مصلحتوں سے بالاتر آپریشن ہی علاج ہے

مجرمانہ گروہ ایک خفیہ ڈیل کے تحت اپنے مذموم مفادات اور ایجنڈے کی تکمیل کے لیے شہر کی اینٹ سے اینٹ بجا رہے ہیں۔


Editorial December 17, 2012
بلاول ہاؤس کراچی میں گورنر سندھ نے صدر زرداری کو امن و امان کی صورت ھال پر بریفنگ دی۔ فوٹو : اے پی پی

ISLAMABAD: صدرآصف علی زرداری نے کراچی میں ٹارگٹڈآپریشن کادائرہ مزیدوسیع کرنے کی ہدایت کردی ہے اور کہاہے کہ دہشت گردوں کاقلع قمع کرنے کے لیے جن وسائل کی ضرورت ہوگی،وہ وفاقی حکومت فراہم کرے گی،کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کے دوران جاں بحق ہونے والے شہریوں کے ورثا کی مالی امدادکے لیے بھی موثر پالیسی تشکیل دی جائے۔یہ بات انھوں نے صدارتی کیمپ آفس بلاول ہائوس میں گورنرسندھ ڈاکٹرعشرت العباد اور وزیراعلیٰ سندھ سیدقائم علی شاہ سے ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

اس موقعے پر صدرنے کہا کہ کراچی میں قیام امن حکومت کی اولین ترجیح ہے،کراچی ملک کا معاشی حب ہے،کراچی میں امن خراب کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی،کراچی میں قیام امن کے لیے سیاسی قوتوں کو بھی اپناکردارادا کرنا ہوگا۔کراچی کی مخدوش صورتحال کو بلاشبہ ملکی سیاسی حالات کے تناظر میں طلسم ہوش ربا کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کیونکہ ابھی تک ملک کے سب سے بڑے تجارتی شہر میں بھتہ خوری،دہشت گردی،اغوا برائے تاوان ، ٹارگٹ کلنگ اور سٹریٹ کرائم کے مجموعی ہولناک منظر نامہ میں کسی قسم کی کوئی کمی دیکھنے میں نہیں آتی بلکہ ہر گزرتے دن اور ارباب سیاست کے روز افزوں دعوئوں کے شور میں بیگناہ شہریوں اور معصوم بچوں کی فائرنگ سے ہلاکتوں کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا، گزشتہ اتوار کو بھی 6 انسانی جانیں جن میں 3 ماہ کی شیر خوار بچی حمیرا بھی شامل تھی گولیوں کی زد میں آکر ہلاک ہوگئی۔خوف وہراس کے اس عالم میں آئی جی سندھ فیاض لغاری کے اس بیان نے اہل شہر کو مزید ششدر کردیا کہ اگر پولیس پیچھے ہٹ گئی تو شہر کو کوئی نہیں بچا سکتا۔مگر سوال یہ ہے کہ شہر تو کافی برباد ہوچکا، کیا کوئی کمی رہ گئی ہے! آخر کس نے پولیس اور رینجرز کو اندھا دھند فائرنگ، آتش زنی، جلائو گھیرائو اور لاقانونیت کے اندوہ ناک واقعات میں ملوث عناصر کو قانون کے شکنجے میں لانے سے منع کرتے ہوئے پیچھے ہٹنے یا خاموش تماشائی بنے رہنے کا حکم دیا ہے، شہر کی مزید بد بختی تو یہ بھی ہے کہ قاتلوں کے مسلح گینگ علانیہ دکانیں بند کراتے ہیں،ٹرانسپورٹ روکی جاتی ہے،راہگیروں کو قتل کیا جاتا ہے لیکن کوئی قاتل پکڑا نہیں جاتا۔لیاری میں مکمل گینگ وار کارندوں کی بادشاہت قائم ہے۔

ان کی نجی جیلیں اور ٹارچر سیل ہیں جہاں وہ لوگوں پر تشدد کرتے ہیں۔ شہر کی اکثر آبادیوں میں جمعہ ،ہفتہ اور اتوار کوموت کا سناٹا طاری رہا۔وفاقی وزیر داخلہ اگرچہ کئی بار سیکیورٹی پر مامور پولیس رینجر اور ایف سی کو فری ہینڈ دینے اور ٹارگٹڈ آپریشن کو نتیجہ خیز بنانے کا دعویٰ کرتے نظر آتے رہے ہیں ، تاہم جس بہیمانہ طریقے سے لوگ مارے جارہے ہیں یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ صدر مملکت کو ایک بار پھر کراچی میں ٹارگٹڈ آپریشن کا دائرہ وسیع کرنے کی ہدایت کرنا پڑی ۔عوام پریشان ہیں ،اوریہ سوچ رہے ہیں کراچی کے ٹارگٹ کلراور بھتہ خور کیا خلائی مخلوق ہیں یا قانون سے بالاتر کوئی طبقہ ہے جس کا میڈیا یا انصاف کے ایوانوں میں صرف چرچا ہوتا ہے لیکن ان کے خلاف عبرت ناک کارروائی کسی کو ہوتی دکھائی نہیں دیتی۔حکام اس حقیقت کا ادراک کریں کہ کراچی کو دہشت گردی کے ایک عفریت کا سامنا ہے اور لگتا ہے مجرمانہ گروہ ایک خفیہ ڈیل کے تحت اپنے مذموم مفادات اور ایجنڈے کی تکمیل کے لیے شہر کی اینٹ سے اینٹ بجا رہے ہیں۔ان پر پولیس اور رینجرز کو قہر بن کر ٹوٹ پڑنے سے کسی نے نہیں روکا۔ادھر گورنر سندھ نے تاجروں کے مسائل اورعلمائے کرام سے ہونے والی ملاقاتوں کے حوالے سے صدرمملکت کو بریفنگ دی۔ تاجر خوفزدہ ہیں ، وہ ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں، چنانچہ صدر نے انھیں یقین دلایا ہے کہ حکومت تاجروں کے تمام مسائل حل کرے گی اورانھیں ہر ممکن تحفظ فراہم کرے گی ۔یاد رہے کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کچھ روز قبل فاٹا کے قبائلی علاقوں میں لاقانونیت سے انسانی حقوق کے بحران کا مسئلہ اٹھایا تھااور یہ انکشاف کیا کہ کراچی میں بھی اس بحران نے سر اٹھایا ہے۔شہریوں کی زندگی عذاب بن چکی ہے۔بھتہ خور طاقت کا سرچشمہ بن چکے ہیں،جن سے تاجر خوفزدہ ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ الارمنگ لمحے ہیں اور سیاسی مصلحتوں سے بالاتر ''ونس فار آل ''آپریشن ہی لاقانونیت کا علاج ہے۔