نئے گورنر سندھ کی آمد 

ایم کیو ایم کی جانب سے نامزدگی کے بعد عشرت العباد کو سندھ کے طویل عرصہ تک گورنر رہنے کا اعزاز حاصل رہا


Editorial November 10, 2016
۔ فوٹو: فائل

صدر مملکت ممنون حسین نے ڈاکٹر عشرت العباد خان کو ہٹا کر جسٹس (ر) سعیدالزماں صدیقی کو گورنر سندھ مقرر کر دیا ہے۔ وہ سندھ کے 30 ویں گورنر ہونگے۔ ایوان صدر نے نئے گورنر سندھ کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔ نئے گورنر سعیدالزماںصدیقی کا شمار ایک دانشور،بے داغ منصف اور سپریم کورٹ کے ان قابل افتخار ججز میں ہوتا ہے جنوں نے جنرل پرویز مشرف کے دور آمریت میں پی سی او کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کیا تھا چنانچہ عمر رسیدگی کے باوجود اس عہدہ کو قبول کرنے کا ایک ہی مقصد انھوں نے بیان کیا ہے کہ وہ شہر قائد میں امن کی مکمل بحالی کو اپنی اولین ترجیح سمجھتے ہیں۔

ایم کیو ایم کی جانب سے نامزدگی کے بعد عشرت العباد کو سندھ کے طویل عرصہ تک گورنر رہنے کا اعزاز حاصل رہا، وہ 14 سال تک آٹھ وزرائے اعظم اور چار صدور کے ساتھ کام کر چکے ہیں، پرویزمشرف نے عشرت العباد کو27 دسمبر 2002ء کو گورنر سندھ تعینات کیا تھا۔ صوبہ میں صدر مملکت کے آئینی نمایندہ کی حیثیت سے وہ لو پروفائل رکھنے والے گورنر کے طور پر عوامی حلقوں میں بے حد مقبول تھے، انھوں نے کئی سماجی اقدامات کیے، منصوبوں کی نگرانی کی، فوجی آپریشنز کے زمانے بھی دیکھے، جلاوطنی اختیار کی، لندن میں سیاسی پناہ بھی لی، وہ متحدہ قومی موومنٹ کے قائد کے انتہائی قریب تھے۔

عشرت العباد نے شہر قائد کو کئی بار بحران کا شکار ہوتے اور پھر زندگی کے نئے سفر پر روانہ ہوتے ہوئے دیکھا اور وفاق و سندھ حکومت کی مدد سے خونریزی، بدامنی اور لاقانونیت کے خاتمہ کی موثر کوششوں میں پولیس، رینجرز اور دیگر اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کیا تاہم مبصرین کے مطابق ان کی سبکدوشی گزشتہ چند ہفتوں کے دوران مختلف سیاسی معاملات پر تنازعات میں الجھنے کا باعث بنی۔

2013ء میں کراچی میں آپریشن کے بعد ایم کیو ایم کے متنازع بیانات سامنے آنے پر انھوں نے الطاف حسین سے لاتعلقی کا اظہار کیا تھا جب کہ گزشتہ ماہ پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین مصطفیٰ کمال نے ان پر سنگین الزامات لگائے۔ عشرت العباد نے بھی ان کا ترکی بہ ترکی جواب دیا، بہرکیف وہ نا خوشگوار باب بند ہوا۔ حسن اتفاق ہے کہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف بھی گزشتہ روز کراچی آئے تھے جنہوں نے کراچی میں ''فوکسڈ'' آپریشن جاری رکھنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت کے ساتھ مل کر کراچی میں مکمل امن بحال کیا جائے۔

البتہ گورنر کی تبدیلی پر بعض سیاسی حلقوں نے عدم مشاورت کا گلہ کیا ہے، مشیر اطلاعات سندھ مولابخش چانڈیو کا کہنا ہے کہ وفاق نے مشاورت نہیں کی جب کہ متحدہ قومی موومنٹ (پاکستان)کی رابطہ کمیٹی نے گورنر سندھ کی تبدیلی کے حوالے سے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایم کیو ایم صوبہ سندھ کی دوسری بڑی سیاسی جماعت ہے اور بہتر ورکنگ ریلیشنز میں یہ مناسب ہوتا کہ گورنر کی تبدیلی کے فیصلے پر صوبے کی دوسری بڑی نمایندہ جماعت کو بھی اعتماد میں لیا جاتا۔ تاہم یہ کہا گیا ہے کہ جسٹس ریٹائرڈ سعید الزماں صدیقی کی بحیثیت گورنر تعیناتی وفاق کا اختیار ہے اور ان کی شخصیت پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔

ادھر گورنر سندھ کا کہنا ہے کہ کراچی کو درپیش مسائل میں سب سے اہم امن و امان کا مسئلہ ہے جسے سب سے پہلے حل کرنا پڑے گا، اس کے بعد سیاسی مسائل کی جانب رخ کرنا پڑے گا۔ امید کی جانی چاہیے کہ شہر قائد کی ماضی کی رونقیں بحال کرنے اور قیام امن کے لیے سیاسی شراکت دار نئے گورنر سے بھرپور تعاون کریں گے تا کہ ملک کا یہ اقتصادی انجن عوام کی ترقی و خوشحالی کی منزل پر پہنچ کر ہی دم لے۔