بھارت کی اشتعال انگیزیاں اور جھوٹے دعوے
مقبوضہ کشمیر میں ڈیموں کی تعمیر کے باعث دریائے چناب میں پانی کی کمی واقع ہوگئی ہے
اڑی واقعے کے بعد سے بھارت نے پاکستان کے خلاف جو اشتعال انگیز مہم شروع کر رکھی تھی، اس میں کسی حد تک کمی آتی محسوس ہو رہی تھی، لیکن اب چند دنوں سے بھارت نے ایک بار پھر کنٹرول لائن اور ورکنگ باؤنڈری پر اشتعال انگیزی شروع کر رکھی ہے۔
اگلے روز بھی بھارتی بارڈر سکیورٹی فورسز (بی ایس ایف) نے شکرگڑھ اور بجوات سیکٹرز میں ورکنگ باؤنڈری پر بلا اشتعال فائرنگ اور گولہ باری کی۔کنٹرول لائن کے سجیت گڑھ سیکٹر، چپراڑ سیکٹر اور کیرالہ سیکٹر پر بھی بھارت نے گولہ باری سے سول آبادی کو نشانہ بنایا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق بی ایس ایف کی گولہ باری میں چک امرو قصبہ کے شمالی حصے کو ہدف بنایا گیا۔بھارتی اشتعال انگیزی کا بھرپور جواب دیا گیا ہے۔
اس ساری اشتعال انگیزی کا ایک پہلو یہ ہے کہ بھارت نے یہ پروپیگنڈا کیا ہے کہ بھارتی بی ایس ایف کی فائرنگ سے پاکستان کے 7 رینجرز اہلکار شہید ہوئے ہیں۔ یہ بالکل ایسا ہی پروپیگنڈا ہے جیسا بھارتی فوج نے اڑی واقعے کے بعد کنٹرول لائن پر سرجیکل اسٹرائیک کے نام پر کیا تھا، دنیا تو اسے کیا مانتی، بھارت کے اندر سیاسی جماعتوں اور دانشوروں نے اس پر شبے کا اظہار کیا اور حکومت سے ثبوت مانگے جومودی حکومت آج تک پیش نہیں کرسکی۔
اس کے برعکس پاکستان نے اپنے عوام اور دنیا کے سامنے سچ بیانی کی، پاک فوج صحافیوں کو کنٹرول لائن پر لے کر گئی جہاں سب نے دیکھا کہ سرجیکل اسٹرائیک کا کوئی نشان نہیں تھا۔ بھارتی سرجیکل اسٹرائیک کے ڈرامے کے بعد اب رینجرز کے جوانوں کے حوالے سے بھی بھارت اپنے دعوے میں کوئی ثبوت نہیں پیش کر سکا۔
حقیقت یہ کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانیت سوز مظالم و دہشتگردی کے شواہد اور وہاں جاری تحریک کے باعث بھارت عالمی سطح پر سفارتی مشکلات کا شکار ہے، اپنی اس مشکل پر قابو پانے کے لیے بھارتی حکومت کبھی پاکستان پر دراندازی کا الزام لگاتی ہے، کبھی پاکستان کو دنیا میں تنہا کرنے کی دھمکی دیتی ہے اور کبھی سرجیکل اسٹرائیک کا دعوی کرتی اور کبھی آزاد جموں و کشمیر میں ایک کارروائی میں پاکستانی سرحدی فورس رینجرز کے سات اہلکار شہید کرنے کا جھوٹا دعویٰ کرتی۔
یہی نہیں بلکہ بھارت پاکستان کے خلاف آبی جارحیت بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں ڈیموں کی تعمیر کے باعث دریائے چناب میں پانی کی کمی واقع ہوگئی ہے۔ اخباری اطلاع کے مطابق ہیڈ مرالہ کے مقام پر پانی کی آمد میں شدید کمی ہے جس کے باعث پانی کی سطح صرف گیارہ ہزار کیوسک کے لگ بھگ رہ گئی ہے، حالانکہ کچھ عرصہ قبل یہاں پانی کا بہاؤ تیرہ ہزار کیوسک سے زائد تھا، پانی کا بہاؤ کم ہونے کے باعث ہیڈ مرالہ سے نکلنے والی نہر مرالہ راوی لنک کو بند کر دیا گیا، جس سے ہزاروں ایکڑ اراضی پر کھڑی فصلوں کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔پاکستان کی زراعت بری طرح متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
بھارت ایک جانب کنٹرول لائن اور ورکنگ باؤنڈری پر حالات خراب کر رہا ہے اور اپنی فوج کی ساکھ بلند کرنے اور اپنے عوام کو مطمئن کرنے کے لیے جھوٹ پر جھوٹ بول رہا ہے تو دوسری طرف پاکستان کے خلاف آبی جنگ جاری رکھے ہوئے ہے۔ یہ صورت حال اس خطے کے امن کے لیے مسلسل خطرے کا باعث بنی ہوئی ہے۔
پاکستان اس سارے معاملے میں صبر وتحمل سے کام لے رہا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ کنٹرول لائن کی صورت حال سے اصل حقائق بھی دنیا کے سامنے پیش کر رہا ہے۔بھارت نے پاکستان میں ہونے والی سارک کانفرنس ملتوی کرادی تھی ، اس کے بعد اس نے برکس کانفرنس کو پاکستان کے خلاف استمال کرنے کی کوشش کی۔ بھارت کو برکس تنظیم کے اجلاس میں منہ کی کھانی پڑی تھی اور وہ پاکستان کو تنہا کرنے کی کوششوں میں کامیاب نہیں ہو سکا تھا۔
چین نے مشترکہ اعلامیہ میں بھارت کی خواہش کو پورا نہیں ہونے دیا۔ روس بھی اس کا ہم نوا نہیں بنا۔ اس کے ساتھ ہی برطانوی فوج کے سربراہ بھی پاکستان تشریف لائے اور انھوں نے بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے کردار کو سراہا۔مودی حکومت کی یہ بڑی ناکامی ہے لیکن مسئلہ وہی ہے کہ بھارت کی اس جارحیت کا جواب کیسے دیا جائے۔
پاکستان کو دنیامیں سفارت کاری کے ذریعے بھارتی عزائم کو ناکام بنانے کی مہم شروع کرنی چاہیے۔ خاص طور پر آبی جارحیت کے حوالے سے مناسب حکمت عملی تیار کی جانی چاہیے، پانی پاکستان کی زراعت کے لیے اہم ہے، بھارت کو پانی روکنے کے اقدامات سے روکنا انتہا ئی ضروری ہے، اس کے ساتھ ساتھ عالمی برادری کا بھی فرض ہے کہ وہ بھارت کے جھوٹے پروپیگنڈے اور کنٹرول لائن پر اشتعال انگیزی کا نوٹس لے اور اس پر تنازعہ کشمیر کے حل کے مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کے لیے دباؤ ڈالے۔