الطاف حسین کو نوٹسسپریم کورٹ کاتفصیلی فیصلہ جاری

تقریرمیں توہین کاعنصرموجودہے،الزامات سنگین ہیں،خطاب کااقتباس بھی شامل


Numainda Express December 17, 2012
تقریرمیںتوہین کاعنصرموجودہے،الزامات سنگین ہیں،خطاب کااقتباس بھی شامل۔ فوٹو: فائل

سپریم کورٹ نے ایم کیو ایم کے رہنما الطاف حسین کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کرنیکا اردو ترجمے کیساتھ تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کردیا ہے۔

چیف جسٹس افتخارمحمد چوہدری ،جسٹس جواد ایس خواجہ اورجسٹس انور ظہیر جمالی پر مشتمل 3 رکنی بینچ نے 14 دسمبر کوالطاف حسین کو ان کی 2 دسمبر کی تقریر پر آرٹیکل 204 ہمراہ توہین عدالت آرڈیننس دفعہ 3 کے تحت نوٹس جاری کیا تھا، فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پیمراسے حاصل کردہ ایم کیوایم کے رہنماالطاف حسین کی ٹیلیفونک تقریرکا جائزہ لینے سے یہ ظاہر ہوتاہے کہ اُنکی جانِب سے اِلزامات سنگین نوعیت کے اورتوہین آمیز ہیں، فیصلے میں الطاف حسین کی تقریرکااقتباس بھی دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ تقریر کے مندرجات میں عدالت عظمیٰ کے معززجج صاحِبان کودھمکایا گیا۔

یہ عدالت کے معاملات میں مُداخلت اور مزاحمت کے مترادف ہیں اور اِن میںججوں کیلئے نفرت ، تضحیک اورتوہین کا عنصر موجود ہے، فیصلے میںکہاگیاکہ کراچی میں امن وامان سے متعلق مقدمہ کا فیصلہ قابل قبول تھا کیونکہ اس کیخلاف نظرثانی کی کوئی درخواست دائر نہیں کی گئی، ان الزامات کی وجہ سے فیصلے میںہدایات اور 3 مختلف مواقع پرجاری کردہ احکام پر عملدرآمد بھی متاثر ہوسکتا ہے۔

05

فیصلے میںالطاف حسین کو 7 جنوری کو بذات خود پیش ہوکر وضاحت کرنے اورسیکریٹری خارجہ کو بذریعہ نمائندہ فارن آفس سمن کی تعمیل کرانے کی ہدایت کی گئی ہے،ایک سمن ڈاکٹرفاروق ستارکے ذریعے کراچی کے پتہ پر بھجوانے کی بھی ہدایت کی گئی ہے،فیصلے کے تحت حاجی عدیل کی جانب سے دائر توہین عدالت کی درخواست پر سندھ کے ایڈوکیٹ جنرل کو کراچی امن وامان کیس کے فیصلے پر تعمیل کی رپورٹ پیش کرنے،صوبائی حکومت کو کراچی میںقتل کی وارداتوں میںاضافے کی وجوہ پیش کرنے اور 13 نومبر 2011 سے اب تک قتل ہونیوالے افرادکی تفصیلات بھی پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔