الیکشن کمیشن کی خوش آیند پیش رفت

عام انتخابات کے لیے فوج کو اسٹینڈ بائی بھی رکھا جائے گا۔


Editorial December 14, 2012
الیکشن پلان کے مطابق ملک بھر میں جہاں بھی حساس پولنگ سٹیشن کی نشاندہی کی جائے گی فوج تعینات کی جائے گی۔ فوٹو: فائل

الیکشن کمیشن نے کراچی کی نئی حلقہ بندیاں کرنے اور فوج کی نگرانی میں ووٹر لسٹوں کام مکمل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں کور کمانڈر کراچی اور سیکریٹری دفاع کو باضابطہ طور پر خط لکھا جائے گا، الیکشن کمشنر سندھ کراچی میں کور کمانڈر سے مل کر ووٹر لسٹوں کی تصدیق کا کام مکمل کرنے میں فورس تعینات کرنے کی تفصیلات فراہم کریں گے۔ چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) فخر الدین جی ابراہیم کی زیر صدارت الیکشن کمیشن کا اجلاس ہوا جس میں چاروں صوبوں سے الیکشن کمیشن کے ممبران، سیکریٹری الیکشن کمیشن و دیگر حکام نے شرکت کی۔

سیکریٹری الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ 16 مارچ کو تحلیل ہو جائے گی تاہم اگر حکومت نے مدت پوری کی تو پھر 16 مارچ کے بعد الیکشن کمیشن کا کام خود بخود شروع ہو جائے گا جب کہ کراچی اور فاٹا سمیت بلوچستان کے بعض علاقوں میں فوج تعینات ہو گی۔ یہ امر بلاشبہ خوش آیند اور امید افزا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر اور سیکریٹری الیکشن کمیشن کی وضاحتوں کے بعد آیندہ انتخابات میں ووٹر لسٹوں کی تصدیق اور دیگر انتخابی اقدامات کے حوالہ سے مختلف سیاسی حلقوں کو اپنے تحفظات کا بہت بڑی حد تک تسلی بخش جواب مل گیا ہو گا، جس سے ایک طرف رائے دہندگان کے ذہن صاف ہوں گے اور دوسری طرف سیاسی جماعتوں کو بھی اس کا یقین ہو جانا چاہیے کہ شفاف الیکشن جمہوریت کی بقا کا معاملہ ہے، اس لیے ووٹروں کی تصدیق یا نئی حلقہ بندیاں اگر اتفاق رائے اور مثبت تجاویز کی روشنی میں کی جا رہی ہوں تو اسے بھی پارٹ آف دی گیم کے طور پر اور اسپورٹس مین اسپرٹ کے ساتھ قبول کرنے سے روادارانہ جمہوری کلچر ہی کو تقویت ملے گی۔ الیکشن کمیشن کے مطابق 2 جنوری کو وفاق کا چاروں صوبائی حکومتوں کے ساتھ اجلاس منعقد کیا جائے گا جس میں پورے میکانزم کو حتمی شکل دی جائے گی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ صائب تجاویز کی روشنی میں مثبت اقدامات آزادانہ انتخابات کے لیے ناگزیر ہیں۔ اور یہ امر خوش آیند ہے کہ سارے معاملات احسن طریقے سے نمٹائے جا رہے ہیں۔

الیکشن پلان کے مطابق ملک بھر میں جہاں بھی حساس پولنگ سٹیشن کی نشاندہی کی جائے گی فوج تعینات کی جائے گی، فوج کے جوان پولنگ سٹیشن کے اندر کھڑے ہوں گے، عام انتخابات کے لیے فوج کو اسٹینڈ بائی بھی رکھا جائے گا، جو ووٹ نئے درج ہو رہے ہیں ان کی تصدیق ساتھ ساتھ کی جائے گی۔ سیکریٹری الیکشن کمیشن نے اجلاس کے بعد بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ کراچی میں ایک ہفتے میں ووٹرلسٹوں کی تصدیق کا کام شروع کر لیا جائے گا۔ شہر میں68 لاکھ ووٹرز کی تصدیق کا کام مکمل کرنا ہے جس میں 13ہزار 622 مردم شماری بلاک ہیں۔ جب کہ نئی حلقہ بندیوں اور ووٹروں کی تصدیق کراچی میں فوج کی مدد سے 65 دن میں مکمل کی جائے گی۔ یہ صراحت بھی بر وقت ہے کہ کراچی میں ووٹروں کی تصدیق کے کام اور ایم کیو ایم کے تحفظات سے متعلق سیکریٹری الیکشن کمیشن نے کہا کراچی میں16 میں سے 15جماعتوں نے اس کی تائید کی ایم کیو ایم نے کہا تھا کہ وہ28 نومبر کے سپریم کورٹ کے فیصلے کا انتظار کریں گے، اب فیصلہ آ گیا ہے اب ان کے رہنما کہتے ہیں کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی تائید کرتے ہیں۔

یہ انداز نظر انتخابات کے پر امن، آزادانہ اور غیر جانبدارانہ انعقاد کی طرف ایک خرد افروز اور جمہوری پیش رفت ہے۔ نئی حلقہ بندیوں اور ووٹر لسٹوں کی تصدیق کے ضمن میں بعض حلقوں میں مبالغہ آرائی کی حد تک معاملات کو اچھا لا گیا تاہم الیکشن کمیشن حکام نے اس بارے میں اقدامات اور انتظامات کی تفصیل مہیا کر کے مثبت قدم اٹھایا ہے اور فوج کی معاونت سے ووٹروں کی تصدیق کی یقین دہانی کر کے یہ پیغام دیا ہے کہ اگر ارباب اختیار جمہوریت کے استحکام، ملکی ترقی کے لیے عوام کو شفاف انتخابات کا تحفہ دینے میں کمر کس لیں تو کوئی کام نا ممکن نہیں۔ امید کی جانی چاہیے کہ تمام سیاسی جماعتیں اپنی توجہ اپنے انتخابی منشور اور آیندہ انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنانے پر مرکوز رکھیں گی۔ الیکشن کمیشن کی یہ یقین دہانی بھی مثبت ہے کہ کسی امیدوار کو اسلحہ کی نمائش اور انتخابی قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔