پاکستان کی ٹیسٹ کرکٹ میں شاندار فتح

پاکستانی کرکٹ ٹیم کی حالیہ فتوحات قابل ستائش ہیں جس نے شائقین کرکٹ کے دل نئی امنگوں سے بھر دیے ہیں


Editorial October 27, 2016

پاکستان کرکٹ ٹیم ان دنوں شاندار فارم میں دکھائی دے رہی ہے اور نہ صرف لگاتار کئی فتوحات اپنے نام کرچکی ہے بلکہ پاکستانی کھلاڑیوں کی طرف سے کئی عالمی ریکارڈ بھی توڑے اور برابر کیے جاچکے ہیں جو کہ پاکستان کے لیے ایک اعزاز کی بات ہے۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم کی حالیہ فتوحات قابل ستائش ہیں جس نے شائقین کرکٹ کے دل نئی امنگوں سے بھر دیے ہیں اور امید کی جا رہی ہے کہ اگلے ورلڈ کپ تک پاکستان کرکٹ ٹیم بہترین کارکردگی کے باعث ماضی کی یادیں تازہ کردے گی۔ ابوظہبی میں کھیلے گئے ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹیسٹ میچ میں پاکستان نے شاندار فتح حاصل کرکے سیریز 2-0 سے اپنے نام کرلی ہے۔

ویسٹ انڈیز سے ابوظہبی ٹیسٹ میں فتح حاصل کرتے ہوئے مصباح الحق نے سب سے کامیاب ایشین کپتان کا اعزاز حاصل کیا ہے، سینئر بیٹسمین 10 ویں سیریز جیت کر سارو گنگولی اور مہندرا دھونی سے آگے نکل آئے ہیں، ان دونوں نے 9، 9 سیریز اپنے نام کی تھیں، جب کہ بولر یاسر شاہ 18 میچز میں زیادہ وکٹیں حاصل کرنے کے ریکارڈ میں جارج لومین اور سڈنی بیرنز کے شراکت دار بن گئے، لیگ اسپنر کے 112 شکار مکمل ہوگئے ہیں، انھوں نے سعید اجمل کے بعد یو اے ای میں وکٹوں کی ففٹی کا سنگ میل عبور کرنے والے دوسرے باولر کے طور پر بھی اپنا نام درج کرا لیا ہے۔

یاسر شاہ ایک سال میں 2 بار ٹیسٹ میں 10 وکٹیں اڑانے والے پاکستان کے 7 ویں باولر ہیں۔ واضح رہے کہ ابوظہبی پاکستان کی سب سے پسندیدہ شکارگاہ بن گیا ہے، یہاں ناقابل شکست گرین کیپس نے 5 ٹیسٹ جیتے ہیں، ٹیم کو کسی اور وینیو پر اتنی زیادہ فتوحات حاصل نہیں ہوئیں۔ جہاں پاکستانی ٹیم بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کررہی ہے وہیں ویسٹ انڈین کرکٹ کا زوال بھی شائقین کے لیے باعث تشویش ہے، ایک دور تھا جب کیریبئنز کا ڈنکا بجتا تھا، عالمی کرکٹ کے بڑے نام جزائر کی ٹیموں میں شامل رہے تاہم اب ماضی جیسے حالات نظر نہیں آتے۔

امید ہے پاکستانی کرکٹ ٹیم ویسٹ انڈیز کے بعد دیگر ٹیموں کے ساتھ مقابلے میں بھی اسی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرے گی، نیز ٹیسٹ کرکٹ کے علاوہ ون ڈے میچز کی طرف بھی دھیان دینے کی ضرورت ہے۔ کرکٹ بائی چانس اپنی جگہ لیکن سخت محنت اور لگن ہی کسی بھی کھیل میں کامیابی کی ضمانت ہے۔ پاکستانی کرکٹ ٹیم کو مطمئن ہوکر نہیں بیٹھنا چاہیے۔ ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں۔