چین کا بھارت کو انتباہ

بھارت چین سے اس لیے ناراض ہے کہ اس نے اڑی واقعے پر بھارتی موقف کی حمایت سے انکار کر دیا تھا


Editorial October 30, 2016
عالمی رہنمااقتصادی بہتری کیلیے بے مقصدمذاکرات سے اجتناب کریں، دنیا چین کی طرف دیکھ رہی ہے، جن پنگ فوٹو اے ایف پی/ فائل

عوامی جمہوریہ چین اور بھارت کے مابین دلائی لامہ کے دورہ ارونا چل پردیش پر شدید اختلافات سامنے آئے ہیں۔ بھارت نے چین کی سرحد سے متصل متنازعہ علاقے ارونا چل کو اپنا صوبہ بنا رکھا ہے' اسی علاقے کے تنازعہ پر چین اور بھارت کے درمیان جنگ ہو چکی ہے' اب بھارت نے دلائی لامہ کو اس ریاست کا دورہ کرنے کی اجازت دے رکھی ہے' چین نے بھارت کو خبردار کیا ہے کہ دلائی لامہ کو متنازعہ علاقے کے دورے کی اجازت نہ دی جائے۔

بھارت کی شان یہ ہے کہ اس کے اپنے تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ تنازعات قائم ہیں اور اس کی کوشش ہوتی ہے کہ ان سب کا ناطقہ بند کرتا رہے۔ پاکستان کے ساتھ تو اس کی روز اول سے شدید دشمنی ہے کیونکہ اس نے پاکستان کے وجود کو ہی دل سے تسلیم نہیں کیا اور ہر ہر قدم پر پاکستان کے ساتھ دشمنی کا کوئی نہ کوئی مظاہرہ ضرور کیا۔ بھارت نے چین کے علاقے تبت کے دلائی لامہ کو سیاسی پناہ دے رکھی ہے۔

بھارت دلائی لامہ کی عالمی سطح پر پذیرائی کرتا رہا اور تازہ ترین صورتحال میں دلائی لامہ کے ان علاقوں میں دورے کا اہتمام کر رہا ہے جنھیں چین متنازعہ علاقہ قرار دیتا ہے تاہم چین نے بروقت بھارت کو انتباہ کر دیا ہے کہ وہ ایسی کوئی حرکت نہ کرے جو چین کے علاقائی مفادات کے منافی ہو۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لوکانگ نے بیجنگ میں میڈیا بریفنگ کے دوران کہا انھیں خبریں ملی ہیں کہ بھارت تبت کے روحانی پیشوا دلائی لامہ کے اروناچل پردیش کے دورے کا پروگرام بنا رہا ہے جس کی رسمی دعوت ریاستی وزیراعلیٰ پیما کھنڈو نے دی ہے۔

چینی ترجمان نے کہا اس حرکت سے چین اور بھارت کے دوطرفہ تعلقات کو شدید زک پہنچے گی اور چین کے سرحدی علاقے کا امن خراب ہو جائے گا۔ واضح رہے چین جنوبی تبت کے علاقے کو اپنا حصہ تصور کرتا ہے جب کہ دلائی لامہ کو چین دشمن سرگرمیوں کے باعث علیحدگی پسندی کا ذمہ دار قرار دیتا ہے۔ چینی ترجمان نے کہا بھارت کا یہ اقدام چین کے لیے ناقابل برداشت ثابت ہو گا۔

ترجمان نے مزید کہا کہ بھارتی ریاست گوا میں ہونے والی 'برکس' کی میٹنگ میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی چینی صدر شی جنگ پنگ سے ملاقات ہوئی تھی جس میں چینی صدر نے بھارت کو اس قسم کی کسی حرکت سے باز رہنے کی تاکید کی تھی۔ ایسا لگتا ہے کہ بھارت چین سے اس لیے ناراض ہے کہ اس نے اڑی واقعے پر بھارتی موقف کی حمایت سے انکار کر دیا تھا' اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں چین نے پاکستان کے حق میں ویٹو بھی کیا ہے' اب بھارت چین میں علیحدگی پسند تحریکوں کی حمایت کر رہا ہے۔

دلائی لامہ کو بھارت نے برسوں سے سیاسی پناہ دے رکھی ہے' گزشتہ دنوں بھارت ایسٹ ترکستان موومنٹ کے ایک رہنما کو بھی اپنے ہاں آنے کی اجازت دینے والا تھا لیکن چین کے شدید ردعمل سے گھبرا کر اس نے ایسا نہیں کیا۔