اسلام آباد دھرنا فراست کا مظاہرہ ناگزیر
پاکستان کی سالمیت و خوشحالی کسی بھی باہمی اختلاف سے بڑھ کر فریقین کے مدنظر رہنی چاہیے
پی ٹی آئی کے احتجاج اور اسلام آباد میں دھرنے کا دن قریب آنے پر ملکی سیاست کے ساتھ عوام میں بھی ہلچل کے آثار دکھائی دے رہے ہیں۔ حکومتی وزراء اور پی ٹی آئی رہنماؤں کی جانب سے شدومد کے ساتھ بیان بازی اور الزام تراشی بھی جاری ہے تاہم یہ اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں کہ درپردہ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مفاہمت کے لیے بیک ڈور چینل سے کوششیں کی جا رہی ہیں جس کے مثبت نتائج ملنے کی توقع ہے۔
پی پی کے سینیٹر رحمٰن ملک نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ 2 نومبر کے دھرنے کو ختم کرنے کے لیے حکومت اور تحریک انصاف میں بیک ڈور رابطے جاری ہیں اور قوی امکان ہے کہ دھرنے کی نوبت نہیں آئے گی اور معاملات طے پا جائین گے۔ اگر اس خبر میں سچائی ہے یہ تو قابل اطمینان بات ہے کیونکہ بہرحال احتجاج و دھرنا سیاست سے کچھ حاصل ہونے والا نہیں بلکہ گزشتہ سال کے دھرنے کی طرح نہ صرف پاکستانی معیشت کو نقصان پہنچے گا، نیز عالمی سطح پر پاکستان کا امیج بھی مزید خراب ہو گا۔
اس سلسلے میں افسوسناک خبر یہ ہے کہ کچھ عرب اور مغربی ممالک کے سفیروں نے انکشاف کیا ہے کہ اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے احتجاج کے باعث مقامی افراد کے مقابلے میں انھیں زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، پیدا ہونے والی صورتحال کے خطرے کے پیش نظر وہ آئندہ ہفتے اپنے اہل خانہ اور اضافی سفارتی عملے کو اپنے ملک واپس بھیج دیں گے۔
شنید ہے کہ حکومت نے اسلام آباد دھرنے کے پیش نظر پارلیمانی جماعتوں سے رابطے کا فیصلہ کیا ہے جس کے لیے 3 رکنی کمیٹی کی تشکیل کے ساتھ معاملہ افہام و تفہیم سے حل کرنے کی حکمت عملی تیار کر لی گئی ہے۔ حکومت کو مذکورہ معاملے کو خوش اسلوبی سے نمٹانے کے لیے فراست کا مظاہرہ کرنا ہو گا نیز فریقین کو اپنے وزراء اور کارکنان کی جانب سے سخت بیان بازی اور اشتعال انگیزی کو روکنا ہو گا تا کہ معاملات درست نہج تک پہنچ سکیں۔
قبل از دھرنا پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت اور اہم ذمے داروں کی گرفتاری کی افواہوں کو روکنا ہو گا تا کہ مزید انتشار سے بچا جا سکے۔ عالمی سطح پر پاکستان کی سبکی اور معیشت کو خطرات سے دوچار ہونے سے بچانے کے لیے فریقین کو چاہیے کہ معاملات خوش اسلوبی سے نمٹانے کے لیے افہام و تفہیم سے کام لیں۔ پاکستان کی سالمیت و خوشحالی کسی بھی باہمی اختلاف سے بڑھ کر فریقین کے مدنظر رہنی چاہیے، یہی درست طرز عمل ہو گا۔