مذہبی ہم آہنگی ‘تقاضائے وقت

سیکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں، کالعدم تنظیموں ، ٹارگٹ کلرز اور سہولت کاروں کے خلاف ملک بھر میں کریک ڈاؤن شروع کردیا ہے


Editorial November 07, 2016
پولیس کی مظاہرین پر آنسو گیس کی شیلنگ، مظاہرین کے منتشر ہونے پر نیشنل ہائی وے ٹریفک کے لیے بحال ہوگئی

سیکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں، کالعدم تنظیموں ، ٹارگٹ کلرز اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف ملک بھر میں کریک ڈاؤن شروع کردیا ہے۔ ہائی سیکیورٹی الرٹ کے ساتھ ہی بڑے پیمانہ پر فرقہ واریت ، تخریب کاری ، دہشتگردی، منافرت آمیز لٹریچر کی تقسیم میں ملوث عناصر اور بہیمانہ جرائم میں ملوث جرائم پیشہ افراد مختلف الزامات اور وارداتوں کے حوالے سے حراست میں لے لیے گئے اور ان کے قبضہ سے اسلحہ و بارود برآمد کرنے کی اطلاعات بھی آئی ہیں ۔

ذرایع کے مطابق سندھ ، بلوچستان، خیبر پختونخوا اور پنجاب کے مختلف علاقوں میں سرچ آپریشن جاری ہے۔ باڑہ اور جمرود میں غیر معینہ مدت کے لیے کرفیو نافذ جب کہ پاک افغان شاہراہ بند کردی گئی ہے، کوئٹہ میں کالعدم تنظیم کے ایک کمانڈر کی گرفتاری عمل میں آئی نیز بعض دہشتگردوں کے پنجاب میں داخلے کی اطلاع پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہمہ وقت مستعد رہنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

بلاشبہ دہشتگردی ملکی سالمیت کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے جس کے سدباب کے کے لیے ریاست اور حکومت کو اختیار ہے کہ وہ اس کی راہ میں سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنے کیونکہ پاکستان کے بد خواہ سیاسی ، سفارتی اور دفاعی سطح پر منہ کی کھانے کے بعد ملک میں داخلی انتشار اور عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے سازش کی کسی بھی مذموم حد تک جاسکتے ہیں جب کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے گذشتہ چند روز کے دوران شہر قائد میں ٹارگٹ کلنگ کے رونما ہونے والے افسوس ناک واقعات کی شفاف انٹیلی جنس اور مکمل تحقیق و تفتیش کی روشنی میں کسی نتیجہ پر پہنچیں ، آج صورتحال یہ ہے کہ مدرسوں کی رجسٹریشن ، جدید دور کے مطابق کثیر مشاورتی مذہبی نصاب کی تیاری، متنازع مدارس کی بندش، ان کے فنڈنگ آڈٹ پر علمائے کرام ، مدارس کی ملک گیر تنظیموں میں مشاورت کا عمل جاری ہے۔

مدارس کی اپنی شاندار علمی تاریخ ہے، ہر شخص فرقہ پرست نہیں اور نہ ہر مذہبی اور دین دار شخص واجب الحراست ہے، ماضی میں مذہبی اداروں ، مدارس اور دیگر تنظیموں کے خلاف کارروائی ہوئی مگر بے ہنگم گرفتاریوں سے مسائل پیدا ہوئے، پیر کو کراچی و حیدرآباد اور دیگر شہروں میں مذہبی تنظیموں کے احتجاج اور دھرنے جاری تھے، چنانچہ ملکی صورتحال اب زیادہ توجہ طلب ہے، علمائے کرائم اور مدارس و مساجد کے منتظمین سے بھی ہماری استدعا ہے کہ وہ دہشتگردی کے خلاف حکومت کی رہنمائی اور اس کی مدد کریں اور ایسے عناصر کو اپنی صفوں میں داخل نہ ہونے دیں جن کی کارستانیاں دین کی بدنامی کا باعث بنتی ہوں۔

دہشتگردی اور ٹارگٹ کلنگ کی حالیہ لہر امت کے لیے لمحہ فکریہ ہے، کسی بیگناہ کا قتل انسانیت کے قتل کے مترادف ہے، اس حوالے سے کراچی میں اچانک قتل و غارت خالی از علت نہیں ، اس لیے ایسا نہ ہو کہ کوئی خفیہ ہاتھ مسلمانوں میں نفاق کا بیج بونے کی سازش میں کامیاب ہو۔اس ہاتھ کو سواد اعظم مل کر کاٹے۔ بہت سے عناصر معاشرتی ، مذہبی، مسلکی ، فرقہ وارانہ اور فکری ہم آہنگی کو پارہ پارہ کرکے ملت اسلامیہ اور مذہبی یکجہتی کو نقصان پہنچنے کے درپے ہیں اور کہیں بھی چنگاری سلگا کر اسے فرقہ واریت کی شکل دے کر ملک کے عدم استحکام کی مذموم کوشش کرسکتے ہیں ، 4 نومبر کو گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد نے کہا کہ دہشتگردی کی 33 وارداتیں روک کر شہر قائد کو تباہی سے بچا لیا گیا ، ایسے امن دشمنوں کے خلاف تمام مذہبی اور دینی قیادتوں کو ملک گیر پیمانہ پر اخوت ، بھائی چارہ اور قومی یکجہتی کی لازوال مثال پیش کرنی چاہیے۔

گزشتہ روز کراچی میں فرقہ وارانہ تشدد میں ایک درجن افراد سے زائد ہلاکتوں کے بعد سندھ حکومت نے کراچی کے93مدارس اور گردونواح کے علاقوں میں کریک ڈاؤن شروع کر دیا ہے۔ ذرایع نے مزید بتایا کہ آئی جی کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کی زیرنگرانی ایک کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے جو حال ہی میں افغانستان کے دورے کے بعد وطن واپس لوٹی ہے۔ وزیر اعلیٰ ہاؤس میں حالیہ ہونے والے ایک اجلاس کی تفصیلات کا انکشاف کرتے ہوئے ایک سینئرعہدیدار نے بتایا کہ ایسے3ہزار عادی مجرموں اور 14سو مشتبہ دہشت گردوں کو گرفتار کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے جو ضمانت پر رہا ہیں لیکن مقدمات کی سماعت پر نہیں آتے۔ یہ احکامات ٹھوس پیش قدمی کی ضرورت کا احساس دلاتے ہیں۔ ملک میں امن و استحکام ضروری ہے۔

لہٰذا امن دشمنوں کے خلاف کارروائی شفاف جب کہ بلا ثبوت اور اندھا دھند نہ ہو، تاکہ کوئی شکایت نہ کرے ، امن دشمنوں اوردہشتگردوں کے خلاف کومبنگ آپریشن ہو، اچانک کریک ڈاؤن یا سرچ آپریشن ہو ، وہ بلا امتیاز ہو ، ٹارگٹ حقیقی معنوں میں وہ بے رحم عناصر ہوں جو معاشرے میں مذہبی ، فرقہ وارانہ، مسلکی ، فکری اور نظریات کے خود ساختہ ایجنڈے کو امن پسند شہریوں پر مسلط کرتے ہیں ۔ علمائے کرام بھی مظاہرین کو صبر کی تلقین کریں، حکومت ملزمان کی گرفتاری یقینی بنائے، دشمن وطن عزیز میں فرقہ وارانہ فساد کروانے میں سرگرداں ہے لہٰذا ملکی سلامتی ، داخلی امن و امان اور شہریوں کی جان اور مال کے تحفظ کے لیے حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے تعاون وقت کا تقاضہ ہے۔