تنہا کرنے کے بے ڈھنگے چرچے کرتا ہے اس کنوئیں میں وہ خود گرتا جا رہا ہے۔
یہ اس کی دہری شکست اور سفارتی ہزیمت ہے۔ بھارتی حکومت کو سبق لینا چاہیے کہ دنیا میں طاقت کے نئے محور قائم ہو رہے ہیں، پاکستان کشمیر کا مقدمہ لڑ رہا ہے، بھارتی مظالم سے کشمیر لہو لہان ہے جب کہ بھارتی انتہاپسندوں نے امریکا کی طرح برطانیہ میں بھی پاکستان مخالف نفرت آمیز جذبات بھڑکانے کے لیے مہم شروع کر رکھی ہے جس میں پاکستان کے خلاف برطانوی پارلیمنٹ میں بحث کروانا مقصود ہے لیکن جس طرح امریکا میں آن لائن پٹیشن کو مسترد کر دیا گیا اسی طرح برطانیہ میں بھی بھارتی نژاد برطانوی شہریوں کے علاوہ کسی قابل ذکر شخص کے دستخط نہیں ہو سکے۔ مودی سرکار ہوش سے کام لے۔ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہو گی۔