جہانگیر بدر انتقال کرگئے

جہانگیربدر نے جمہوریت کے لیے جدوجہد میں چاروں فوجی آمریتوں کے خلاف آواز اٹھائی


Editorial November 14, 2016
۔۔ فوٹو: فائل

DASKA: پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما جہانگیر بدر 72 برس کی عمر میں لاہور میں انتقال کرگئے۔ وہ طویل عرصے سے دل اور گردوں کے امراض میں مبتلا تھے، انھیں دل کے دورے کے بعد ڈیفنس کے نجی اسپتال لایا گیا جہاں وہ چل بسے۔ مرحوم کا شمار ذوالفقار علی بھٹو اور شہید بے نظیر بھٹو کے قریبی ساتھیوں میں کیا جاتا ہے، وہ پارٹی کے سیکریٹری جنرل اور وفاقی وزیر بھی رہے۔ پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما جہانگیر بدر 1944 میں اندرون لاہور پیدا ہوئے، طلبا سیاست کا آغاز 1960 میں کیا، 1968 میں ہیلے کالج لاہور کے صدر منتخب ہوئے۔

انھوں نے پنجاب یونیورسٹی سے ایل ایل بی، ایم اے پولیٹیکل سائنس اور ایم کام کی ڈگریاں حاصل کیں۔ 1988 میں لاہور سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے، انھیں بے نظیر بھٹو کے پہلے دور حکومت میں پٹرولیم و قدرتی وسائل، ہاؤسنگ، سائنس اور ٹیکنالوجی کا وفاقی وزیر بھی بنایا گیا تھا۔ 1994 اور 2009 میں دو بار سینیٹر بھی بنے۔ جہانگیربدر نے جمہوریت کے لیے جدوجہد میں چاروں فوجی آمریتوں کے خلاف آواز اٹھائی اور ایوب خان، یحییٰ خان اور ضیاء دور میں گوجرانوالہ، میانوالی اور لاہور میں جیلوں اور قلعے کی قید کاٹی اور کوڑوں کی سزا بھی پائی۔ انھیں جمہوریت کے لیے جدوجہد پر 'فرزند جمہوریت' بھی کیا جاتا ہے۔

جہانگیر بدر کے انتقال پر صدر ممنون حسین، وزیراعظم نواز شریف، شہباز شریف، آصف زرداری، بلاول بھٹو زرداری اور دیگر رہنماؤں نے گہرے دکھ و رنج کا اظہار کیا ہے۔ ان کا انتقال پیپلز پارٹی اور جمہوریت کا بڑا نقصان ہے۔