ججز کے تقرر میں صدر صوابدیدی اختیارات استعمال نہیں کرسکتے سپریم کورٹ

جوڈیشل کمیشن اور پارلیمانی کمیٹی کی رائے حتمی ہوگی، جسٹس گلزار


Numainda Express December 14, 2012
چیف جسٹس ہائیکورٹ کیلیے سینئرترین جج ہونا ضروری نہیں، جسٹس گلزار،صدرکوصوابدیدی اختیارحاصل، تقرری روک سکتے ہیں، اٹارنی جنرل۔ فوٹو: فائل

اعلیٰ عدلیہ میں ججوںکی تقرری کے بارے میں صدر مملکت کے ریفرنس پر دلائل مکمل ہوگئے ہیں، آج اکرم شیخ دلائل دیں گے۔

عدالت نے آبزرویشن دی کہ سپریم کورٹ آئین میں ترمیم کی مجاز نہیں، اگر آئین نے صدر مملکت کو ججوںکی تقرری میں کردار نہیں دیا تو سپریم کورٹ بھی انھیں کردار نہیں دے سکتی۔ جسٹس خلجی عارف حسین نے کہا اگر ایک کیس میں صدرکی مداخلت کو تسلیم کر لیا گیا تو آئندہ ججوں کی ہر تقرری میں مداخلت ہوگی۔ جمعرات کو صدرکے وکیل وسیم سجاد، اٹارنی جنرل عرفان قادر اور عدالتی معاونین مخدوم علی خان اور خواجہ حارث نے دلائل مکمل کیے۔

جسٹس خلجی عارف حسین کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ نے سماعت کی،وسیم سجاد نے کہاکہ جوڈیشل کمیشن کی کارروائی کو خفیہ رکھنا درست نہیں، جب آئین نے ججوںکی نامزدگی کیلئے کمیشن کے کسی رکن پر پابندی عائد نہیں کی تو قواعد میں نامزدگی کا اختیار صرف چیف جسٹس کودینا درست نہیں۔ کمیشن اورکمیٹی میںکسی غلطی کا نوٹس نہ لیا جائے تو صدر نوٹس لے سکتے ہیں، تقرری میں صدرکا کردار صرف رسمی نہیں ہو سکتا ،جسٹس خلجی عارف کا کہنا تھا کہ دوسری رائے کا کردار پارلیمانی کمیٹی کوحاصل ہے،آئین نے صدرکو ججوں کی تقرری میںکردار نہیں دیا تو عدالت انھیں نہیں دلا سکتی، سپریم کورٹ آئین میں ایک حرف بھی تبدیل نہیںکر سکتی۔

6

اٹارنی جنرل نے کہا آئین نے بعض معاملات میں صدرکو صوابدیدی اختیار دیا ہے اور ججوںکی تقرری کا معاملہ اس میں شامل ہے۔ کمیشن اورکمیٹی نے تقرری کے عمل میں غلطی کی ہے تو صدر اس پر اس عدالت کی رائے حاصل کر سکتے ہیں لیکن وہ رائے پر عملدرآمدکے پابند نہیں۔ جسٹس خلجی عارف نے کہا اٹارنی جنرل نے جو موقف اپنایا اس کیلئے ضروری ہے کہ آرٹیکل 175اے کو دوبارہ لکھوا دیں اور عدالت یہ کام نہیںکر سکتی۔ عدالتی معاون مخدوم علی خان نے کہا اگرکمیشن اورکمیٹی جائزہ لیتے وقت کسی اہم قانونی نکتے کا احاطہ نہ کر سکیں تو صدر اس پر عدالت کی رائے حاصل کر سکتے ہیں اور صدر رائے پر عملدرآمد کے پابند ہیں، یہی اس تنازعہ کا حل ہے۔

جسٹس طارق پرویز نے کہا آئین کے تحت سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ کی تشکیل صدرکا اختیار ہے، جس شخص کو تشکیل کا اختیار ہے کیا اسے تقرری کے عمل سے باہر رکھا جاسکتا ہے؟ جسٹس خلجی عارف نے کہا چیف جسٹس پاکستان بننے کیلیے سپریم کورٹ کا سینئر ترین جج ہونا لازمی ہے لیکن ہائیکورٹ کا چیف جسٹس بننے کیلیے یہ ضروری نہیں۔ عدالت کے دوسرے معاون خواجہ حارث نے صدارتی ریفرنس کی مخالفت کی۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ ججوں کی سفارشات کے حوالے سے صدرکا فیصلہ حرف آخرہے،صدارتی اقدام پر کسی عدالت کو فیصلے کا اختیار نہیں۔