پشاور کے بعد جمرود میں دہشت گردوں کاحملہ

پاکستان میں بے گناہوں جو خون بہا ہے اس میں دہشت گردوں کے پشت پناہ بھی برابر کے شریک ہیں۔


Editorial December 17, 2012
جمرود دھماکا اس حقیقت کو عیاں کرتا ہے کہ دہشت گردوں کا نیٹ ورک انتہائی مضبوط ہے۔ فوٹو : اے ایف پی

خیبر ایجنسی کے جمرود بازار میں فوجی مارکیٹ کے قریب بارود سے بھری گاڑی کے دھماکے سے 17 افراد جاں بحق اور 60 سے زائد زخمی ہو گئے۔ سیکیورٹی ذرایع کے حوالے سے اب تک جو معلومات ملی ہیں، ان کے مطابق گاڑی میں 30 کلو سے زائد دھماکا خیز مواد تھا۔ دھماکے سے بازار میں موجود گاڑیوں اور دکانوں کو بھی نقصان پہنچا۔ میڈیا نے پولیٹیکل ایجنٹ کے حوالے سے کہا ہے کہ دھماکا خیبر ایجنسی کی تحصیل باڑا میں جنگجوؤں کے خلاف آپریشن کا ردعمل ہے۔ ہفتہ کی رات دہشت گردوں نے پشاور میں باچا خان انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور اس سے ملحقہ پاک فضائیہ کے ایئر بیس کو نشانہ بنایا تھا۔ سیکیورٹی اداروں کی کارروائی کے نتیجے میں ہفتے اور اتوار کو 10 دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔ اطلاعات کے مطابق مرنے والوں میں سے پانچ کا تعلق وسط ایشائی ریاست ازبکستان اور ایک کا قفقاز کی ریاست داغستان سے ہے۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سابق سوویت یونین میں شامل مسلم ریاستوں کے باشندے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں چھپے ہوئے ہیں اور انھیں بعض مقامی لوگوں کی تائید وحمایت بھی حاصل ہے۔انھی کی مدد اورپشت پناہی کے باعث یہ دہشت گرد اپنی کارروائیاں کررہے ہیں۔یوں دیکھا جائے کہ دہشت گردوں نے اب تک پاکستان میں بے گناہوں جو خون بہایا ہے ، اس میں دہشت گردوں کے پشت پناہ بھی برابر کے شریک ہیں۔ دہشت گردوں نے ہفتہ کو پشاور ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا، ان کا ہدف پاک فضائیہ کی ائر بیس تھی لیکن سیکیورٹی فورس کی بروقت کارروائی سے دہشت گرد اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوسکے۔پانچ دہشت گرد اسی وقت مارے گئے جب کہ باقی پانچ فرار ہوگئے ۔اگلے روز یہ بھی مارے گئے۔ پشاور ایئر پورٹ پر حملے کے تیسرے روز جمرود میں دھماکا ہونا ، اس حقیقت کو عیاں کرتا ہے کہ دہشت گردوں کا نیٹ ورک انتہائی مضبوط ہے۔

اس وقت پورا ملک دہشت گردی کی لپیٹ میں آیا ہوا ہے خاص طور پر خیبر پختون خوا کا علاقہ دہشت گردوں کے نشانے پر ہے۔ یہ دہشت گرد کہاں سے آ رہے 'انھیں تربیت کون دے رہا اور ان کی مالی امداد کون کر رہا ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں جو ہر طرف سے اٹھائے جا رہے ہیں جن پر ہماری جمہوری حکومت، انٹیلی جنس اداروں اور ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں کو توجہ دینی چاہیے۔ پشاور میں مارے جانے والے دہشت گردوں کی بطور ازبک اور داغستانی کی شناخت کے بعد یہ امر اس پر دلالت کرتا ہے کہ دہشت گردی میں غیر ملکی باشندے بھی ملوث ہیں اور پاکستان میں انھیں پناہ دینے والے بھی موجود ہیں۔ دہشت گردوں کا مقصد سیکیورٹی اداروں اور اہم تنصیبات کو نقصان پہنچا کر پاکستان کو کمزور کرنا ہے۔ پاکستان میں کچھ حلقے یہ بھی کہتے ہیں کہ بھارت افغانستان میں دہشت گردوں کو تربیت دے رہا ہے اور اس نے وہاں بڑے پیمانے پر تربیتی کیمپ قائم کر رکھے ہیں۔

اگر ان الزامات کو درست مان لیا جائے تو یہ صورتحال اس جانب اشارہ کرتی ہے کہ افغان حکومت پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہے، افغانستان میں امریکا اور نیٹو افواج بھی موجود ہیں لہٰذا کوئی بھی تربیتی کیمپ ان کی آشیر باد کے بغیر اپنا وجود قائم نہیں رکھ سکتا۔ یوں دیکھا جائے تو پاکستان کے شمال مغرب میں صورتحال انتہائی پیچیدہ بن چکی ہے۔ایک پہلو یہ بھی ہے کہ جب سے شمالی وزیرستان میں آپریشن کی باتیں شروع ہوئی ہیں تب ہی سے خیبر پختون خوا میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں خطرناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے۔ دہشت گرد سیکیورٹی اداروں' اہلکاروں اور دیگر اہم تنصیبات کو نشانہ بنا کر حکومت' عسکری اداروں اور عوام کا مورال کمزور کرنا اور یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ اگر پاکستانی حکام نے بلا چون و چرا ان کے آگے سر تسلیم خم نہ کیا تو انھیں اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔

ہمارے سیکیورٹی اداروں کا عزم بلند ہے اور وہ اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر دہشت گردوں کے خلاف بھرپور کارروائی کر رہے ہیں۔ اس لڑائی میں اب تک ہمارے سیکڑوں جوان شہادت کا جام نوش کر چکے ہیں مگر کسی کے حوصلے پست نہیں ہوئے اور وہ پہلے سے بھی زیادہ عزم اور بہادری سے دہشت گردوں کا مقابلہ کر رہے ہیں۔اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں جب تک اندرون ملک حمایت نہ ملے دہشت گرد اپنی کارروائیوں میں کامیاب نہیں ہوسکتے۔ دہشت گردی کی کارروائیوں کا جائزہ لینے سے یہ حقیقت کھل کر سامنے آ جاتی ہے کہ پاکستان کو اس وقت مشرقی سرحد کے بجائے شمال مغربی سرحد سے زیادہ خطرہ ہے اور اس وقت لڑائی بھی شمال مغربی علاقوں میں ہو رہی ہے۔ پاکستان کی بقا اور دفاع کا راز بھی اس امر میں مضمر ہے کہ عوام دہشت گردی کے خلاف کارروائی میں عسکری اداروں کے شانہ بشانہ چلیں کیونکہ ان کے تعاون کے بغیر تنہا عسکری ادارے کسی بھی جنگ کو اس کے منطقی انجام تک نہیں پہنچا سکتے۔ دوسری جانب مذہبی رہنمائوں کو بھی اب اپنی پالیسی پر نظرثانی کرنا ہو گی کہ دفاع پاکستان تب تک ہی ممکن ہے جب تک ہمارے عسکری ادارے مضبوط اور محفوظ ہیں۔ مذہبی رہنمائوں کو بھی دہشت گردی کی مذموم کارروائیوں کے خلاف کھل کر میدان میں آنا اور اس کی مذمت کرنا ہو گی۔ پاک بھارت جنگوں میں پاکستان کا اتنا نقصان نہیں ہوا جتنا شمال مغربی سرحد سے ہونے والی دہشت گردی نے پہنچایا ہے۔ دفاع پاکستان کے لیے پوری قوم کو سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند دہشت گردوں کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا ہو گا' خاکم بدہن اگر اسی طرح دہشت گرد اپنی کارروائیوں میں کامیاب ہوتے رہے تو پھر پاکستان کی سلامتی اور دفاع بھی کمزور پڑ جائے گا اور ہمارا دشمن چاہتا بھی یہی ہے۔