تصادم سے گریز کی ضرورت

اسلام آباد کی سول انتظامیہ اور پولیس کو ایک مربوط اور جامع حکمت عملی تیار کرنی چاہیے


Editorial October 22, 2016
۔ فوٹو:فائل

عدالت عظمیٰ تے پانامہ لیکس کے معاملے پر وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اور دیگر فریقین کو یکم نومبر کو طلب کر لیا ہے' عدالت عظمیٰ کی جانب سے پانامہ لیکس کے ایشو پر کارروائی کے آغاز پر وزیراعظم سمیت تمام حلقوں نے اطمینان کا اظہار کیا ہے' یوں ایک ایسے تنازعے پر کارروائی کا آغاز ہو گیا ہے جس پر پاکستان کی سیاست میں شدید تلخی کا عنصر در آیا ہے' تحریک انصاف نے 2 نومبر کو اسلام آباد میں دھرنا دینے کا اعلان کر رکھا ہے اور وہ اس سلسلے میں بھرپور تیاریاں کر رہی ہے۔

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اس سلسلے میں مختلف شہروں میں جا کر جلسے کر رہے ہیں۔ گزشتہ روز انھوں نے فیصل آباد میں وکلاء اور کارکنوں سے خطاب کیا۔ اپنے خطاب میں انھوں نے پانامہ لیکس کے بارے میں وزیراعظم کے نوٹس کے اجراء کو تاریخی فیصلہ قرار دیا تاہم انھوں نے کہا کہ پرامن احتجاج کرنا ہمارا آئینی اور جمہوری حق ہے۔ 2 نومبر کو اسلام آباد میں دھرنا فیصلہ کر دے گا کہ ملک میں جمہوریت رہے گی یا بادشاہت۔ انھوں نے مزید کہا کہ ملک تباہی کی طرف جائے گا یا قائداعظم کے خواب کے مطابق پاکستان کو جدید اور ترقی پسند پاکستان بنانے کی شروعات ہو گی۔

انھوں نے واضح کیا کہ سپریم کورٹ میں پانامہ لیکس پر کارروائی شروع ہونے سے احتجاج ختم نہیں ہو گا' اس سے قبل وہ ملتان میں بھی خطاب کر چکے ہیں' گزشتہ روز وہ پشاور میں تھے جہاں انھوں نے جلسے سے خطاب کیا' اس جلسے میں بھی انھوں نے حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا۔ انھوں نے کہا کہ 2 نومبر کو پاکستان کے مستقبل کا فیصلہ ہو گا' انھوں نے وزیراعظم میاں نواز شریف پر روایتی انداز میں الزامات بھی عائد کیے۔ عمران خان شہر شہر جا کر کارکنوں کو متحرک کر رہے ہیں اور مختلف فورمز پر خطاب کر رہے ہیں۔

عمران خان اور تحریک انصاف کے دیگر قائدین بار بار یہ کہہ رہے ہیں کہ 2 نومبر کو اسلام آباد بند کر دیا جائے گا' مختلف جلسوں میں عمران خان کی تقاریر سے بھی یہی لگتا ہے کہ وہ 2 نومبر کو غیر معمولی صورت حال پیدا کرنا چاہتے ہیں' حالات کا جائزہ لیا جائے تو یہی لگتا ہے کہ 2 نومبر کو بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوں گے۔ اس سارے معاملے کا تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ دھرنے کے نتیجے میں کہیں تصادم کی صورت حال پیدا نہ ہو جائے' ظاہر ہے کہ جب شہر میں ہزاروں لوگ جمع ہوں گے تو صورت حال خاصی گمبھیر ہو سکتی ہے۔

ملک میں افواہیں بھی گردش میں ہیں' گھیراؤ جلاؤ اور تصادم کی باتیں بھی ہو رہی ہیں۔ یقیناً یہ ایک تشویش ناک منظر نامہ ہے۔ دھرنا دینا' کوئی ریلی نکالنا یا احتجاجی جلسہ کرنا یقیناً ہر سیاسی جماعت کا جمہوری حق ہے لیکن صورت حال کو تصادم کی طرف لے کر جانا کسی طور بھی درست طرز عمل نہیں ہے۔ ایسی صورت حال میں حکومت اور تحریک انصاف دونوں کی ذمے داریوں میں بہت زیادہ اضافہ ہو جاتا ہے۔ موجودہ حالات میں پاکستان کو سیاسی استحکام کی ضرورت ہے' بڑھتی ہوئی سیاسی محاذ آرائی گھیراؤ جلاؤ میں تبدیل ہوئی تو اس کا نقصان سسٹم کو پہنچے گا اور کسی کے ہاتھ بھی کچھ نہیں آئے گا۔ ایسے حالات میں لاء اینڈ آرڈر کو برقرار رکھنا انتہائی اہم ہے۔

حکومت اور پی ٹی آئی دونوں کو اس امر کی یقین دہانی کرانی چاہیے کہ 2 نومبر کو ہونے والی تمام سیاسی سرگرمیاں آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے پرامن ہوں۔ حکومت اور پی ٹی آئی دونوں کو کچھ بنیادی امور پر قبل از وقت اتفاق رائے قائم کر لینا چاہیے تا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سیاسی کارکنوں کے درمیان کسی قسم کی تلخی یا محاذ آرائی کی نوبت نہ آئے۔ وزارت داخلہ کو اس حوالے سے متحرک کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔

اسلام آباد کی سول انتظامیہ اور پولیس کو ایک مربوط اور جامع حکمت عملی تیار کرنی چاہیے' انتظامات کے حوالے سے انھیں تحریک انصاف کی قیادت کو اعتماد میں لینے کے لیے ان کے ساتھ مذاکرات کرنا چاہئیں تا کہ فریقین کے درمیان ابہام نہ رہے' اسلام آباد راولپنڈی کا ٹریفک پلان بھی تیار ہونا چاہیے اور جڑواں شہروں کے لوگوں کو اس ٹریفک پلان سے آگاہ کرنے کے لیے تشہیری مہم چلائی جانی چاہیے تا کہ اس روز عوام کو پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے اور انھیں پہلے ہی علم ہو کہ انھوں نے اپنے کام پر کن راستوں سے پہنچنا ہے اور کن راستوں سے واپس آنا ہے۔

آخری بات یہ ہے کہ حکومت اور تحریک انصاف کی قیادت کو محاذ آرائی سے ہر ممکن اجتناب کرنا چاہیے' ہم انھی سطور میں پہلے بھی یہ کہہ چکے ہیں کہ تصادم اور گھیراؤ جلاؤ سے ہر ممکن طریقے سے بچا جائے کیونکہ اس سے کسی کو فائدہ نہیں ملے گا۔ جمہوری نظام کی بقا اور سلامتی تمام اسٹیک ہولڈرز کے لیے مقدم ہونی چاہیے۔